غداری کی داستان۔۔۔ ابن علقمی سے حسین حقانی تک 17-10-2015

اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہیروز کے ساتھ ساتھ ہمیں غدار بھی کثیر تعداد میں ملیں گے۔ دو تین نام تو ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دو کی پہچان تو علامہ اقبالؒ نے ” جعفرازبنگال “ اور ” صادق ازدکن“ کہہ کر کرادی۔ لیکن ابن علقمی اور ابو عبداللہ ہماری تاریخ کے غالباً سب سے بڑے غدار تھے۔ ابن علقمی عباسی خلافت کا آخری وزیراعظم تھا۔ اسی نے ہلاکو خان کے ساتھ ساز باز کرکے بغداد کے دروازے تاتاریوں پر کھولے تھے۔ اس کے بعد اپنے عہد کے سب سے بڑے اور خوبصورت شہر میں جو قتل عام ہوا اس کی مثال صرف ٹرائے کی کہانی میں ملتی ہے جس میں یونانیوں نے ” الیم“ کی تقریباً پوری آبادی کو تہ تیغ کردیا تھا۔ ٹرائے کے قتل عام کے پیچھے ایک گھوڑا تھا جسے داستانوں میں ” ٹروجن ہارس آف ٹریچری“ کا نام دیا گیا ہے۔ اسی گھوڑے کی مناسبت سے کہا جاتا ہے کہ خدا نہ کرے کہ ہماری صفوں میں کوئی ” ٹروجن ہارس “ ہو۔
جہاں تک ابوعبداللہ کا تعلق ہے وہ غرناطہ اور اندلس میں آخری مسلمان حکمران تھا۔ پہلے اس نے اپنے والد ابوالحسن کو راستے سے ہٹایا ’ پھر اُس نے اِس امید پر قلعے کے دروازے شاہ فرڈی ننڈ اور ملکہ ازابیلا پر کھولے کہ اسے غرناطہ کی ریاست تحفے کے طور پر دے دی جائے گی۔
میں نے یہ موضوع آج کے عہد کے غداروں کو سامنے رکھ کر منتخب کیا ہے۔ میں کسی دوسرے غدار کا نام کھل کر نہیں لوںگا کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ مجھ سے غلطی سرزد ہوجائے لیکن حسین حقانی کا نام لئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
حسین حقانی کا کردار مجھے نسیم حجازی کے ناولوں کی یاد دلاتا ہے ۔ ان کے ہر ناول میں ہیرو اور ہیروئن کے ساتھ ایک غدار کا کردار ضرور ہوتا ہے۔ اور جو کردار میرے ذہن سے چپک کر رہ گیا ہے وہ ابوداﺅد کا کردار ہے۔مجھے حسین حقانی اور ابوداﺅد میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
حسین حقانی کے ساتھ میرا تعارف محترمہ بے نظیر بھٹو نے کرایا تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ حد درجہ ذہانت رکھتے ہیں۔ ان کی ذہانت سے میں بھی متاثر ہوا۔
محترمہ نے 1993ءکی انتخابی کمپین کے لئے ایڈورٹائزنگ کے حوالے سے جو تین رکنی کمیٹی بنائی تھی میں اس کا انچارج تھا۔ میرے ساتھ حسین حقانی اور شفقت محمود تھے۔
تب بھی میرے ذہن میں یہ خیال بار بار آتا تھاکہ اتنی زبردست پولرائزیشن کے ماحول میں کوئی شخص اپنی وفاداریاں اتنی تیزی اور آسانی سے کیسے تبدیل ہوسکتا ہے۔ محترمہ نے حسین حقانی کو وفاقی انفارمیشن سیکرٹری بنایا اور اس کے بعد ہاﺅس بلڈنگ فنانس کا رپوریشن کی سربراہی عطا کردی۔
جب جنرل پرویز مشرف کا دور شروع ہوا تو حسین حقانی ’شوکت عزیز کے پہلو میں نمودار ہوئے۔ میرا ان کے ساتھ کافی انٹرایکشن رہا۔ پھر وہ غائب ہوگئے۔
سی آئی اے نے انہیں خرید لیا۔
وہ جب زرداری صاحب کے دور حکومت میں بھی درحقیقت سی آئی اے کے ہی پے رول پر تھے۔ جب وہ امریکہ کے سفیر بن کر جارہے تھے تو مجھ سے ملاقات میں انہوں نے کہا تھا۔
” اگر زرداری صاحب جیسا نالائق آدمی صدر بن سکتا ہے تو آپ کا یہ بھائی تو کافی باصلاحیت ہے۔ ضرورت بس اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ کے رابطے صحیح جگہ پر ہوں۔ میں انشاءاللہ اس ملک کا وزیراعظم بن کر آﺅں گا۔ “
یہ حقانی کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد میمو گیٹ ہوا۔ اور ہماری بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہمارے چیف جسٹس نے نامعلوم وجوہ کی بناءپر انہیں ملک سے بھاگ جانے دیا۔
آج وہ پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ انہوں نے اپنی خدمات کا کس کس سے کتنا کتنا معاوضہ لیا ہوگا!
آج کل وہ وہائٹ ہاﺅس ’ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور پینٹاگون پر یہ دباﺅ ڈالنے میں لگے ہوئے ہیں کہ پاک فوج کے ساتھ سخت سے سخت برتاﺅ کیا جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ امن کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ حسین حقانی کا گہرا تعلق صرف زرداری صاحب سے ہی نہیں میاں نوازشریف کے ساتھ بھی رہا ہے!

Scroll To Top