ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی قانون حرکت میں آئےگا، وفاقی حکومت

  • اسلام آباد کے اندر 81 ممالک کے سفارتخانے اور سات ہزار سفارتکار ہیں،انکی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے
  • سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے میں کوئی عار نہیں، 2014 کا دھرنا قانون کی حکمرانی کےلئے تھا ، وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور فردوس عاشق اعوان کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے ایک بارپھر اپوزیشن کے وزیراعظم کے ا ستعفیٰ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مولانا کے مارچ میں جب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی قانون حرکت میں آئےگا،اگر تصادم ہوگا تو اگلا وزیراعظم عمران خان ہوگا،اسلام آباد کے اندر 81 ممالک کے سفارتخانے اور سات ہزار سفارتکار موجود ہیں،سفارتخانوں اور سفارتکاروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے،ہمیں سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے میں کوئی عار نہیں، 2014 کا دھرنا قانون کی حکمرانی کےلئے تھا ،یہ مارچ کرپشن کو تحفظ دینے کےلئے ہے،پہلے بھی مولانا پر حملے ہوئے ،اب بھی مولانا پر حملے کا کہا جا رہا ہے ، مارچ کے شرکاءکو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی ،ہم جمہوری لوگ ہیں ،مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ اور معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ اسلام آباد کے اندر 81 ممالک کے سفارتخانے اور سات ہزار سفارتکار موجود ہیں،سفارتخانوں اور سفارتکاروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے مارچ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سات ہزار سفارتکاروں کے ذریعے پاکستان کا چہرہ دنیا تک پہنچتا ہے،میریٹ بم دھماکہ کے بعد پاکستان کو نان فیملی اسٹیشن قرار دے دیا گیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اسی سال اسلام آباد کو سفارتکاروں کےلئے فیملی سٹیشن قرار دلوانے میں کامیاب ہوا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے میں کوئی عار نہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے مولانا کے پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں اجازت دی ہے۔ انہوںنے کہاکہ وہ کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے پاکستان کی سلامتی اور دنیا میں پاکستان کا وقار مجروح ہو۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہاکہ اسلام آباد میں پہلے بھی مارچ ہوتے رہے ہیں،اسلام آباد میں ہونے والے مارچ کی پوری فہرست تیار کی ہے ،یہ مارچ سکندر مرزا کے زمانے سے شروع ہوئے ۔ انہوںنے کہاکہ قاضی حسین احمد کے مارچ کو نہ آنے دیا گیا اور اس میں جانی نقصان ہوا ،اسلام آباد میں ایک بار سپریم کورٹ پر یلغار ہوئی،عوامی تحریک ، تحریک انصاف اور تحریک لبیک نے اسلام آباد میں مارچ اور یلغار کیے۔ انہوںنے کہاکہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے مذاکرات میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈی چوک جانا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے آگاہ کیا کہ ڈی چوک نہیں پریڈ گراﺅنڈ جائیں ،اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے پشاور گراﺅنڈ مانگا جس سے حکومت سے جذبہ خیرسگالی کے تحت اتفاق کیا۔انہوںنے کہاکہ ڈی سی اسلام آباد اور جے یو آئی میں معاہدہ پر دستخط ہونے کے بعد ایک 37 نکاتی ضابطہ اخلاق پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ حکومت نے مولانا سے ان کے مارچ کو نہ روکنے کا وعدہ کیا تھا جو پورا کیا۔ انہوںنے کہاکہ چار دن کے مارچ میں مختلف صوبوں سے پچیس ہزار لوگ گوجر خان پہنچ چکی ہے،حکومت نے مارچ کے شرکاءکو سہولیات فراہم کی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے کنٹینر کا روٹ الگ رکھا ہے تاکہ اس کو جھٹکا لگنے سے کمانی نہ ٹوٹے۔ انہوںنے کہاکہ دعا گو ہیں کہ مارچ کے شرکاءخیر خیریت سے یہاں پہنچ جائیں ،مارچ کے شرکاءکو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم دھرنے کے شرکاءکو آرام دہ رکھنے کےلئے ہرممکن کوششیں کررہے ہیں ہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ مارچ کے شرکاءایسے ہی محسوس کریں گے جیسے پی سی میں ٹھہرے ہیں۔انہوںنے کہاکہ
مولانا فضل الرحمان پر پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حملے ہوچکے ہیں ،مولانا کو معلوم ہے کہ وہ حملے کس نے کیے ،اب بھی مولانا پر حملے کا کہا جا رہا ہے ، انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ مارچ اے ایسا کچھ ہو جس سے امن و امان خراب ہو ،دعا کریں کہ کسی کی جان و مال کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوںنے کہاکہ میں دھرنے کو انتظامی نہیں سیاسی طریقے سے ڈیل کروں گاانہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے ٹرین حادثے کی تحقیقات کی ہدایات کردی ہیں،حادثے میں ستر افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایک سوال پر معاون خصوصی نے کہاکہ وزیرریلوے حادثے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ اس مارچ کا 2014 کے دھرنے سے موازنہ نہیں،وہ دھرنا قانون کی حکمرانی کے لیے تھا اور یہ مارچ کرپشن کو تحفظ دینے کےلئے ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیرِداخلہ مارچ کے شرکاءکے استقبال کےلئے بے چین اور اداس ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر کوئی پکڑنے والا کام کرے گا تو پکڑ لیں گے۔ ایک سوا ل پر انہوںنے کہاکہ میرے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ میرے بہت اچھے تعلقات ہیں ،مولانا کے آتے ہی ان سے پوچھوں گا کہ وہ کب تک ٹھہریں گے ،آپ ان سے پوچھیں وہ کیوں آرہے ہیں ۔ انہوںنے واضح کیا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صحافی نے سوال کیاکہ آپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ آپ گھبرائے ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ میں کیا ایسا کروں جس سے معلوم ہوگا کہ میں گھبرایا ہوا نہیں ہوں،کیا میں ڈانس کرنا شروع کردوں،یہ بنانا ریپبلک نہیں ،میں اچھے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتا ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ کون گھبرایا ہوا ہے ؟ جو ڈر گیا وہ مرگیا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے نوازشریف کی صحت سے متعلق بیانات سے منع کیا ہے ،نوازشریف کا نام ای سی ایل پر ہے ،سیاست اور احتساب ایک طرف ہے جبکہ صحت اور زندگی ایک طرف ہے،اللہ تعالی سب کو صحت اور زندگی دے ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ اگر تصادم ہوگا تو اگلا وزیراعظم عمران خان ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ یہ آزادی مارچ نہیں مولانا کا مارچ نہیں ہے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ مولانا کے مارچ میں جب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی قانون حرکت میں آئے گا

You might also like More from author