ماں کے دودھ میں خطرناک بیکٹیریا کے خلاف کیمیکل دریافت

ماں کے دودھ میں پایا جانے والا ایک مرکب گلائی سیرول مونولوریئٹ بچے کو خطرناک بیکٹیریا، امراض اور اندرونی سوزش سے محفوظ رکھتا ہے۔ فوٹو: فائل

 نیویارک: شیرِ مادر کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اب ماہرین نے اس میں ایک اہم مرکب دریافت کیا ہے جو بچوں کو خطرناک بیکٹیریا سے بچاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ قیمتی مرکب ڈبے کے دودھ کے کسی بھی فارمولے میں نہیں پایا جاتا۔

آئیووا کی نیشنل جیوش ہیلتھ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یہ مرکب نومولود بچوں کو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس مرکب کا نام گلائی سیرول مونولوریئٹ یا جی ایم ایل ہے اور اس کا موازنہ گائے کے دودھ اور پھر ڈبے کے دودھ سے کیا گیا ہے جسے فارمولا دودھ بھی کہا جاتا ہے۔

محققین پر انکشاف ہوا کہ گائے کے دودھ کے مقابلے میں شیرِ مادر میں جی ایم ایل کی مقدار 200 گنا زائد ہوتی ہے جبکہ فارمولہ دودھ میں اس کی معمولی سی مقدار موجود نہیں ہوتی۔ اس کی تفصیلات سائنٹفک رپورٹس نامی تحقیقی جریدے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ انسانی دودھ میں گائے کے دودھ یا کسی بھی فارمولا دودھ کے مقابلے میں خطرناک بیکٹیریا سے لڑنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں موجود جی ایم ایل کیمیکل اسٹیفائیلو کوکس آریئس، بیسی لس سب ٹیلِس، اور کلاسٹریڈیئم پرفرنجنز نامی بیکٹیریا کی افزائش کو روکتا ہے۔ جبکہ گائے کے دودھ یا فارمولے میں یہ صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ماں کے دودھ کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ بچے کےلیے مفید بیکٹیریا اینٹیروکوکس فیسیلس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔

دوسری جانب جی ایم ایل جسمانی سوزش، وائرس کے حملوں اور دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

Scroll To Top