جب یہ نظام دفن ہوگا۔۔۔

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔
میں بات علامتوں میں اس لئے کررہا ہوں کہ ہمارے دین میں علامتوں کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ کعبہ بھی ایک علامت ہے۔ حجرِاسود بھی ایک علامت ہے۔ حج بھی ایک علامت ہے۔ شیطانوں کو کنکریاں مارنا بھی ایک علامت ہے۔ سجدہ ریز ہو کر زمین پر ماتھا ٹیک دینا بھی ایک علامت ہے۔ طواف بھی ایک علامت ہے۔ اور سعی کرنا بھی ایک علامت ہے۔
ہماری یہ علامتیں ہمیں ” غیر اللہ “ کی حاکمیت اور حاکمیتوں پر ایمان رکھنے والی قوم یا قوموں سے الگ کرتی ہیں۔ ہم ایک قوم ہیں۔ ایک جماعت ہیں۔ قرآن حکیم میں بار بار ہماری پہچان اللہ کی جماعت کے طور پر کرائی گئی ہے۔
اور جو ہم میں نہیں۔ اللہ کی جماعت میں نہیں۔ وہ ”دوسری“ قوم ہیں ۔ ”دوسری“ جماعت ہیں۔ اس بات سے ہمارے نزدیک کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دوسری قوم یہود ہے ¾ نصاریٰ ہے یا بت پرست ہے۔ ہمارے لئے ان سب کی پہچان ” دوسری قوم “ کے طور پر ہی ہوگی۔
” دو قومی نظریہ “ بنیادی طور پر اسی کو کہتے ہیں۔
ایک قوم وہ جو صرف اللہ کو معبود مانتی ہے اور جس کا لیڈر محمد کے سوا کوئی نہیں۔
اور دوسری قوم وہ جو ہمارے معبود کو نہیں مانتی اور ہمارے لیڈر سے انکار کرتی ہے۔
ان دو قوموں کے درمیان پہلا معرکہ میدان ِ بدر میں ہوا تھا۔ہمارے لئے نفاذِ انقلاب کی داستان میدان ِ بدر سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اسی میدان میں بلال ؓ پر تازیانے برسانے والے امیہ ّ کا سر اس کے سابق غلام کے ہاتھوں قلم ہوا تھا۔
اصل انقلاب وہی تھا۔اسی انقلاب کی تعریف علامہ اقبال ؒ نے ایک مرتبہ اس شعر کے ذریعے کی کہ۔۔۔
” اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراءکے در ودیوار ہلا دو “
اور دوسری مرتبہ اس شعر کے ذریعے کی

” ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز “
اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان اِسی انقلاب کے لئے بنا تھا تو غلط نہیںہوگا۔
اور یہ انقلاب کسی بھی صورت میں اس نظام کی کوکھ سے جنم نہیں لے سکتا جس نظام کی کوکھ اپنے دور کے ” امیّوں “ ¾ اپنے دور کے” عتبوں“ ¾اپنے دور کے” شیبوں “اور اپنے دور کے ”ولیدوں“ سے بھری ہوئی ہے۔
اس نظام میں عتبہ کی بھی ایک جماعت ہے۔ ولید کی بھی ایک جماعت ہے ¾ امیہ ّ کی بھی ایک جماعت ہے ¾ ابو سفیان کی بھی ایک جماعت ہے۔ ابوجہل کی بھی ایک جماعت ہے اور ابو لہب کی بھی ایک جماعت ہے۔اگر کوئی جماعت نہیں تو محمد کی جماعت نہیں۔
کچھ جماعتیں ایسی ضرور ہیں جو اپنی پہچان ” دینِ اسلام “ سے کراتی ہیں۔ مگر ان کے سردار اتنے سارے کیوں ہیں ۔؟ اگر ہمارا اللہ ایک ہے ¾ ہمارے رسول ایک ہیں ہمارا قرآن ایک ہے اور ہمارا قبلہ ایک ہے تو پھر اتنی ساری جماعتیں کیوں اور اتنے سارے سردار کس لئے۔۔۔؟
جب سے پاکستان بنا ہے ¾ ہم نے آمریت کے نام پر بھی اور جمہوریت کے نام پر بھی ایک ہی نظام دیکھا ہے۔ حاکم و محکوم کا نظام۔
اور یہ تمام لیڈر جو انقلاب کے نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ سب کے سب اسی نظام کو ہی قائم رکھیں گے جس نے انہیں لیڈر بنایا ہے۔
اور ان کے درمیان جو انتخابی معرکہ ہوگا وہ انقلاب لانے کے لئے نہیں ¾ اقتدار میں اپنا حصہ بڑھانے یا حصہ حاصل کرنے کے لئے ہوگا۔
قومیں ہمیشہ اپنی کھیتی کا پھل کاٹا کرتی ہیں۔
ہم امرا¿ شاہی کے نظام میں خدا کی حاکمیت کیسے قائم کریں گے ۔؟ اور کیا ہم امیہّ کے ہاتھ سے تازیانہ چھین کر بلال ؓ کے ہاتھ میں تلوار دے پائیں گے۔؟
اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ انقلاب نہیں آئے گا۔
انقلاب ضرور آئے گا ۔ مگر اِس نظام کے دفنائے جانے کے بعد۔۔۔

Scroll To Top