مولانا کشمکش کا شکار: پی پی پی اور ن لیگ نے اتحاد چھوڑنے کی دھمکی دیدی

  • پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے بیک ڈور رابطے کام کر گئے ہیں، مولانا کا مہم جویانہ موڈ دیکھ کر دونوں بڑی جماعتوں نے ساتھ نہ دینے کا عندیہ دیدیا،حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے رابطے میں ہیں
  • دونوں جماعتوں نے فضل الرحمان کو صاف جواب دے دیا کہ اتحاد جلسے تک تھا، مزید اقدام کے لیے قیادت سے مشاورت ہوگی،دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا کو مہم جوئی سے باز رہنے اور پر امن طور پر واپس جانے کا مشورہ بھی دیا، دوئغ


اسلام آباد(الاخبار نیوز)وفاقی دارالحکومت میں رہبر کمیٹی کی مشاورت اور رابطے جاری ہیں، ذرایع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے بیک ڈور رابطے کام کر گئے ہیں، مولانا کا مہم جویانہ موڈ دیکھ کر دونوں بڑی جماعتوں نے اتحاد چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔ذرایع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے رابطے میں رہے، صادق سنجرانی نے اپوزیشن کی جماعتوں کو تعاون کی درخواست کی، جس کے بعد پی پی اور ن لیگ نے مولانا کو اتحاد چھوڑنے کی دھمکی دی، کہا جا رہا ہے کہ مولانا کو اتحادیوں نے نا امید کر دیا ہے۔ذرایع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے فضل الرحمان کو صاف جواب دے دیا کہ اتحاد جلسے تک تھا، مزید اقدام کے لیے قیادت سے مشاورت ہوگی، دونوں جماعتوں نے مولانا کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے اور پر امن طور پر واپس جانے کا مشورہ بھی دیا۔ذرایع کے مطابق اپوزیشن نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ احتجاج کو تحریک میں بھی بدلا جا سکتا ہے، جیل بھرو تحریک، استعفوں اور ملک گیر احتجاج کے آپشن بھی زیر غور ا?ئے، دونوں بڑی جماعتیں رہبر کمیٹی برقرار رکھنے پر مشکل سے رضا مند ہوئیں۔ذرایع کا یہ بھی کہنا ہے کہ 20 نومبر کو ملک گیر شٹر ڈاو?ن اور بڑی شاہراہیں بلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رہبر کمیٹی اجلاس میں ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر احتجاج کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے وزیر اعظم کی گرفتاری کے بیان پر مولانا فضل الرحمان کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مولانا نے اداروں کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی، جس پر وزیر اعظم نے واضح مو?قف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کا دفاع سیاست سے بالاتر ہو کر کریں گے۔

You might also like More from author