مقبوضہ کشمیر کی تقسیم، بھارتی قوانین نافذ،لداخ اورسری نگر میں گورنرز تعینات

  • کشیدگی کے تناظر میںہوائی اڈوں اورریلوے اسٹیشنز پرہائی الرٹ جاری ، وادی میں دفعہ144کا نفاذ
  • پاکستان نے بھارتی ایجنڈا مسترد کر دیا،مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنا یو این قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، ترجمان دفتر خارجہ

سری نگر(این این آئی) مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں ریاست کو دوحصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں باضابطہ طور پرتقسیم کر دیا گیا ،بھارت نے جموں و کشمیر کے لیے گریش چندر اور لداخ کیلیے آر کے ماتھر کو گورنر تعینات کردیا۔نئے قوانین کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ادھرمودی سرکار نے کشیدگی کے تناظر میں ہوائی اڈوں اورریلوے اسٹیشنز پرہائی الرٹ جاری کردیا ہے اور وادی میں دفعہ144کا نفاذ بھی کردیاگیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مودی سرکار 5 اگست کے سیاہ فیصلے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی قوانین نافذ کر دیئے گئے ۔ نئے قوانین کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ بھارت نے جموں و کشمیر کے لیے گریش چندر اور لداخ کیلیے آر کے ماتھر کو گورنر تعینات کردیا۔ادھر مودی سرکار نے کشیدگی کے تناظر میں ہوائی اڈوں اورریلوے اسٹیشنز پرہائی الرٹ جاری کردیا ہے اور وادی میں دفعہ144کا نفاذ بھی کردیاگیا۔واضح رہے کہ 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 87 روز سے فوجی محاصرہ ہے اور مواصلاتی ذرائع بھی معطل ہیں۔اس موقع پر سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر کے کئی حصوں میں نظام زندگی معطل رہی۔اکتیس اکتوبر کو بھارتی فیصلے پر عمل در آمد شروع ہونے کے موقع پر کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر میں سڑکیں وغیرہ خالی دکھائی دیں۔ مقامی افراد نے احتجاجا دکانیں بھی بند رکھی ہوئی ہیں۔ کسی ممکنہ نا خوشگور واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات ہے۔ تاہم سری نگر سے پتھرا کرنے کے بیس واقعات کی رپورٹیں موصول ہوئیں۔دکانیں اور دفاتر جمعرات کو بند رہے اور سڑکیں تقریبا ویران تھیں۔بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس پیش رفت پر کہاکہ جموں و کشمیر کے انضمام کا ادھورا خواب آج پورا ہو گیا ہے۔کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتی حکومت کو کشمیریوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے ہوں گے قبل اس کے کہ کشمیری عوام خود کو مزید تنہا محسوس کریں۔ ادھر پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کا بھارتی ایجنڈا مسترد کر دیا، دفتر خارجہ کا کہنا ہے وادی کو دو حصوں میں بانٹنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو بھارت کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا کالا قانون لاگو کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کو مسترد کر دیا ہے، مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنا یو این قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی متنازعہ علاقہ ہے، بھارت کا کوئی بھی اقدام اسے تبدیل نہیں کر سکتا، بی بی سی کا کہنا ہے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا ا?ر ایس ایس اور بی جے پی کا ابتدائی ایجنڈا تھا۔انھوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت، خواتین اور بچوں کو حراست میں رکھا گیا ہے، 80 لاکھ کشمیریوں کو دنیا سے الگ کرنے کے لیے مواصلات کو ختم کیا گیا، ابھی تک کرفیو کے باعث عام ا?دمی کی نقل و حرکت پر پابندی ہے، قابض فوج کی جانب سے خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پاکستان کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سپورٹ جاری رکھے گا۔ترجمان نے مزید کہا کہ کشمیری عوام مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو تسلیم نہیں کریں گے۔

Scroll To Top