نظریہ ءپاکستان عالم ِ وجود میں کب آیا ؟ میاں نوازشریف نے نظریہءپاکستان سے انحراف کیوں کیا ؟

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔
گزشتہ دنوں بھارت اور اس کے مغربی سرپرستوں کے سرمائے سے چلنے اور پھلنے پھولنے والی سیفما کے ایک سیمینار میں میاںنوازشریف نے اپنے میزبانوں کی نظروں میں سرخروئی حاصل کرنے کے لئے کہہ دیا کہ۔ ” خط ِ تقسیم کے اِس طرف بھی اسی خدا کی عبادت ہوتی ہے ¾ اور خطِ تقسیم کے اُس طرف بھی اسی خدا کو پوجاجاتا ہے ¾پھردونوں طر ف کے عوام کیوں نہ اپنی اجتماعی خوشحالی اور بہتری کے لئے ایک دوسرے کی طرف تعاون اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ؟“
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ سیفما جنوبی ایشیاءکے ممالک کے صحافیوں کی تنظیم ہے جس کا مشن خطے کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب تر لانا ہے۔ آسان الفاظ میں اس مشن کا مطلب یہ ہے کہ ایسی فضاءقائم کی جائے کہ پاکستان اور بھارت کے عوام تنازعہ کشمیر سے پیدا ہونے والی تلخیاں فراموش کرکے ” ہماری ثقافت ایک ہے “ کا نعرہ لگاتے ہوئے دیوانہ وار ایک دوسرے کی طرف بڑھیں اور بغلگیر ہوجائیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی فضا صرف اس صورت میں قائم ہوسکتی ہے کہ جس ” تنازعہ “ نے تلخیاںپیدا کررکھی ہیں اس کو ذہنوں سے نکال کر تاریخ کے کباڑخانے میں پھینک دیا جائے۔ مراد یہاں واضح طور پر ” کشمیر “ ہے۔ وہ کشمیر جسے بانی ءپاکستان قائداعظم ؒ نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔
میاں نوازشریف نے سیفما کے سیمینار میں جو تقریر کی اس کا مفہوم شاید وہ خود سمجھ نہیں پائے تھے ورنہ وہ قائداعظم ؒ کی مسلم لیگ کے وارث ہونے کی بناءپر کشمیر سے بالواسطہ دستبرداری اور ” دو قومی نظریہ “ سے کھلم کھلا انحراف کی جسارت نہ کرتے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ان کا مقصد متذکرہ سیمینار میں شریک ہونے والے بھارتی مہمانوں کی ” دلجوئی “ کرنا تھا تو بھی قائداعظم ؒ کی قائم کردہ جماعت کا ” دو قومی نظریے “ سے دل برداشتگی کا اظہار کرنا ان لوگوں کے لئے کیسے قابلِ قبول ہوسکتا ہے جنہوں نے اپنے عہدِ طفولیت میں ” لے کر رہیں گے پاکستان “ کے نعرے لگائے تھے اور جو یہ عزمِ صمیم اپنے سینوں کے ساتھ لگا کر جواں ہوئے کہ اپنی زندگی ” دو قومی نظریہ “ کی حفاظت کے لئے وقف کردیں گے۔؟
اگر ” رام“ اور ” رحیم “ کو ایک سمجھنے والی سوچ کی ترجمانی سیفما کے سیمینار میں میاں نوازشریف کی بجائے صدر زرداری نے کی ہوتی تو نوائے وقت گروپ کے سربراہ اور نظریہ ءپاکستان فورم کے چیئرمین مجید نظامی کے جوابی بیان میں اتنی تلخی نہ ہوتی۔ نظامی صاحب کو واشگاف الفاظ میں یہ کہنا پڑا کہ نظریہءپاکستان ” رام اور رحیم“ کو ایک سمجھنے والی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا او ر میاں صاحب کو ” ہدایت “ اور ” عقلِ سلیم “ حاصل کرنے کی بڑی شدت سے ضرورت ہے۔
بات یہاں پھر ” نظریہ ءپاکستان “ اور ” دو قومی نظریہ “ پر آگئی ہے ۔ اور آج میں بڑی شدت کے ساتھ ایک ایسی بات کہنے کی ضرورت محسوس کررہا ہوں جو کھل کر پہلے کبھی نہیں کہی گئی۔
ہم رسمی طور پر )اور ” سرکاری “ ریکارڈ کی خاطر (علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کو نظریہ ءپاکستان اور ” دو قومی نظریہ “ کے خالق قرار دیتے ہیں۔ یقینا دونوں اکابرین نظریہ ءپاکستان اور دو قومی نظریہ کے نقیب اور پرچم بردار تھے اور جس جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا وہ ان دونوں رجالِ عظیم کی ولولہ آفریں فکر کی ہی مرہونِ منت تھی۔ مگر دو قومی نظریہ کی تخلیق بیسویں عیسوی صدی میں نہیں ساتویں عیسوی صدی میں ہوئی تھی۔ میں یہاں اس رات کا ذکر کر وں گا جب مکہ کے قرب و جوار کے ایک پہاڑی سلسلے کے دامن میں آنحضرت اور یثرب سے آنے والے ایک وفد کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جسے میثاق ِمدینہ کہا جاتا ہے۔ یہی وہ تاریخی معاہدہ تھاجس کے نتیجے میں مکہ سے مدینہ تک کا وہ تاریخی سفر کیا گیا جسے ہجرت کہا جاتا ہے ¾ جس سے مسلمانوں کا کیلنڈر منسوب ہے اور جس کی بدولت تاریخِ عالم میں پہلی بار ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ وہ اسلامی ریاست جس نے دنیا کی تاریخ تبدیل کرکے رکھ دی۔
میرا موقف یہ ہے کہ جس نظریہ نے ریاستِ مدینہ کو جنم دیا ¾ وہی نظریہ صدیوں کا فاصلہ طے کرنے کے بعد قیامِ پاکستان کا باعث بنا۔ گویا نظریہ ءپاکستان کے حقیقی خالق سرور کائنات پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ تھے۔ جو دانشور ” نظریہ ءپاکستان “ کی تشریح قائداعظم ؒ کی اس تقریر کے حوالے سے کرتے ہیں جو انہوں نے 11اگست 1947ءکو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں کی ¾ انہیں میں یہ بتانا چاہوں گا کہ قائداعظم ؒ نے اس تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جو میثاقِ مدینہ میں موجود نہیں تھی اور جو ریاست ِمدینہ کے آئین کا حصہ نہیں تھی ۔ میثاقِ مدینہ پر جن بارہ سرداروں کے دستخط تھے ان میں سات سرداروں نے معاہدے کے عمل میں آتے وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن سب نے اس معاہدے کی رو سے حلف لیا تھاکہ وہ پیغمبرِ اسلام کی اطاعت کریں گے اور محمد کے خدا کی حاکمیت کے تصور سے انحراف نہیں کریں گے۔۔۔)جاری ہے (۔۔۔

Scroll To Top