ایک اور پاکستان ! 02-10-2015


نئی دہلی کے قرب و جوار میں ایک عمر رسیدہ مسلمان کو نہایت شقی القلبی کے ساتھ ما ر ڈالنے کا جو واقعہ پیش آیا ہے وہ ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے جو آج بھی لبرلزم اور سیکولرزم کے سحر میں گرفتار ہیں اور کبھی دبے لفظوں میں اور کبھی کھلم کھلا اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم ایک غلطی تھی جس نے اس خطے کے عوام کو بھوک اور افلاس کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ جن اصحاب کا ذکر میں یہاں کررہا ہوں ان کے جسم یہاں پاکستان کی عطا کردہ خوراک سے پلتے ہیں اور دل وہاں (یعنی نئی دہلی میں )اٹکے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کچھ عرصہ پہلے تک بند کمروں میں سرگوشیاں کیا کرتے تھے لیکن ” جمہوریت“ کے حالیہ راﺅنڈ میں انہیں حکمران جماعتوں تک کی سرپرستی حاصل ہوگئی ہے۔ اس ضمن میں یہاں میں جناب نجم سیٹھی اور جناب امتیاز عالم کے نام لینا ہی کافی سمجھوں گا۔
وحشت و بربریت کے جس واقعہ کا ذکر میں کررہا ہوں وہ حال ہی میں نافذ کئے جانے والے اس قانون کے تناظر میں پیش آیا ہے کہ گائے کو ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانا قابلِ سزا جرم ہوگا۔
جس شخص کو بربریت کے ساتھ مارا گیا ہے اس کے بارے میں یہ خبر پھیلی تھی کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت کھایا جارہا ہے۔
اگر یہ واقعہ صرف ایک جنونی ہجوم کا انفرادی فعل ہوتا تو میں اس کا ذکر بھی نہ کرتا۔ لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا نیا قانون جڑا ہوا ہے جو مودی سرکار نے اپنے ” جنونی ہندو ایجنڈے “ کے حوالے سے حال ہی میں نافذ کیا ہے۔
یہاں مجھے قائداعظم محمد علی جنا ح ؒ کے ساتھ مشہور برطانوی محقّق بیورلی نکلز کا وہ انٹرویو یاد آرہا ہے جو 1943ءمیں لیا گیا تھا اور جو بعد میں Verdict On Indiaنامی کتاب میں شائع ہوا۔
بیوررلی نکلز نے قائدؒ سے پوچھا۔ ” آپ پاکستان کیوں بنانا چاہتے ہیں ۔۔۔؟“ ۔
قائد ؒ نے جواب دیا۔ ” اس لئے کہ ہم ایک الگ قوم ہیں۔۔۔“
بیورلی نے پھر پوچھا۔۔۔ ” صرف مذہب کی بنیاد پر ۔۔۔؟“
قائداعظم ؒ نے جواب دیا ۔ ۔۔ ”ہندو گائے کو پوجتے ہیں اور ہم اسے ذبح کرکے کھاتے ہیں۔۔۔؟“
بابائے قوم کے اس جواب نے بیورلی نکلز کو لاجواب کردیا تھا۔
آج میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ” کیا بھارت کے مسلمانوں کو ایک بار پھر ایک اور پاکستان کے قیام کے لئے جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔۔۔؟“

Scroll To Top