اقتدار پی پی پی کو بھی ہمیشہ فوج نے دلایا ہے 06-01-2010

اقتدار کی طلب ہر ذہن میں ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ طلب صرف جنرل ایوب خان ` جنرل یحییٰ خان ` جنرل ضیاءالحق یا جنرل پرویز مشرف کے ذہن میں ہوتی ہو۔ یہ طلب جناب ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے سول پیشروﺅں کے علاوہ ان کے بعد آنے والے لیڈروں کے ذہن میں بھی تھی اور ہے۔ مثال کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو ` جناب غلام اسحاق خان ` میاں نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری وغیرہ ۔ ضروری نہیں کہ یہ طلب صرف مندرجہ بالا اصحاب اور ان جیسے دوسرے جنرلز اور سیاست دانوں کے ذہنوں میں ہی ہو ` یہ طلب گنگوتیلی ` فتو لوہار اور آپ کے اشاروں پر ناچنے والے چھوٹے سے چھوٹے ملازم کے ذہن میں بھی ہوتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اقتدار بعض لوگوں کی پہنچ سے اتنا ہی دور رہتا ہے جتنا آسمان زمین سے۔ ویسے قدرت چاہے تو گنگوتلی اور فتو ہار بھی اقتداروں کے ایوانوں میں آوارد ہوا کرتے ہیں ۔ آپ آج کی کابینہ کو غور سے دیکھیں۔ آپ کو بہت ساروں پر گنگوتیلی اور فتوہار ہونے کا شبہ ہوگا۔ شاید کچھ سلطانہ ڈاکو بھی نظر آجائیں آپ کو۔
بات صرف موقع ملنے یا موقع پیدا کرنے کی ہے۔ 2007ءکا سورج جب طلوع ہوا تھا تو کیا کوئی نجومی بھی یہ کہہ سکتا تھا کہ جناب آصف علی زرداری پاکستان کے صدر بنیں گے۔؟ اگر کوئی ایسی پیشگوئی کرتا تو لوگ اس کی ہوشمندی پر شبہ کرتے اور شاید اسے اپنے دماغی علاج کا بھی مشورہ دیتے۔
یہ درست ہے کہ اگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا بندوبست نہ ہوا ہوتا تو زرداری صاحب ایوان اقتدار میں موجود نہ ہوتے ` مگر ایوان اقتدار کے دروازے ایسے ہی ” واقعات“ اور حادثات کے ذریعے یا ان کے نتیجے میں کھولے جاتے یا کھلتے ہیں۔
اقتدار تک رسائی کے لئے کبھی بندوق کی طاقت استعمال ہوتی ہے تو کبھی سرمائے کی طاقت ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ فوج نے ہمیشہ پی پی پی کے خلاف ہی اپنی طاقت استعمال کی۔
اگر 1960ءکی دہائی میں کچھ جنرل بھٹو صاحب کی حمایت میں کام نہ کرتے تو پی پی پی کو 1971ءمیں اقتدار نہ ملتا۔
1988ءمیں بھی پی پی پی کو اقتدار جنرل اسلم بیگ کی حمایت سے ملا۔ یہ اور بات ہے کہ 1990ءمیں جنرل اسلم بیگ نے ہی اقتدار سے پی پی پی کی علیحدگی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
1993ءمیں اگر جنرل عبدالوحید خان پی پی پی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار نہ کرتے تو محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم نہ بنتیں۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ فوج کی طاقت دو مرتبہ میاں نوازشریف کے حق میں اور دو مرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے حق میں استعمال ہوئی۔ اور دو دو مرتبہ ہی فوج کا وزن دونوں کے خلاف استعمال ہوا۔
اگر موجودہ دور کو سامنے رکھا جائے تو ” فوجی وزن“ بہرحال پی پی پی کے پلڑے میں ہی پڑا۔ ورنہ صدر زرداری اقتدار پر کیسے قابض ہوتے؟
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ پی پی پی کے پاس اگر فوج سے ناراضگی کے متعدد اسباب ہیں تو متعدد اسباب ایسے بھی ہیںجنہیں مدنظر رکھ کر اسے فوج کا ممنون ہونا چاہئے۔
وقت آگیا ہے کہ اپنی ناکامیوں کا الزام فوج کو اور اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ عوام کو دینے کی عادت ترک کردی جائے۔
عوام ہر صورت میں بچارے بے بس تماشائی رہے ہیں۔

Scroll To Top