بیمار سیاست قیدی نمبر 4470 ، پلیٹلیس میں کمی ؟؟!!،اندر خانے کا ناٹک ، پردہ چاک

قیدی 4470 تمام ادویات صرف ذاتی ڈاکٹرعدنان کی ہدائت پر لیتا ہے، یہ ڈاکٹر ایک عرصے سے قیدی کو خون پتلا کرنے کی ادویات دیتا آ رہا تھا ، بظاھر اس لیئے کہ سری پائے ، بونگیں ، کھدیں اور نہاریاں پیڑنے کے عادی گوشت خور قیدی کے خون میں حد درجہ مرغن خوراک کے باعث بڑھ جانے والی چربی کے اثرات زائل کیئے جا سکیں ، یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عدنان نے اس دوران دی جانے والی اپنی ادویات کے حوالے سے ، قیدی کے خون میں پیداہونے والے اثرات اور تبدیلیوں کا جائزہ کیوں نہ لیا ؟ اور کیوں سوموار اور منگل ( 21/22 اکتوبر )کی درمیانی شب کا انتظار کیا گیا جب قیدی کے خون میں مبینہ طور پر پلیٹ لیٹس کی تعداد صرف 2ہزار رہ گئی تھی ،جبکہ انسانی زندگی کے لیئے پلیٹ لیٹس کے کم از کم 14 سے 16 ہزار کاﺅنٹس ناگزیرہوتے ہیں ، یہاں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھیئے کہ قیدی 4470 سروسز ہسپتال میں اپنے قدموں چل کر متعلقہ vvip کمرے تک گیا ، جبکہ 2 ہزار پلیٹ لیٹس والا شخص تو بے سدھ ہوکر رہ جایا کرتا ہے، یہ اطلاعات بھی ہیں کہ طبیعت بگڑ جانے کی شکائت پر جب نیب سیل سے وابستہ ذمہ داران نے قیدی کوہسپتال منتقل کرنا چاہا تو قیدی نے صاف انکار کر دیا ، اس پر برادر خورد شوباز کو صورت حال سے اگاہ کیا گیا ؛ اس مرحلے پر دو روایات سامنے آتی ہیں ، ایک یہ کہ شوباز کی ترغیب کے باوجود قیدی ہسپتال نہ جانے کی ضد پر قائم رہا اور دوسری یہ کہ اس ” ضد ناٹک ” کے پردے میں ” 3 گھنٹے کا وہ وقت ” خریدا گیا جس میں لاہور کے نون غنی ضلعی صدر اور گھر میں ایم این اے شپ کی 3 سیٹیں رکھنے والے پرویز ملک کو بھاڑے کے ” مظاھرین ” اور پٹ سیاپیئے اور ثائر جلا کر راستہ بند کرنے والوں کا بندوبست کرنا تھا ، کہا جاتا ہے کہ جب پٹ سیاپے اور شور و غوغے کے سارے انتظامات بابت گرین سگنل مل گیا تب قیدی 4470 کی جنج سروسز ہسپتال کے لیئے روانہ ہوء، درایں حالات نون غنی بھونپوﺅں نے اپنے قیدی 4470 کی خطرناک حد تک بگڑتی بیماری کا جو الزاماتی ملبہ حکومت پر ڈالا ہے اپ خود اندازہ لگا لیجئے کہ اس میں کس حد تک صداقت ہے ، زیادہ مضحکہ خیز بیان تو سات سمندر پار بیٹھے بھگوڑے ڈبو میاں کاہے جس کے مطابق جیل میں اس کے قیدی باپ کو زہر دی جا رہی ہے ، حیرت ہے یہ وہی ” ذات نا شریف ” ہے جو اج تک عدالتوں کے مسلسل استفسار کے باوجود ، یہ تو نہ بتا سکا کہ لندن میں اربوں کے جو فلیٹس اس کی تحویل میںہیں ان کی منی ٹریل کہاں ھے ؟ البتہ اسے کسی طلسماتی عینک کی مدد سے یہ علم ہو گیا کہ س کے باپ کو زہر دی جا رہی ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو دستیاب وسیع وسائل سماعت و بصارت کی روشنی میں قیدی 4470 کی صحتی بگاڑ بابت تمام حقائق موثر انداز میں قوم کے سامنے رکھ دینے چاہئیں تاکہ ایک بار دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوہی جائے ۔
حرف آخر۔۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ھے کہ عمران حکومت اور پنجاب میں بزدار انتظامیہ کی میڈیا ھینڈلنگ انتہای بودی ، پھسپھسی اور از کار رفتہ ہے ، کیا پرنٹ اور کیا الیکٹرانک میڈیا ،ہر سطح پر جاتی عمرہ کے پلانٹڈ وظیفہ خور موجود ہیں جو ناشریفوں کا حق نمک ادا کرنے کے لیئے عمران حکومت کے موقف کو ہمیشہ دبا دیتے ہیں یا پھر اسے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور اس کے مقابل نون غنوں کے ادوار حکومت میں بہنے والی دودھ اور شہد کی نہروں کے بیان میں زمین اسمان کے قلابے ملانے سے بھی گریز نہیں کرتے ،۔
( جاری ہے )

Scroll To Top