سائنسدانوں نے غذا کے لیے چوہوں کو کار چلانا سکھادی

امریکی ماہرین نے اس کار میں چوہے کو بٹھاکر انہیں کھانے کی لالچ کے بدلے کار چلانا سکھائی اور ان پر کئ تجربات بھی کئے ہیں۔ فوٹو: نیوسائنٹسٹ

ورجینیا: سائنسدانوں نے چوہوں کو غذا کے لیے چھوٹی کاروں کی ڈرائیونگ سکھادی جس سے اس ننھے جانور کے سیکھنے کی صلاحیت پر مزید روشنی پڑے گی بلکہ یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کسطرح نئی باتیں سیکھنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور نئے ہنر سیکھنے کے کیا محرکات ہوتے ہیں؟

ورجینیا میں یونیورسٹی آف رچمنڈ سے وابستہ کیلی لمبرٹ نے چوہوں کو چھوٹی گاڑی چلانے جیسے پیچیدہ ہنر سکھانے کی کوشش کی تاکہ دیکھا جاسکے کہ آیا چوہے یہ عمل سیکھ سکتےہیں یا نہیں۔

اس کے لیے کھانے کے شفاف ڈبوں سے چھوٹی گاڑیاں بنائی گئیں اور اسے المونیم کے فرش پر چلایا گیا ۔اس میں تانبے کی تین چھوٹی پٹیوں کو اسٹیئرنگ وھیل کے طور پر استعمال کیا گیا۔ لیکن جب چوہےالمونیم کی سطح پر کھڑے ہوئے اور تانبے کی پٹی کو بطور ہینڈل استعمال کیا تو انہوں نے پٹیوں کو دائیں، بائیں اور درمیان سے چھوتے ہوئے ایک پورا برقی سرکٹ مکمل کیا اور گاڑی کو آگے بڑھایا۔

چھ مادہ اور گیارہ نر چوہوں کو کارچلانے کی تربیت دی گئی جس میں انہوں نے چار مربع میٹر کے مستطیل چوکھٹے میں گاڑی بھگائی۔ جیسے ہی وہ اسٹیئرنگ کی پٹیوں پر ہاتھ لگاتے اور آگے بڑھتے تو انہیں انعام میں دلیے کا ٹکڑا دیا جاتا۔ پھر یہ کھانا مختلف فاصلوں پر رکھ کر چوہوں کو مزید آگے بڑھنے کی تربیت دی گئی ۔ اسطرح چوہے مزید آگے بڑھتے گئے اور نئے ہنر سیکھتے ہوئے ڈرائیونگ میں ماہر ہوگئے۔

اب انہوں دیکھا کہ نئے کام سیکھنے سے چوہوں میں تناؤ اور اداسی کی وجہ بننے والے ہارمون بھی کم ہوئے۔ انسانوں میں پہلے ہی یہ عمل دریافت ہوچکا ہے جسے خودکفالت یا سیلف ایفیکیسی کہاجاتا ہے۔ دوسری جانب یہ عمل چوہوں کی دماغی اور اکتسابی لچک کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
Scroll To Top