اقبال ایک آفاقی شاعر

  • ڈاکٹر طاہر مسعود

علامہ اقبالؒ کی شاعری کا ظہور ایسے زمانے میں ہوا جب سرسید جنگ آذادی 1857 میں ناکامی کے بعد مسلمان قوم سرسید کی مساعی اور جدو جہد سے ایک نئے تعلیمی شوعر سے آشانہ ہو چکی تھی ۔ تاہم اس قوم کوانتظار تھا کسی ایسے مرد مومن کو جو اسے اس کی انفرادی شناخت سے بہرہ ور کردے ۔ یہ علامہ اقابل تھے جو مشرقی علوم و ادب کے ساتھ مگربی ادب و فلسفے اور تاریخ کے علم کے جامع تھے۔ ان کی ذات میں دونوں تہذیبوں کے دھارے آکر اس طرح مل جاتے ہین کہ وہ دونوں کے عیوب اور کمزوریوں کے ساتھ ان کے محاسن سے بھی آگاہ نظر آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے آخری مطالعے میں مشرق اور دینی روایات ہی کو اہمیت دیتے اور انسانیت کی نجات بھی اسی میں دیکھتے ہیں۔ وہ جہاں مغرب میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے زیر اثر وجود میں آنے والی تةزیب کو مشینی اور صنعتی قرار دے کر اس میں انسانیت کی ہلاکت کی پیش گوئی کرتے ہیں تو دوسری طر ف مشرقی تہذیب و مذہب میں وہ تصوف اور ویدانت میں بے عملی اور سُکو کی کیفیات کے غلبے کو اپنی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
اقبال ایک عظیم روھ اور عظیم ذہن کے مالک تھے۔ ان کی شاعری میں فلسفہ و تفکر کے عناصر پوری وجدانی، الہامی اور جمالیاتی اسلوب میں ظاہر ہوئے ہیں، اسی میں ان کی شاعرانہ عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری اپنے اندر ایسی انفرادیت لیے ہے جس کی کوئی دوسری مثال ارود شاعری کے قربو جوار میں بھی نہیں ملتی۔ نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد ۔ وہ ہمارے قومی شاعر ہی نہیں ہماری قومی ضرورت بھی ہیں۔ دنیا کے عظیم شعراءمیں شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جس نے اپنی بکھری ہوئی قوم کو قوم بنایا ہو اور اس کے لیے ایک نئی مملکت کا خواب دیکھا ہو۔ اور صرف خواب ہی نہیں اپنے خواب اور اپنی آرزو کو حقیقت مین ڈھالنے کے لئے ایک واضح خاکہ خطبہ الٰہ آباد کی صورت میں پیش کیاہو۔ جو اپنی قوم اور اس کے معتقدات کا مو¿ثر و پُر تاثیر شارح ہو اور ایسا شارح کہ جس نے اپنے قومی امراض کی نشاندہی کے ساتھ ان امراض کا علاج بھی تجویز کیا ہو۔ قوم کو بے عملی اور ذوال وپستی سے نکالنے کے لیے اپنی شاعری کے ذریعے مرد مومن اور خودی کا تصور اس مو¿ثر طریقے سے پیش کیا ہو کہ تصورات قوم کے اندر سرائیت کر گئے ہوں۔ یوں ان کا شمار ایک و¿ذاد وطن کے خالق کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ قومیت شاعروں کے دلوں میں جنم لیتی ہے۔ ہماری قوم اور ہمارا ملک یہ دونوں ہی ان کی فکر اور ان کی شاعریہ عطیہ ہیں۔ قائد اعظم اور حکیم الامت نے جس مرد مومن کا تصور دیا قائد اعظم اسی تصور کا حقیقی جیتا جاگتا وجود ہیں۔
اس طرح علامہ اقبال کا تصور صرف تخیلاتی اور تصوراتی نہین رہتا ، ممکن العمل ہو جاتا ہے۔ ان کا خودی کا تصور بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کے اندر خود داری، اپنی شخصیت کے اثابت اور اپنے عمل و ارادے پر ایمان و ۔۔۔۔ سے عبارت ہے۔
اقبال کی شاعری کا کینوس وسیع اور ان کا وژن اپنے اندر آفاقی وسعت لیے ہے۔ الاہمی ہونے کے باوصف ان کی شاعری میں سرمستی اور وہ جذبہ و شوق ہے کہ اس کی قرات کرنے والا اپنے اندر ایک جوش و ولولہ اپنے اندر پاتا ہے ۔ چاہے ان کی شاعری بچون کے لیے ہو یا بالگون کے لیے۔ ان کا آرٹ زندگی اور اس کی حقیقت سے وابستہ وپیوست ہے۔ اقبال وآرٹ کو زندگی کا آزمودہ و زندگی آمیز دیکھان چاہتے ہیں۔
شاعر کی نَوا ہو کہ مُغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا
اقبال جس طرح اپنی قوم کو با عمل اور کسی مقصد اولیٰ سے جڑا دیکھان چاہتے تھے، اسی طرح ادب و آرٹ سے کو بھی تکمیل انسانیت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری میں جو ” عمل” پُر زور ہے وہ اس لیے ہے کہ اسلامی عقائد میں بھی عمل کا مرتبہ فکر سے کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا ۔ عمل صالح یہ اصرار اسی لیے ہے کہ معاشرے میں اسی سے نجات کی راہیں کھلتی ہیں۔ اقبال کی شاعری کے اساسی تصورات جن اصطلاحوں میں ظاہر ہوتے ہیں وہ فکری سطح پر باہم مربوط ہیں اور ان میں کوئی تناقض نہیں۔
مرد مومن تصور خودی سے متصف ہوتا ہے اور عمل ہی کو جنت اور جہنم کے مترادف سمجھتا ہے۔ اچھے عمل سے اس کی دنیا جنت اور برے عمل سے وہ اپنے لیے جہنم تیار کرتا ہے۔ نطشے کا سُپر مین قہرو جبر کا نمائندہ ہے، اقبال کا مرد مومن جلال کے ساتھ جمال کا بھی مظہر ہے۔

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
دریاو¿ں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
وہ کہتا ہے مرد مومن بیابان سے تُندآندھی میں کر گزرتاہے اور راہ میں گلستان آجائے تو جوئے نغمہ خواہ بن جاتا ہے۔ اس طرح اس کا تصور مرد مومن تکمیل آدمیت کا دوسرا نام ہے۔
حکیم الامت کی شاعری میں فکری ارتقابھی ملتا ہے۔ ایک وقت میں وہ ہمیں جذبہ وطنیت کے پرچاک نظر آتے ہیں لیکن پھر قرآن حکیم کے غائد مطالعے اور تاریخی شعور کی بنا پر وہ وطنیت اور قومیت سے آگے بڑھ کر امت اور امت واحدہ کا تصور پیش کرتے ہیں۔ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو رنگ و نسل سے بلند ہو کر امتزاج و اتحادِ عقیدہ کی بنیاد پر ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا پاتے ہیں اور اس کی تلقین کرتے ہیں کہ رنگ وخوں کے بتوں کو توڑ کر ملت میں گُم ہوجا اور نیل کے ساحل سے تابکاک کاشگر متحد ہوجان ہی انسانیت کا مطمع نطر ہونا ہے۔ وہ انسانیت کا مستقبل بھی اسلامی عقیدے کی قبولیت میں دیکھتے ہیں۔ اور خودمسلمانوں میں بھی ان ہی صفات کے آرذو مند ہیں جو قرون ادنی کے مسلمانوں میں پائی جاتی تھیں۔
کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے فکری، جذباتی اور احساساتی سطح پر اپنے ہم مذہبوں میں یگانگت اور تعلق باہمی کا شعور پید اکیا لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان کے اندر دوسرے مذاہب سے لا تعلقی تھی۔ ان کی شاعری میں ہمیں کرشن اور گرونانک کی تعریف و توصیف بھی ملتی ہے۔ مغربی فلسفی ہیگل، اشتراکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مارکس او انقلابی کامریڈ لینن پر بھی نظمیں ملتی ہیں اور شاعرانہ جذبات کے ساتھ ان پر تنقید بھی۔
اقبال ایک ایسے شاعر ہیں جس کی شاعرانہ وسعتوں میں انفس و آفاق سمائے ہوئے ہیں۔ وہ خدا سے بھی الجھتے ہیں، صوفی کی کیفیت سُکو پر اعتراض بھی کرتے ہیں اور قوت عمل موجود پا کر شیطان کی مدح سے بھی گریذ نہیں کرتے ۔
مثلاً
میں کٹھکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح
تُو فقط اللہ ہُو،اللہ ہُو،اللہ ہُو،
ان کی شاعری میں ہمیں انقلابی قدموں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے جب وہ۔۔۔۔۔ کے درو دیوار ۔۔۔۔ کی ببانگ دہل ترغیب دیتے ہیں یا اس کھیت کو جلا ڈالنے کا اعلان کرتے ہیں جس سے دہقان کو روزی میسر نہ ہو۔ وہ جعلی صوفیوں اور پیروںکا بھی پردہ چاک کرتے ہیں، جب کہتے ہیں:
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

حالانکہ خود اقبال اپنے انداز زیست میں مرد درویش ہیں اور مولانا روم کو اپنا مرشد مانتے ہیں اوران کے عارفانہ کلام کو اپنے لیے باعث فیضان ٹھہراتے ہیں۔
اقبال کی شاعرانہ عظمت کا قیاسی اسی سے کمایا جا سکتا ہے کہ ان کے فکر و فن کی تفہیم کے لیے ” اقبالیات” کو باقاعدہ صنف ِعلم کا درجہ حاصل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقبال کی اہمیت کھلتی جا رہی ہے اور اس کی شعری معنویت پرت در پرت ظاہر ہوتی جاتی ہے۔ انقلاب ایران ہو یا افغانوں کا جہد مسلسل، ان سب کے اسرار کا سراغ ہمیں اقبال کی شاعری میں مل جاتا ہے ۔ ان کی شاعری کے دائرے کی وسعت ایسی ہے کہ اس میں مختلف الخیال حقلے اور مکتب فکر کو اپنی اپنی مرغوب غذا مل جاتی ہے چاہے وہ صوفی ہو یا کمیونسٹ ، انقلابی ہو یا اسلامی ذہن رکھنے والا قومیت کا پر چار ہو یا تہذیب مذہب کا ناقد یا سائنس و ٹیکنالوجی کا پرستار ۔ اسی لیے اگر یہ کہا جائے کہ اقبال کی شاعری آفاقی ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

Scroll To Top