انہیں اسلام سے نہیں اسلام آباد سے دلچسپی ہے

  • مدرسوں کے معصوم طلبا کو اپنی خواہشات کا ایندھن بنا کر سڑکوں پر احتجاج کے لئے لانا کہاں کی انسانیت ہے
  • بھارت پلوامہ ڈرامہ 2 کی تیاریوں میں، جارحیت کے مقابلے کیلئے قومی وحدت وقت کی اہم ترین ضرورت
  • جوں جوں احتسابی شکنجہ سخت ہو رہا ہے قومی لٹیروں کی شیطانی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے
  • نواز، زرداری کے معاشی جرائم کا خمیازہ عمران حکومت سمیت پوری قوم بھگت رہی ہے
  • مسائل کا یرغمالی بننے کی بجائے مسائل پر سواری ،زندہ قوم کی نشانی!
  • عمران خان ایک جی دار کی طرح چومکھی لڑائی میں برسرپیکار، کامیابی کو اسکا انتظار!´
  • عوام کو دوست دشمن کی شناخت کی صلاحیت بروئے عمل لانا ہوگی
  • حالات ، واقعات ، حادثات، مسائل کا وبال اور جنجال، عوام بے حال نڈھال، بس تھوڑا سا انتظار!
  • پاکستان کو اللہ رحیم و کریم کی عظیم سکیم کے تحت حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بن کر رہنا ہے

حالات ، واقعات و حادثات
بظاہر اک وبال، جنجال، لوگ بے حال، نڈھال اور روبہ زوال
مگر ایک قلم کار اپنے قبیلے کا ہو کر بھی قبیلے والوں سے جداگانہ سوچ و فکر کا علمبردار، وہ مسائل کے ہاتھوں یرغمال بننے کو ہرگز تیار نہیں، وہ مسائل کو اپنے اعصاب پر سوار کرنے کی بجائے خود مسائل پر سواری کو ترجیح دیتا ہے کہ اس کے نزدیک مسائل تو زندگی کی علامت ہوتے ہیں، قبرستان ہی مسائل سے آزاد ہوتے ہیں سو ہیں، ہماری قوم کو آج سے جینے کا نیا انگ ، سنگ، ڈھنگ سیکھنا ہے۔ ہمیں مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے حل کے لئے اپنے اللہ سوہنے کے عطا کردہ تمام مادی، ذہنی اور روحانی وسائل کو بروئے عمل لانا ہے۔ جس اللہ سوہنے نے رمضان المبارک کی لیلتہ القدر کی سلامتی والی ساعتوں میں اپنی عظیم و قدیم سکیم کے تحت پاکستان تخلیق فرمایا تھا اور جس خطے سے آقا کو ڈیڑھ ہزار سال پہلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے محسوس ہوتے تھے۔ اسی خطے میں قائم پاکستان کو بہت جلد اپنے اللہ رسول کی تعلیمات میں ڈھل جانا ہے۔ اسلام ہمیں اعتقادات، عبادات، ذات (SELF) معاشرت، حکومت اور ریاست کے سبھی شعبوں کے لئے ایک موثر، موقر اور مربوط نظام حیات فراہم کرتا ہے جس پر اگر حقیقی اور معنوی طور پر عمل پیرا ہو لیا جائے تو ہمارا خطہ ارضی پاکستان بہت جلد کرہ ارض پر ایک عظیم فلاحی اسلامی ریاست کے طور پر ابھر آئے گا۔ اور پاکستان دنیا بھر میں زندگی کے ہر شعبے میں خیر و برکت ، سلامتی و خوشحالی کا پیامبر اور علمبردار کے طور پر اپنا عالمگیر ایجنڈا بروئے عمل لا سکے گا۔ بس اک ذرا انتظار! اے افتادگان خاک تم اگر ظالمین کے جھوٹے سحر اور نشے سے خود کو آزاد کر لو، تم اگردوست دشمن کی شناخت کا ملکہ پا سکو، اور تم اگر گردوپیش کے اندھیروں کے مقابلے کے لئے اپنے اپنے حصے کی شمع جلا سکو تو وہ دن دوور نہیں خوشالی اور اسلامتی کی وہ منزل دور نہیں جس کا اشارہ میں نے سطور گزشتہ میں کیا ہے۔
قارئین محترم میں نے اوپر جن معاملات و واقعات کی جانب اشارہ کیا ہے اور ان کی کوکھ سے پھوٹنے اور جنم لینے والے جن مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا تعلق سیاست، معیشت، معاشرت، حکومت اور ریاست کے سبھی شعبوں سے ہے۔ ان مسائل میں تعلیم، روزگار، صحت اور رہائش وغیرہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے تاہم آپ یقینا دیکھتے ہوں کہ ہمار ا میڈیا ، صحافت اور ٹی وی چینلز بمع سوشل میڈیا شبانہ روز سیاست اور سیاستدانوں کے محور کے گرد ناچتے کودتے رہتے ہیں۔ اس کی بظاہر ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک ریاست کے اندر زندگی سے متعلق تمام بلاواسطہ یا بالواسطہ مسائل کی وجہ یا انہیں حل کرنے کے وسائل، اقتدار، یا اختیار حکومت یا اس سے وابستہ حکمرانوں سے ہوتا ہے اور حکومت یا حکمران اقتدار واختیار کے منصب تک پہنچنے کیلئے جو سیڑھی اور وسیلہ استعمال کرتے ہیں وہ سیاست کا ہوتاہے سو سیاست و سیاستدان اور ان سے جڑے و یگر معاملات و افراد ہماری صحافتی سرگرمیوں کے غالب حصے پر دکھائی سنائی دیتے ہیں۔
سو ہم جب بھی کسی معاشی، عماشرتی یا سائنسی و تعلیمی معاملے کو زیر بحث لاتے ہیں تو یہی سیاست اور سیاستدان، حکومت و حکمران جھٹ سے ہمارے سامنے آٹپکتے ہیں۔
آج کی اس صحبت میں ہمارا مکالمہ انہیں متنوع موضوعات پر اجمالی جائزے کا حامل ہوگا۔
اس وقت کیفیت یہ ہے کہ پچھلے اکتہر سال سے بالعموم اور نواز شریف و زرداری کے گذشتہ تیس سالوں کے دوران پاکستان کی معاشرتی و معیشت کو جس بری طرح قرضوں کے پہاڑ تلے کچلا جا چکا ہے اس سے نجات ایک کاردارد سے کسی طور کم نہیں۔
اس خبیثانہ اور ظالمانہ سیٹس کو سے نجات اور بدی کو نیکی اور مفلسی کو خوشحالی سے بدل دینے یعنی تبدیلی کے دعوے اور وعدے پر عمران خان کی تحریک انصاف کو 25جوالئی18کو عوامی تائید میسر آئی تھی مگر پارلیمانی طرز حکومت سے چمٹی ہوئی آلائشوں بشمول نمبر گیم کے اعتبار سے عمران حکومت کی پوزیشن کچھ زیادہ مستحکم نہیں، اسے اپنی حکومت برقرار رکھنے اور تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے بد قسمتی سے انہیںعناصر کے اشتراک عمل کی ضرورت آن پڑی ہے جن کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی مفادات پر ضرب کاری لگائے بغیر عمرانی وعدہ اور دعویٰ پورا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ عمران حکومت اگر ایک گوشے کی اصلاح کے لئے کوئی اقدام لیتی ہے تو کسی دوسرے حصے سے اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی جاتی ہے ۔ نتیجہ؟ معیشت مقروض مقروض اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے مزید قرضوں پر انحصار بطور خاص زرداری اور نواز شریف کے معاشی جرائم کا تاوان بھی اسی حکومت کو ادا کرنا پڑ رہا ہے جس کے اثرات سیاسی، معاشرتی اور معاشی حوالوں سے کسی طور عمران خان کے حق میں ہیں جا رہے۔
اس پر طرہ زرداری اور نواز شریف کے معاشی جرائم کے خلاف جوں جوں احتسابی شکنجہ سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے اور بدی کی ان دونوں علامات کا قانونی انجام قریب آرہا ہے انہوںنے اپنے گماشتوں اور ساجھے داروں کے ذریعے ملک بھر میںا دھم مچانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ان میں ایک ملا فضلو ہے جسے اسلام سے زیادہ اسلام آباد سے محبت ہے وہ مدرسوں کے معصوم بچوں کو تعلیم سے محروم رکھ رک سڑکوں پر اپنی خواہشات خبیثہ کا ایندھن بنانے پر تلا بیٹھا ہے۔ یہی معاملہ اسفندیار ولی کا ہے۔ ان سب پر مستزاد بھارت کا شیطان مودی پاکستان دشمنی کا چورن بیچنے کے درپے اس ضمن میں وہ 14فروری کے پلوامہ ڈرامہ کا ایک دوسر ا ایڈیشن یعنی پاکستان پر الزام دشنام اہتمام کی بارش کرتے ہوئے کوئی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
ان حالات کا تقاضہ ہے کہ قومی سلامتی کے عظیم آدرش کی خاطر اپوزیشن بلا جواز سڑکوں پر آنے کی بجائے عمران حکومت کا ساتھ دے تاکہ حسب سابق دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے اور پھر باہمی مشاورت اور جمہوری اسلوب کے ساتھ دیگر قومی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔

Scroll To Top