گرد چہرے پہ تھی ہم آئینہ صاف کرتے رہ گئے

ایک مین مفہوم میں انسان کی سرشت ہی اس کی تقدیر ہوتی ہے۔
بسا اوقات سرشت کی حقیقت و کیفیت نسلی طور پر بھی سفرکرتی ہے۔ میرے ممدوح عزت مآب”مال لانا“ صیب مد ظلہ کا معاملہ بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے۔
صوبیدار عبدالخلیل برٹش آرمی میں ملازم تھا، انگریز کے حکم پر اس نے گیارہ سو قبائلیوں کو قتل کر ایا جس پر اسے ملکہ وکٹوریہ ملٹری کراس کا تمغہ دیا گیا۔
اسی صوبے دار عبدالخلیل کا بیٹا محمود احمد تھا جو بعد میں پاکستانی سیاست میں مفتی محمود کے نام سے پہچانا گیا۔ یہ شخص پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش جمعیت العلمائے ہند کے سربراہ حسین احمد مدنی کا پیروکار تھا اور جمعیت العلمائے اسلام پاکستان کا سربراہ تھا۔ اس شخص نے اپنی مخصوص سیاسی پوزیشن کی خریدو فروخت کے ذریعے خوب ”کمائی“ کی ۔ خیبر پختونخوا ہ کا وزیر اعلیٰ بھی بنا۔ مفتی محمود اپنے بڑے صاحبزادے فضل الرحمن کی حرص و ہوس سے اکثر فضا اور نالاں رہے۔
ایک بار تو انہوں نے اپنے انٹرویوں کے لئے آئے ہوئے صحافیوں کی موجودگی میں فضل کی بلاوجہ تاک جھانک پر اسے خوب ڈانٹ پلا دی ۔ پھر صحافیوں کو بتایا کہ یہ لڑکا ان کا اپنا بیٹا ہے اور کمرے میں ہونے والی گفتگو کی گن سُن لے رہاہے کیونکہ یہ سی آئی ڈی (خفیہ پولیس) سے پیسے لے کر انکی مخبری کرتا ہے۔
آنے والے ایام میں فضل الرحمان کی لالچی سرشت مزید گہری ہوتی چلی گئی جسے اس نے اپنی چالاکیوں ، مکاریوں اور عیاریوں کے ذریعے اپنے مفادات کے حصول کا مستقل ذریعہ بنا لیا۔
اس نے پہلا فکری حملہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا بطور خاص ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں اور گردونواح کے پسماندہ اور جدید علوم سے محروم عقبوں پر کیا اور انہیں ”مذہب کارڈ“ کے غلط استعمال کے ذریعے اپنے زیر کرنا شروع کر دیا۔
جمعیت العلمائے اسلام عام انتخابات میں بالعموم نصف درجن سے ایک درجن تک سیٹیں جیتنے میں کامایب ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی جمہوریت میں نمبر گیم یعنی عددی قوت کی جادوئی اثر آفرینی سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس صورت حال کی اہمیت تب مزید بڑھ جاتی ہے جب منتخب اداروں میں کوئی ایک پارٹی واضح اکثریت سے کامیاب ہو کر نہیں پہنچتی۔ درایں حالات بسا اوقات اکثریتی پارٹی کو بھی حکومت سازی کے لئے کسی ایک یا زیادہ چھوٹی پارٹیوں کی حمائت حاصل کرنا پڑتی ہے ۔ ایسے حالات میں ان چھوٹی پارٹیوں کی حیثیت ترازو میں پاسنگ کی ہو جاتی ہے۔یعنی پاسنگ کی اپنے تئیں تن تنہا حکومت کرنے کا ملکہ تونہیںہوتا مگر وہ اپنے چند ایک سیٹوں کے ساتھ جس پارتی کے پلڑے میں بھی اپنی حمایت کا وزن ڈال دیں گے اسی کا پلڑہ بھاری ہو جائے گا۔
پاکستان میں پچھلی ربع صدی سے ملا فضل کی جمعیت یہی پاسنگ کا کھیل کھیلتی چالی آرہی ہے۔ پچھلے چودہ سال پر ایک نظر ڈالیں تو اس جماعت کے امیر ملا فضل نے جنرل مشرف زرداری اور نا شریفوں کی حکومتوں کو اپنی ” پاسنگی“ حیثیت کے ذریعے ہی سہارا دیا اور اس کی خوب قیمت وصول کی۔ اس کی ایک انتہائی مکروہ شکل یہ رہی کہ مذکورہ تینوں ادوار کے حکمرانوں نے محض اپنے سیاسی و حکومتی مفادات کے تسلسل اور تحفظ کی غرض سے اہلیت نہ ہوتے ہوئے بھی ملا فضل کو خارجہ امور کمیٹی اور پھر ایک عشرے تک پارلیمنٹ کی(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر53
کشمیر کمیٹی کی سربراہی دیئے رکھی۔ یاد رہے یہ ایک وزارتی مرتبے کا منصب ہوتا ہے جس میں ملا نے منسٹر انکلیو اسلام آباد میں بنگلہ نمبر22 الاٹ کرائے رکھا۔ اسے ایک وفاقی وزیر کے مساوی تنخواہ ، پروٹوکول، مراعات اور ملکی وغیر ملکی دوروں کی سہولت بھی مسیر رہی خدا جھوٹ نہ بلوائے اس طویل عرصے میں ملا فضل نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں رتی برابر کام نہ کیا۔ مگر اس کے برعکس اس کمیٹی کو اس دوران462.341ملین روپے کا خطیر بجٹ میسر رہا ۔ جس میں کروڑوں روپے صرف ملا فضل کی تنخوہوں، مراعات، پروٹوکول اور اندرون و بیرونی ملک دوروں کی مد میں ضائع ہوتے رہے۔
میں دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ اس خطیر قومی دولت کے دانستہ ضیاع کی ذمہ داری براہ راست مشرف ، زرداری، اور نواز پر عائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے اس سارے دورانیے میں محض اپنے اقتدار کے تسلسل اور مفادات کی نگہبانی کی غرض سے ایک حریص اور لالچی ملا کی اوجڑی اور تجوری میں غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی ٹھونستے رہے۔ کاش ہمارے کوئی ایسا نظام عدل قائم ہو چکا ہوتا جس کے زور پر قومی دولیت کے لٹیروں سے لوٹ کھسوٹ کی پائی پائی وصول کر لی جاتی۔
اور حرص وہوس کا یہی پتلا اور سیاسی دلال ملا فضلو اپنی دیرینہ ریشہ دوانیوں کے تسلسل میں موجودہ عمران حکومت کے درپے آزاد بنا ہوا ہے۔ وہ اس بار بنوں اور ڈیرہ اسماعیل سے اپنی دونوں نشستیں بری طرح ہار گیا۔ اسی طرح اس نے پچھلے ایک عشرے میں آمدنی سے زائد جو اثاثے بنائے ہیں۔ ان کی انکوائری شروع ہو چکی ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ آنے والے چند ایام میں زرداریوں اور نا شریفوں کی طرح ملا فضلو بھی احتسابی شکنجے میں پھنس کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہو چکا ہو۔
زرداری نواز پہلے سے ہی مکافات عمل کی سزا بھگت رہے ہیں۔ پھر ان کی جماعتیں بھی تنظیمی سطح پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ان حالات میں وہ احتسابی اداروں اور عمران حکومت پر براہ راست دباو¿ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔ چنانچہ ان دونوں پارٹیوں نے رینٹ اے ریلی ”والے ملا فضلو کو ”مال پانی“ دے کر عمران حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کی راہ پر لگا دیا ہے یہ سارے گندے انڈے جانتے ہیں کہ عمران خان کی موجودگی میں ماضی کی طرح انہیں کوئی ناجائز ریلیف نہیں مل سکے گا۔ چنانچہ یہ سب جمہوریت، مہنگائی اور بے روزی کے نعروں کے ذریعے حکومت کے خلاف ”آزادی مارچ“ کا ناٹک رچانے جا رہے ہیں۔ مگر عوام ان کی اصلیت کو پہنچان چکے ہیں کہ آج ملک میں مسائل موجود ہیں وہ سب انہیں دونوں پارٹیوں کی لوٹ کھسوٹ کا نتیجہ ہیں۔۔

Scroll To Top