کھیل ختم پیسہ ہضم! مُک گیا تیر کھیڈ”مال لانا“ صیب

منافقت اور رزالت کا کھلواڑ ہر سطح اور درجے پر جاری ہے۔
جب تنقید ہوتی ہے تو ٹیپ کا ایک جملہ دہرا دیا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔
کوئی وعدہ، کوئی دعویٰ یاد کرایا جائے تو سینہ پھلا کر کہہ دیا جاتا ہے کہ وعدہ کوئی قرآن حدیث تو نہیں کہ ان پر لازمی عمل بھی کیا جائے۔وغیرہ وغیرہ
اس ابتدائی بیانیے کی روشنی میں آپ پاکستان کی تین اپوزیشن جماعتون کے قول و فعل کا جائزہ لیں تو آپ پر ان جماعتون اور ان کی قیادتوں کے قول و فعل میں رچی بچی منافقت اور رزالت پورے طور پر عیاں ہو جائے گی۔
پی پی پی اور نون لیگ کی قیادتیں ان دنوں کا نون مکافات عمل کی کڑی احتسابی چکی میں پس رہی ہیں اور انہیں کسی نہ کسی طور اس چکی کے پاٹوں سے نکالتے کی عجلت ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہ ہیں۔ ان میں جہاں فائیو سٹار سہولتوں کے باوجود جیل کی چار دیواری ذہنی اوسان کی خستگی کا سبب بن رہی ہے ، وہاں طویل قید اور پارٹی ارکان سے دوری کے سبب سے طرح طرھ کی چہ گلوئیاں پھیل رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ نواز ہو یا زرداری اب وہ مستقبل قریب میں باہر نہیں آسکیں گے اور اگر بوجوہ پی بارگیننگ کے ذریعے وہ اپنی رہائی کا پروانہ حاصل کر بھی لیتے ہیں تو2001کی طرح وہ ایک بار پھر اپنی پارٹی سے بے وفائی کرتے وہئے ملک سے ارنچھو ہو جائیں گے۔ سو یہ ہیں وہ حالات جنہون نے نون لیگ اور زرداری لیگ کے گرگوں اور کارکنوں کو اپنی اپنی قیادت سے بدظن کرنا شروع کر دیا ہے۔ اور تو اور اب تو وہ دہاڑی دار جو دو سے پانچ ہزار روپے روزانہ کی اجرت پر مریم یا دوسرے نونیوں کی گاڑیوں کے آگے بھنگڑے ڈالا کرتے تھے وہ بھی ”مزدوری“ نہ ملنے سے بد دل ہو کر منظر سے غائب ہو سکتے ہیں۔ سو کیا زرداری اور کیا نواز ان کے بے پایاں خواہش ہے کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے جیل سے باہر نکل جائیں۔
مگر کیا کیجئے کہ زمانہ حکومت اب عمران خان کے ہاتھوں میں ہے اور وہ کسی رو لحاظ کے بغیر ہر کرپٹ بطور خاص زرداری و نواز کو تو ان کی کرپشن کی پاداش میں کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لے گا۔
اس صورت حال سے بچنے کے لئے نون و پی پی پی کی قیادتوں نے کمال بونے پن کا مظاہر کیا۔ پر مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق انہوں نے ”رینٹ اے ریلی“ والے سیاسی بروکر ”مال لانا“ صیب کی خدمات حاصل کیں۔ ملا کی طرف (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر54
سے 50کروڑ بطور اخراجات طلب کئے مگر معاملہ 5کروڑ پر طے ہوا اور وہ بھی اس طرح کہ رقم داماد صفدر کے ہاتھوں خرچ ہوگی۔ ملا نے بادل نخواستہ اسے تسلیم کر لیا۔ مگر اس دوران ملکی سطح پر ایسے حالات و واقعات رونما ہوتے چلے گئے کہ ملا فضلو کو اپنے موقف میں سختی کا ناٹک کھیلے بغیر کوئی متبادل راستہ دکھائی نہ دیا۔ اسی دوران ملا نے کے پی کے اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں عمران حکومت کے خلاف مذیبی کارڈ بے دریغ طریقے سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مثلاً لوگوں کو دس سے پانچ سو روپے چندے کے عوض جنت میں بجھوانے کی ضمانت دی گئی ہے۔اسی طرح مختلف مقامات پر کہا گیا ہے ملا کی حمائت کردار جنت خرید لو۔ پھر ختم نبوت اور تحفظ ختم رسالت اسی طرح کہا جاتاہے جمعیت کے قائدین کی طرف سے حکومت اور ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے اشارے بھی ملے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جوئی نے مختلف تاجروں اور کاروباری حضرات سے صدقے زکوٰة کے نام پر بھاری عطیات جمع کئے ہیں۔ جنہیں ملا فضلو سیاسی رنگ بازی کے لئے استعمال کر رہا ۔
اب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ملا کو لانگ مارچ ناٹک پر لگانے والے دونوں فنانسر پس پشت بیٹھے ہیں ۔ جبکہ ملا گرم پانیوں میں بری طرح پھس کر رہ گیا ہے
دوسری طرف ملا فضلو ہی کے کچھ ہمدرد حلقوں نے اسے مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی بچی کچھی ”ساکھ “ بچانے کے لئے فرار کا کوئی ”باعزت“ راستہ تلاش کرنے کا جتن کرلے۔ ۔ چنانچہ پچھلے روز ملا فضلو نے یکبارگی پسپائی کا ایک پینترا بدلا وزیر اعظم کی گرفتاری کی دھمکی اور ڈی چوک جانے کا الٹی میٹم بھی واپس لے لیا۔ اور اس پسپائی کی تعبیر یہ پیش کی اب یہ دھرنا اسلام آباد سے نکل کر پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ گویا کھیل ختم پیسہ ہضم!

Scroll To Top