یہ رواداری نہیں چشم پوشی ہے

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔
ہمارے اکثر لبرل اور روشن خیال دانشور نظریہءپاکستان ¾اسلامی نظام اور ” پاکستان کا مطلب کیا ۔ لا الہ ا لااللہ محمد رسول اللہ “ کا ذکر بڑی تضحیک و تحقیر اور بڑے تمسخر کے ساتھ کرتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کا قیام ہی ” دو قومی نظریہ “ اور جداگانہ مسلم شناخت کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا ¾ اس میں ایسا اس لئے ممکن ہوا ہے کہ ایک خدا کو ماننے اور قرآن پاک کو اس خدائے واحد کا کلام تسلیم کرکے اسے اپنا آئینِ حیات قرار دینے والوں نے ان لبرل روشن خیال اور ” ترقی پسند “ دانشوروں کو کبھی آگے بڑھ کر نہیں ٹوکا اور روکا۔
میں نہیں سمجھتا کہ یہ رویہ ” روا داری “ اور ” برداشت “ کے زمرے میں آتا ہے ۔ رواداری اور برداشت کی سرحدیں خدائے بزرگ و برتر نے اپنے کلام میں اور اس کے محبوب پیغمبر نے اپنی حیات کے ذریعے اس قدر واضح طور پر متعین کردی ہیں کہ ہمیں ان الفاظ کی تعریف اور تشریح اپنی مصلحتوں اور مجبوریوں کی روشنی میںکرنے کی ضرورت نہیں ۔
پاکستان کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اور اگر یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ اسلامیان ِ پاکستان مختلف فرقوں یا مکاتب ِفکر میں بٹے ہوئے ہیں تو بھی کوئی بھی حقیقی مسلمان” خدائے واحد کی معبودیت “ آنحضرت کی رسالت اور قرآن حکیم کی کامل سچائی سے انکارکرنے کی جسارت نہیں کرے گا۔
(بقیہ صفحہ نمبر 8پر ملاحظہ فرمائیں)
میں نے ” مسلمان “ کے ساتھ ’ ’ حقیقی“ کی اصطلاح یہاں اس لئے استعمال کی ہے کہ مسلمانانِ پاکستان کی بڑی ہی بھاری اور غالب اکثریت کا ” اسلامی تشخص ‘ ‘ پیدائش کے روز سے ہی متعین ہوجاتا ہے۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر سہی مگر تھوڑی بہت تعداد میں ایسے مسلمان بھی ہوںگے جن کی مسلمانی ان کے پیدائشی تشخص سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ یا جو ایسے ماحول میں پروان چڑھے ہیں جو انہیں ” حقیقی مسلمانی“ اور ” برائے نام مسلمانی “ کے درمیان موجود فرق کے بار ے میں آگہی فراہم نہیں کرتا۔بات آگے بڑھانے سے پہلے میں اس فرق کی واضح نشاندہی کرناچاہتا ہوں۔
میری حقیر رائے میں مسلمان کا صاحبِ ایمان ہونا ضروری ہے۔ ایک ایمان مفصل ہے جو بھائی نصرت جاوید کو اپنا نقطہءنظر سمجھا نے کے لئے میں یہاں درج کررہا ہوں۔
” میں ایمان لایا اللہ پر ¾ اور اس کے فرشتوں پر ¾ اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ¾ اور قیامت کے دن پر ¾ اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ¾ اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر“۔
دوسرا ایمان مجمل ہے۔ وہ بھی یہاں درج کئے دیتا ہوں
” میں ایمان لایا اللہ پر جیساکہ وہ اپنے ناموں اور صفات کے ساتھ ہے ¾ اور میں نے اس کے سارے حکموں کو قبول کیا ۔ زبان سے اقرار ہے اور دل سے یقین ہے“۔
ایمان کی اس تعریف اور شناخت میں آخری جملہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
”زبان سے اقرار ہے ۔ اور دل سے یقین ہے۔“
صرف زبان سے اقرار کا فی ہوتا تو عبداللہ ابن ابی کواپنی موت کے بعد دعائے مغفرت سے محروم نہ رہنا پڑتا۔
رسول اکرم مدینہ کے اِس بدبخت سردار کے لئے دعائے مغفرت کرنے کے لئے تیار ہوگئے تھے مگر آپ کے ربّ کو یہ منظور نہ ہوا۔ ربّ تو جانتا تھا کہ مرنے والے نے کبھی دل سے نہ تو آپ کو رسول اللہ تسلیم کیا اور نہ ہی قرآن کو کلام اللہ ۔ دل کے خالی از یقین ہونے کی کیفیت کو سامنے رکھ کر ہی قادر ِمطلق نے ” خبردار “ رہنے کے لئے مسلمانوں کو کفار کے ساتھ ساتھ منافقین سے بھی روشناس کرایا۔
جہاں تک بدبختی کا معاملہ ہے تو ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ” رشد و ہدایت “ کا سرچشمہ سامنے ہوتے ہوئے بھی کسی نہ کسی عیب یا تقصیر میں مبتلا نہ ہو۔۔۔)جاری ہے(۔۔۔

Scroll To Top