بابا گرونانک کی سالگرہ :پاکستان کاسکھ یاتریوں کےلئے خصوصی مراعات کا اعلان

  • عالمی برادری نے سکھ زائرین کےلئے پاکستان کی رعایتوں کا خیر مقدم کیا، کرتار پور راہداری کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ کا سامنا کرنا نہیں چاہتے
  • یاترا کیلئے دس ہزار ویزے، دس روز قبل فہرستوں کے تبادلہ اور بیس ڈالر فیس اورپاسپورٹ کی شرط ایک سال تک ختم

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے کرتارپور یاترا کیلئے دس ہزار ویزے، دس روز قبل فہرستوں کے تبادلہ اور بیس ڈالر فیس اورپاسپورٹ کی شرط ایک سال تک ختم کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ کرتار پور میں بابا گرونانک کی زیارت کے لیے بھارت سے پاکستان آنے والے یاتری اسی روز واپس اپنے ملک چلے جائیں گے،پاکستان کرتار پور راہداری کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ کا سامنا کرنا نہیں چاہتا،پاکستان نے مقررہ وقت میں راہداری منصوبہ مکمل کیا جس کا افتتاح 9 نومبر کو کردیا جائےگا،کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدامات اور نئے نقشے صرف اور صرف آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش ہے،ایران کے معاملے میں مفاہمت کا عمل جاری ہے ،امید ہے مثبت نتائج ملیں گے،ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری ہیں امید کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بابا گرونانک کے 550ویں سالگرہ کے موقع پر حکومت پاکستان نے کرتار پور آنے والے سکھ یاتریوں کےلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا ہے۔انہوکںنے کہاکہ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کی جانب سے سکھ زائرین کے لیے اعلان کردہ رعایتوں کا خیر مقدم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یاتریوں کے لیے اعلان کردہ ان تمام مراعات کے بارے میں بھارتی حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کرتار پور میں بابا گرونانک کی زیارت کے لیے بھارت سے پاکستان آنے والے یاتری اسی روز واپس اپنے ملک چلے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ اس وقت یاتریوں کی متوقع تعداد 5 ہزار ہے ، امید ہے کہ اسے سے زیادہ تعداد میں زائرین اذئیں گے۔انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں نے بھی ہزاروں سکھوں کو گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ویزے جاری کیے ہیں یوں جاری کردہ ویزوں کی تعدد 10 ہزار ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ خصوصی شرکت کے لیے نوجوت سندھو کو ویزا جاری کردیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کرتار پور راہداری کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ کا سامنا کرنا نہیں چاہتا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت مذہبی سیاحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس سے عام طرز کی سیاحت کو بھی فائدہ پہنچے گا ، حکومت مستقبل میں اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کے پر عزم ہے۔کرتار پور راہداری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان نے خصوصی طور پر کرتارپور آنے والے یاتریوں کےلئے پیکج تشکیل دیا ہے جس میں سکھ زائرین کے لیے ایک سال کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کردی گئی ہےخپاکستان آنے والے زائرین کی فہرست 10 روز قبل فراہم کرنے اور 20 ڈالر کی سروس فیس میں 9 تا 12 نومبر تک کےلئے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ پاکستان نے مقررہ وقت میں راہداری منصوبہ مکمل کیا جس کا افتتاح 9 نومبر کو کردیا جائے گا۔بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وادی میں اب بھی بھارتی افواج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے ،98 روز گزرنے کے باجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاو¿ن نہیں ہٹایا گیا۔انہوں نے امریکی سب کمیٹی برائے جنوبی ایشیا کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدامات اور نئے نقشے صرف اور صرف آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش ہے اور پاکستان ان سیاسی نقشوں کو مسترد کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارتی حکومت پوری طرح ہندو توا نظریہ پر عمل پیرا ہے۔افغانستان میں پاکستانی سفارتکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کابل میں سفارتخانے کے عملے کو ہراساں کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سفارتکاروں کی گاڑیوں کو سڑکوں پر روک کر ہراساں کیا جاتا ہے جس پر پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر افغان حکومت سے احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی سفارتکاروں کی سیکیورٹی بہتر بنائے۔سعودی عرب اور ایران کے معاملات میں پائی جانے والی کشیدگی کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے معاملے میں مفاہمت کا عمل جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ مثبت نتائج ملیں گے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری ہیں امید کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔ یمن میں جاری تنازع کے حل کے لیے سعودی عرب اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں موجود تناو¿ اور کشیدگی میں کمی آئے گی۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ افغان حکومت سے سفارتی اہلکاروں کو ہراساں کر نے کے معاملہ پر کابل اور اسلام آباد میں احتجاج کیا ہے،افغان حکومت پاکستانی سفارتکاروں کی سیکیورٹی یقینی بنائے۔ ترک صدر کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کو حتمی شکل دینے کے لئے کام ہو رہا ہے،ترک صدر جلد پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔

Scroll To Top