اپنی زندگی کی گارنٹی نہیں ،نوازشریف کی کیسے دوں؟ عمران خان

  • حکومت کی کامیابی کے خوف سے آزادی مارچ والے استعفیٰ مانگ رہے ہیں،جتنی بلیک میلنگ کرلیں، جب تک زندہ ہوں، این آر او نہیں دوں گا، کہا تھا ایک وقت آئےگا جب سب کرپٹ ایک ہوجائیں گے
  • دین میں اللہ نے کہا ہے زندگی موت اس کے ہاتھ ہے، انسان کوشش کرسکتا ہے، ہم نے نوازشریف کو بہترین طبی سہولیات دیں، کراچی سے ڈاکٹر لائے او شوکت خانم کے سی ای او کو خاص طور پر بھیجا،بابا گورونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب

ننکانہ صاحب(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپوزیشن پر واضح کیا ہے کہ جتنی بلیک میلنگ کر لیں ، جب تک زندہ ہوں این آر او نہیں دو نگا ،پہلے کہا تھا ایک وقت آئےگا جب سب کرپٹ ایک ہوجائیں گے، نواز شریف کو بہترین طلبی سہولیات دیں ،میں اپنی زندگی کی گارنٹی کل تک نہیں دے سکتا تونوازشریف کی کی کیسے دوں؟آزادی مارچ کا مقصد حکومت کو فیل کرنا نہیں ،مخالفین کو ڈر ہے کہ حکومت کامیاب ہورہی ہے، مخالفین کہتے ہیں ہندوستان کشمیر پر جو انتہا کا ظلم کررہا ہے تو آپ نے کرتارپور کا کوریڈو کیوں کھولا ہے؟ کرتارپور سکھ برادری کا مدینہ ہے اور ننکانہ صاحب ان کا مکہ ہے،تاجروں سے کہتا ہوں کہ کوئی ملک ٹیکس کے بغیر نہیں چلتا، تاجروں نے ٹیکس نیٹ میں آنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، ملک اب تیزی سے ترقی کی جانب بڑھے گا۔ پیر کو بابا گورونانک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مخالفین کہتے ہیں ہندوستان کشمیر پر جو انتہا کا ظلم کررہا ہے تو آپ نے کرتارپور کا کوریڈو کیوں کھولا ہے، کرتارپور سکھ برادری کا مدینہ ہے اور ننکانہ صاحب ان کا مکہ ہے، چاہے ہمارے جتنے بھی تعلقات خراب ہوں، یہ لوگ گورو نانک سے عشق کرتے ہیں ہمیں کبھی انہیں نہیں روکنا چاہیے کیونکہ اگر سعودی عرب کی کسی بھی مسلمان ملک سے مخالفت ہے لیکن وہ انہیں مکہ مدینہ آنے سے نہیں روکتے۔ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خبر پڑھی کہ عدالت نے صوبائی اور وفاق حکومت سے پوچھا کہ کیا آپ نوازشریف کی زندگی کی گارنٹی دے سکتے ہیں، میں تو اپنی زندگی کی گارنٹی کل تک نہیں دے سکتا تو اور کسی کی کیسے دوں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دین میں اللہ نے کہا ہے زندگی موت اس کے ہاتھ ہے، انسان کوشش کرسکتا ہے، ہم نے نوازشریف کو بہترین طبی سہولیات دیں، کراچی سے ڈاکٹر لائے او شوکت خانم کے سی ای او کو خاص طور پر بھیجا، ہم صرف کوشش کرسکتے ہیں، گارنٹی انسان زندگی موت کی نہیں دے سکتا۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے نبیؓنے کہا کہ اگرمیری بیٹی بھی جرم کرتی ہے تو اسے سزا ملے گی، بڑی قومیں ظلم سے تباہ ہوئیں، جہاں دو نظام ہوں وہ قوم کبھی بڑی قوم نہیں بن سکتی، پاکستان میں ہم ایک طبقاتی قانون لے آئے ہیں، طاقتور کےلئے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہے، انسانیت کا نظام سب کو ایک طرح دیکھنے کا کہتا ہے، یہی ہماری سب سے بڑی جدوجہد تھی، مدینہ کی ریاست ایک جدوجہد کا ہی نام ہے، اس میں قانون کی بالادستی بڑا اصول تھا۔عمران خان نے کہا کہ طبقی نظام کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کرسکتا، تمام خوشحال مملک نے تمام لوگوں کے لیے یکساں قانون کو اہمیت دی۔ عمران خان نے کہا کہ اس طرح سے کبھی نظام آگے نہیں بڑھ سکتا، جہاں دو نظام ہوں، یورپ میں قانون کے سامنے سب ایک برابر ہیں، اقتدار میں آتے ہی پیش گوئی کی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب سب کرپٹ ایک ہوجائیں گے، چارٹرآف ڈیموکریسی سائن کرو، مک مکا کرو، چار گنا قرض ملک کا دس سالوں میں بڑھا دو۔انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت نے ایک سال میں جتنا ٹیکس اکٹھا کیا وہ سب ان کے لیے ہوئے قرض کی قسطیں دینے میں چلاگیا، یہ تاریخی قرضہ چھوڑ کرگئے، ہم آئے تو پہلے دن سے شور مچا دیا کہ حکومت فیل ہوگئی۔وزیراعظم نے کہاکہ آزادی مارچ کا مقصد حکومت کو فیل کرنا نہیں بلکہ انہیں ڈر ہے کہ حکومت کامیاب ہورہی ہے، یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں یہودی لابی قبضہ کررہی ہے، انہیں ڈر ہے کہ آہستہ آہستہ حکومت ان کے کارناموں تک پہنچ رہی ہے، یہ سب جو اکٹھے ہوئے ہیں یہ بلیک میلنگ کا ایک طریقہ ہے، سب کو پیغام دیتا ہوں کہ بلیک میلنگ کا کوئی بھی طریقہ اپنا لیں میں جب تک زندہ ہوں این آر او نہیں ملے گا، دو این آر او کی وجہ سے آج ملک کے یہ حالات ہیں اور ملک مقروض ہے۔وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پچھلی حکومتیں دیکھ لیں، سب سے کم مہنگائی ہمارے پہلے سال میں ہوئی۔انہوںنے کہاکہ ابھی تک تو ان پر ہمارے دور کے کیسز نہیں بنے صرف پرانے کیسز ہی چل رہے ہیں، اقامہ منی لانڈرنگ کا ذریعہ تھا ، کبھی سنا کہ وزیراعظم کے پاس اقامہ ہے، ہم دبئی ،اور سوئٹرز لینڈ کا ریکارڈ مانگتے ہیں تو نہیں ملتا ، اقامے کی وجہ سے یہ لوگ وہاں کے شہری سمجھے جاتے ہیں۔ٹیکس معاملات پر وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک مقروض ہے اور منہگائی اس لیے ہے کہ ڈالر چوری ہوکر یہاں سے باہر گئے، تاجروں سے کہتا ہوں کہ کوئی ملک ٹیکس کے بغیر نہیں چلتا، تاجروں نے ٹیکس نیٹ میں آنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، ملک اب تیزی سے ترقی کی جانب بڑھے گا۔قبل ازیں گرونانک یونیورسٹی سے متعلق وزیراعظم کو منصوبے سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی 107 ایکٹر پر محیط ہوگی اور حکومت پنجاب کی جانب سے یونیورسٹی کے ابتدائی فنڈز بھی جاری کردیے گئے۔واضح رہے کہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا کے لیے ہوسٹلز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے طلبا و طالبات رہائش اختیار کرسکیں۔ خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ بابا گرونانک یونیورسٹی تین مرحلے میں مکمل ہوں گی جس پر 6 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔انہوں نے کہا کہ تعلیم تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا ایجنڈا ہے اور پنجاب حکومت نے ایک سال کے قلیل عرصے میں 8 جامعات اور 5 انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوںنے کہاکہ یونیورسٹی کے قیام سے نہ صرف مقامی بلکہ دنیا بھر کے سکھوں کو فائدہ ہوگا۔عثمان بزدار نے کہا کہ صوبائی بجٹ میں جامعات کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے ہیں جس سے 21 منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اراضی سے متعلق ریکارڈ سینٹر رواں برس کے آخر میں مکمل ہوجائیں گے۔حکومت پنجاب نے 70 کروڑ روپے کی خطیر رقم اقلیتی بھائیوں کے لیے مختص کردیے۔انہوںنے کہاکہ اقلیتی برادری کو جو آزادی پاکستان میں حاصل ہے وہ انہیں جنوبی ایشیا میں کہیں اور حاصل نہیں۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ بابا گرونانک یونیورسٹی کا قیام گزشتہ 13 برس سے تاخیر کا شکار رہا تاہم موجودہ دور حکومت میں یونیورسٹی کا منصوبہ حقیقی روپے میں ابھر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بابا گرونانک یونیورسٹی عالمی معیار کو یونیورسٹی بنائیں گے جہاں خالصہ اور پنجابی زبان بھی پڑھائی جائے گی۔اعجاز شاہ نے امید ظاہر کی کہ حکومت منصوبے کی تکمیل میں بھرپور کردار ادا کرے گی اور ہر ممکن معاونت فرہم کرے گی۔

You might also like More from author