رائج نظام میں انسانی جان کی حرمت مفقود

وطن عزیز میں انسانی جان کی حرمت کا تصور عملا ناپید ہے۔ماضی کی مثالیں تو ایک طرف تازہ واقعات میں درجنوں شہری زندگی کی بازی ہار گے مگر اہل اقتدار کسی طور پر ٹس سے مس نہیںہوئے۔مثلا ایک ہی دن کراچی میں دوٹرینوں کے تصادم میں 22افراد جان بحق اور 65 زخمی ہوگے جبکہ دوسرے جانب پنجاب میں سموگ کے درجنوں واقعات میں 29افراد جان بحق جبکہ 80 زخموں سے گھائل ہوئے جن میں 12کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ ادھر گڈانی حادثہ بارے بتایا گیا ہے کہ دراصل یہ حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت تھی جس میں صرف 20افراد جان بحق نہیں ہوئے بلکہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس واقعہ کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ 120افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
درجنوں افراد کا ایک ہی واقعہ میں جان سے چلے جانا نہ تو ہمارے ہاں پہلی بار ہوا اور نہ ہی شائد آخری بار۔ستم ظریفی یہ کہ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی کسی کو رتی بھر پرواہ نہیں کہ وہ ٹریفک حادثات سمیت ایسے واقعات کو کنڑول کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے جس میں معصوم شہریوں کا کام آنا معمول بن چکا۔
دراصل معاملہ ترجیحات کا ہے۔ اس سوال کا جواب حوصلہ افزاءنہیں کہ کیا واقعتا اہل اقتدار ہمہ وقت اس کے لیے کوشاں رہتے ہیں کہ وہ اپنے دائرے اختیار میں عوام کی جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشیش کریں۔ اب ایک طرف دہشت گرد ہر چند ہفتوں کے بعد ایسی کاروائی کرگزرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جووسیع پیمانے پر نہتے اور معصوم انسانوں کی جان کے ضیاع کا باعث بنے تو دوسری جانب ٹریفک حادثات ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔
رائج نظام کے مخالفین کا دعوے غلط نہیں کہ موجودہ انتظام صرف اور صرف مخصوص خاندانوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہے۔ درجن بھر خاندان ملک کے اندار اور باہر مال ودولت کے انبار لگانے میں اس قدر مصروف ہیں کہ انھیں کروڑوں پاکستانیوں کی حالت زار سے کوئی لینا دینا نہیں۔ بدقسمتی سے کوئی ایک بھی سرکاری محکمہ ایسا دکھائی نہیں دیتا جو فرائض کی ادائیگی میں مثالی لگن کا مظاہرہ کررہا ہو۔ عام آدمی اپنے جائز حق کے لیے متعلقہ محکموں کا چکر لگا کر تھک جاتا ہے مگر مراد یا تو بہت تاخیر سے پوری ہوتی ہے یا پھر اس کے لیے سفارش و رشوت سے کام لینا پڑتا ہے۔
بعض حضرات کا دعوی ہے کہ لوگوں کی قابل ذکر تعداد ہرگز سسٹم کے خلاف نہیں وجہ یہ کہ تاحال کوئی ایسی احتجاجی تحریک برپا نہیں ہوسکی جس میں عوام کی ایسی تعداد سڑکوں پر آجائے کہ نظام زندگی ہی مفلوج ہوکر رہ جائے۔ مذکورہ دعوی کرنے والے حضرات دراصل اس حقیقت کو فراموش کرجاتے ہیں کہ جمہوری نظام کی کامیابی کے لیے شرح خواندگی میں اضافہ بڑی شرط ہے۔ مغرب میں جمہوریت کے ثمرات اس لیے ہیں کہ وہاں علم وشعور کی فروانی کے باعث وہاں کے شہریوں کی اکژیت اپنے حقوق وفرائض سے آگاہ ہے۔ مملکت خداداد پاکستان میں تو عالم یہ کہ آدھی سے زائد آبادی شرح غربت سے نیچے زندگی گزار رہی۔حال ہی میں ایک عالمی ادارے کی سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں نمایاں نمبر پر ہے جہاں لوگوں کو پیٹ بھرکر کھانا میسر نہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کروڑوں پاکستانیوں سے ملکی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے کی امید کیونکر کی جائے جب وہ بنیادی انسانی ضرورت یعنی خوارک کے حصول سے بھی محروم ہیں۔ شعور کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ کہ آئے روز ہونے والے ٹریفک حادثات میں اپنے پیاروں کو کھونے والے اہل اقتدار سے یہ سوال کرنے میں ناکام ہیں کہ آخر ان وجوہات کو کیونکر دور نہیں کیا جارہا جو سڑکوں پر کثرت سے حادثات کی وجہ بن رہیں۔
اگر وطن عزیز کے باسیوں کی تعلیم حالت یوں ہی رہی تو اس کا امکان کم ہے کہ جاری نظام کے ذریعہ ایسے افراد منتخب ایوانوں میں براجمان ہوجائیں جو حقیقی معنوں میں عوام کا دکھ درد اپنے دل میں رکھتے ہوں۔ دوسری جانب وطن عزیز کی رائج جمہوریت میں اگر حزب اقتدار اپنے فرض ادا نہیں کررہی تو حزب اختلاف بھی ان مسائل کو وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں اٹھا نہیں پائی جو حقیقی معنوں میں عام آدمی کی فلاح وبہود سے متعلق ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ان ایوانوں میں دراصل عوام ہی کا استحصال کرنے کا نت نئے طریقے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ وسیع پیمانے پر ہلاکتوںکا باعث بنے والے حالیہ واقعات پر کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت کے رہنما کا بیان سامنے نہ آنا بے حسی اور لاتعلقی کے اس رویہ کا مظہر ہے جو کئی دہائیوں سے روا رکھا جارہا۔
کسی حقیقی جمہوری معاشرے میں اہل صحافت ریاست کا چوتھا ستون کہلاتا ہے۔ ملک میںالیکٹرانک میڈیا تو نیا ہے مگر پرنٹ میڈیا طویل تاریخ رکھتا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ پرنٹ سے کہیں بڑھ کر زمہ داری اب الیکڑانک میڈیا پر آچکی۔ریٹنگ کی دوڑ میں انھیں ان عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرنا ہے جو اس ملک کی تعمیر وترقی کے لیے لازم ہیں۔ اہل صحافت کو یہ بتانے کی ضرورت نہیںہونی چاہے کہ مہذب معاشرے میں انسانی جان کی حرمت کی کیا اہمیت ہے لہذا ٹاک شوز میں سیاسی تبصروں اور تجزیوں سے بڑھ کر متعلقہ سرکاری محکموں کی ان خامیوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف کئی دہائیوں سے چلی آرہیں بلکہ مستقبل قریب میں بھی ان سے عام آدمی کی جان چھوٹتی نظر نہیں آرہی۔

Scroll To Top