ساتویں صدی سے بیسویں صدی تک

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔
تاریخ درحقیقت ایسی قیادتوں کی داستانوں کا سلسلہ ہے جنہوں نے قوموں کی تقدیر تبدیل کرڈالی اور انسانی تہذیب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔
اگر دور ِحاضر کو ہی سامنے رکھاجائے اور دور ِحاضر کو ہم بیسویں صدی تک محدود رکھیں تو جن شخصیات یا قیادتوں کی بدولت مختلف اقوام کو بالخصوص اور پوری دنیا کو بالعموم نئے موڑ ملے اور نئی منزلیں میسر آئیں ان سے ہر صاحب ِعلم اور واقف ِحال آشنا ہوگا۔
کارل مارکس کا تعلق اس صدی سے نہیں تھا مگر ان کے افکارنے اس صدی کی جہتیں متعین کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو نادرست نہیں ہوگا کہ کارل مارکس کے افکار نے ہی لینن کی قیادت کو جنم دیا جس کے نتیجے میں روسی انقلاب بپا ہوا اور سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا۔
لینن کے بعد جو بڑی قیادتیں سامنے آئیں ان میں ترکی کے اتاترک اور جرمنی کے ایڈولف ہٹلر خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ اتاترک کی قیادت نے ترک تشخص کا بڑا ہی موثر اور بھرپور دفاع کیا اور ترکی کو مختلف یورپی قوموں کے سامراجی عزائم کا شکار بن جانے سے بچا لیا۔ اگر اتاترک نے تاریخ کے ایک نازک موڑ پر جنم نہ لیا ہوتا تو شکست و ریخت ترکی کے مقدر میں لکھی جاچکی تھی۔ آج ایک عظیم مسلم قوت کے طور پر ترکی کا شاید وجود ہی نہ ہوتا۔
جرمنی کو ہٹلر کی تاریخ ساز قیادت نے جس اوجِ ثریا سے ہمکنار کیا وہ اپنی نوعیت کا واحد کرشمہ ہے۔ معاہدہ وارسیلز کے بعد جرمنی جس زبوں حالی،مایوسی،انتشار اور شکست خوردگی کا شکار تھا اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1930ءمیں ایک امریکی ڈالر کے حصول کے لئے جرمن مارکس کی بھری ہوئی بوری بھی کافی نہیں ہوتی تھی۔ اس وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ یہی جرمن قوم آنے والے چند برسوں میں باقی پوری دنیا کو اس انداز میں للکارے گی کہ خود تاریخ انگشت بدنداں ہو کر رہ جائے گی۔ نازی جرمنی کا ظہور اور عروج اپنی نوعیت کا پہلا اور آخری واقعہ تھا۔
اگرچہ شکست بالآخر نازی جرمنی کامقدر بنی، مگر اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ ہٹلر کی قوت ِآفرین قیادت نے نوآبادتی نظام کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا اور یورپ کی تمام سامراجی طاقتیں اپنی مقبوضہ نو آبادیوں کو وقفے وقفے سے آزاد کردینے پر مجبور ہوگئیں۔ ؟ چرچل نے دوسری جنگ عظیم پر اپنی شہرہ آفاق تصنیف کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا۔
” ہٹلر کی تمام تر خرابیوں اور وحشتوں کے باوجود یہ حقیقت مغربی تہذیب کے مورّخوں کے شعور میں ہمیشہ چبھتی رہے گی کہ تاریخ کی اس سب سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت آفرین ِجنگ میں ہلاکتوں کا تناسب ایک جرمن کے مقابلے میں پانچ اتحادی فوجی تھا۔ جب میں یہ سوچتا ہوں کہ اکیلے نازی جرمنی نے امریکہ سوویت یونین اوربرطانیہ کی اجتماعی طاقت کو کس طرح ناکوں چنے چبوائے توایک جھرجھری سی آئے بغیر نہیں رہتی۔“
چرچل کا ذکر آیا ہے تو یہ کہنا میں ضروری سمجھتاہوں کہ اپنی تمام تر لیاقت اور قابلیت کے باوجود چرچل اپنا شمار تاریخ ساز قیادتوں میں نہیں کراسکے۔ کون نہیں جانتا کہ جنگ کے ہیرو ہونے کے باوجود انہیں عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ؟
اوپر نو آبادتی نظام کے خاتمے کا ذکر ہوا ہے ۔ اور اس ضمن میں جو عہد آفرین اور تاریخ ساز قیادتیں سامنے آئیں ان میں بھارت کے گاندھی کانام بڑی ” اہمیت “ کا حامل ہے لیکن ان سے زیادہ اہمیت پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح(رحمتہ اللہ علیہ) کی ہے۔ تاریخ میں آپ کو کتنے نام ملیں گے جن سے آپ نئی مملکتوں کا قیام منسوب کرسکیں ؟ اسی ضمن میں یہاں میں مفکرِ پاکستان علامہ اقبال (رحمتہ اللہ علیہ) کا ذکر کروں گا۔ اقبال (رحمتہ اللہ علیہ) نے اگرچہ عملی سیاست سے اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھا مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ” دو قومی نظریے “ کے حقیقی خالق وہی تھے۔ اگر پاکستان کے قیام کی جڑیں تلاش کی جائیں تو پہلی جڑ 1930ءکے اس خطبے میں ملتی ہے جو مسلم لیگ کے الہ آباد والے اجلاس میں علامہ اقبال(رحمتہ اللہ علیہ) نے دیا۔ اور دوسری جڑ 1940ءکی لاہور والی قرارداد میں ملتی ہے جس کے ساتھ محمد علی جناح(رحمتہ اللہ علیہ) کا نام جڑا ہوا ہے۔ بیسوی صدی کی بڑی قیادتوں کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ انڈونیشیا کے سوئیکارنوکا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے مگر سب سے بڑا نام ماﺅزے تنگ کا ہے جن کی عہدِ آفرین قیادت نے جو بنیادیں تلاش اور تعمیر کیں ان پر آج کا عظیم الشان چین پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے۔
یہاں میں فیڈل کاسٹرو اور شی گویرا کا نام بھی لوں گا جن کے ساتھ انقلاب ِآفرین جدوجہد کا تصور منسوب ہے۔ یہاں میں سنگاپور کے لی یو اورملائیشیا کے مہاتیر محمد کا نام بھی لوں گا جنہوں نے کھوکھلی نظر آنے والی ریاستوں کو ترقی اور کامیابی کی داستانوں میں تبدیل کرکے رکھ دیا۔
(جاری ہے )

Scroll To Top