جے یو آئی (ف) کا احتجاج اور دھرنا بین الاقوامی سازش ہے، عمران خان

  • ریاست پہلے سیاست بعد میں، کسی صورت ریاست کو کمزور نہیں پڑنے دیں گے، پاکستان کا استحکام اداروں کے ساتھ وابستہ ہے،حکومت کسی ڈیل کا حصہ نہیں، کرپشن کیسز پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیر اعظم
  • فوج غیر جانبدار ادارہ ہے،سپاہ ہمیشہ منتخب حکومتوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے،عوام نے 5 سال کا مینڈیٹ دیا ہے، وزیراعظم استعفیٰ کیوں دیں،پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کا پارلیمانی پارٹی اجلاس ، وزیراعظم پر اعتماد کی قرار داد منظور

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وزیراعظم نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کو بین الاقوامی سازش قرار دے دیا، عمران خان کا کہنا ہے کہ مارچ والوں کو جمہوری راستہ دیا، اپوزیشن ٹف ٹائم دے گی تو حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم عمران خان اور مذاکراتی کمیٹی پر اعتماد کی قرار دادی منظور کی گئیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آزادی مارچ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے آزادی مارچ والوں کو جمہوری طریقہ سے راستہ دیا، دھرنے کے شرکائ جتنی دیر مرضی بیٹھے رہیں، کوئی اعتراض نہیں۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ اپوزیشن ٹف ٹائم دے گی تو حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی، اپوزیشن کے بیانیے کا بھرپور سیاسی مقابلہ کیا جائے گا، وزراء اور ارکان پارلیمنٹ اجلاسوں میں بھرپور شرکت کریں۔اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے آزادی مارچ سے متعلق پارلیمانی پارٹی کو بریفنگ دی۔ ارکان پارلیمنٹ کا مو¿قف ہے کہ عوام نے 5 سال کا مینڈیٹ دیا ہے، وزیراعظم استعفیٰ کیوں دیں، موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیراعظم پر اعتماد کی قرار داد منظور کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، اپوزیشن کے کسی بھی غیرجمہوری اور غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتے ہیں، فوج غیر جانبدار ادارہ ہے، فوج ہمیشہ منتخب حکومتوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ کو مضبوط بنائیں گے، کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، حکومت سہاروں سے نہیں عوام کے ووٹ سے آئی ہے۔ قرار داد میں مذاکراتی کمیٹی پر بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔دوران اجلاس تحریک انصاف کے ارکان نے ڈیل سے متعلق سوالات کئے، جس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کسی ڈیل کا حصہ نہیں، کرپشن کیسز پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہمارا واضح بیانیہ ہے کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا، پارٹی اراکین حکومتی بیانیے کو مو¿ثر انداز میں عوام تک پہنچائیں۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ریاست پہلے سیاست بعد میں آتی ہے، کسی صورت ریاست کو کمزور نہیں پڑنے دیں گے۔وہ پاکستان تحریک انصاف رہنما ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات کے دوران بات چیت کررہے تھے جس کے دوران ملکی تازہ سیاسی صورت حال سمیت آئینی اور قانون امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب پر یکساں اطلاق ہو گا۔ اپنا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک سب جگہ خود پیش ہوا ہوں۔انہوں نے ملکی اداروں کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا استحکام اداروں کے ساتھ وابستہ ہے۔اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ مولانا کے دھرنے کی اصل وجہ معیشت میں بہتری ہے اور یہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشروط اجازت صرف مارچ کے لیے تھی، دھرنے کے لیے نہیں، مولانا کے مارچ کے باعث کشمیر کاز منظر عام سے غائب ہو گیا۔بابر اعوان نے کرتار پور راہداری کی بروقت تکمیل پر وزیراعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہو گا۔بابر اعوان نے کہاکہ مولانا کا دھرنا اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے، مشروط اجازت صرف مارچ کیلئے تھی دھرنے کے لئے نہیں، مولانا کے مارچ کے باعث کشمیر کاز منظر عام سے غائب ہوگیا۔بابراعوان نے کرتار پور راہداری کی بروقت تکمیل پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ عمران خان نے بتایا کہ معاشی استحکام کیلئے کی جانے والی کوششیں رنگ لا رہی ہیں، کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں 32 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارے میں کمی اور برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے، مزید اقدامات جاری ہیں، چند ماہ میں مزید بہتری آئے گی۔

Scroll To Top