انقلاب کے صرف دو راستے

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔

سال ڈیڑھ سال سے انقلاب کا نعرہ پاکستان کی فضاﺅں میں بڑ ے تواتر کے ساتھ گونج رہا ہے۔ سیاست دانوں کی موجودہ نسل کچھ عرصہ پہلے تک ” انقلاب “ کی اصطلاح سے نا آشنا نظر آتی تھی۔ کسی کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوتا تھا تو ہمارے سیاست دانو ں کا ذہن فوراً فرانسیسی انقلاب ` روسی انقلاب اور ایرانی انقلاب کی طرف چلا جاتا تھا۔ وہ فوراً ہی اپنے آپ سے کہہ دیا کرتے تھے۔ ” خدا بچائے ہمیں ایسے انقلاب سے ۔ ہم ویسے ہی ٹھیک ہیں۔“
پھر اچانک انہیں احساس ہوا کہ ایک ” بے جان اور بے ضرر لفظ سے کیا ڈرنا ؟“ اس ایک لفظ کو اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھانے اور ” حالات “ کے مارے ہوئے عوام کی نظروں میں امید کی کرن بننے کے لئے بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے نعرہ ءانقلاب جناب الطاف حسین نے لگایا۔ انہوںنے تو ملک کے جاگیرداروں وڈیروں حکمران طبقوں اور امراءکو یہ انتباہ بھی دے دیا کہ اب تمہارا دور ختم ہونے کو ہے۔ محروم طبقوں کا غیظ و غضب انقلاب کا روپ دھار کر تمہیں واصل بہ جہنم کرکے رہے گا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملک کے محب وطن جنرلوں کو بھی دعوت دے دی کہ خاموش تماشائی کیوں بنے بیٹھے ہو۔۔۔ آﺅ اور انقلاب کی ” موج کو ہ شکن “ پر سوار ہو کر کاخ امراءکے در و دیوار ہلا دو۔۔۔
جناب الطاف حسین کی ” پہل “ دیکھ کر پہلے میاں شہبازشریف اور پھر میاں نوازشریف بھی صدائے انقلاب بلند کرنے کی دوڑ میں شریک ہوگئے۔
مسند اقتدار پر جلوہ افروز اگر کوئی پارٹی انقلاب کی آوازوں میں اپنی آواز ملانے سے گریز کرتی رہی ہے تو وہ پاکستان پیپلزپارٹی ہے۔ اس بات کو ہم ” گردش ِایام “ کی ستم ظریفی ہی کہہ سکتے ہیں کہ جس جماعت کے بانی اور قائد نے پاکستان کی فضاﺅں کو پہلی بار انقلاب کے نعروں سے روشناس کرایا تھا ` اسی جماعت کی موجودہ قیادت کچھ اس کیفیت میں ہے کہ اگر اس کا بس چلے تو ہر ڈکشنری سے یہ لفظ خارج کرا دے۔ اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ جو لیڈر انقلاب کو آواز دینے میں اتنے پرُجوش دکھائی دے رہے ہیں وہ سچ مچ اس بات کے متمنی ہیں کہ ان کی زندگی میں اور ان کی نظروں کے سامنے ” انقلاب کا دلکش تصور “ حقیقت کے سانچے میں ڈھلتا دکھائی دے ۔ وہ جانتے ہیں کہ لفظوں میں جان خود بخود نہیں پڑا کرتی۔ وہ کیوں اپنی صلاحیتیں اور قوتیں خود اپنے خلاف انقلاب بپا کرنے پر صرف کریں گے؟
بات انقلاب کی ہورہی ہے تو عمران خان کا ذکر آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عمران خان نے بھی اپنی پارٹی کو تبدیلی کا نشان بنا کر ہی اپنی سیاسی مہم کے حالیہ دور کا آغاز کیا تھا۔
شرو ع میں وہ انقلاب کا نام لینے سے جھجک رہے تھے ۔ وہ ایک پڑھے لکھے اور با شعور آدمی ہیں اور وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ” انقلاب “ کا مطلب کیا ہے۔ اور ایک ایسے معاشرے میں انقلاب لانا کس قدر محال ہے جس کی باگ ڈور مکمل طور پر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ` انقلاب لانے کے لئے جن کا صفایا کیا جاناناگزیر ہے ۔ دورِ حاضر میں اگر ہم صرف اپنا قومی پس منظر سامنے رکھیں تو انقلاب کی دعوت سب سے پہلے ہمیں علامہ اقبالؒ نے دی تھی۔
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امراءکے در ودیوار ہلا دو !
اسی نظم کے تین اور اشعار بھی یہاں درج کرنا ضروری ہیں۔
” سلطانی ءجمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تجھ کو نظر آئے مٹا دو “
” کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو “
” جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو !“
مندرجہ بالا چار اشعار اقبال ؒ کے تصورِ انقلاب کو پوری طرح واضح کرتے ہیں۔
اس میں اقبال ؒ نے جس ریاست کا نقشہ کھینچا تھا` اس میں اقتدار کا امراءاور پیرانِ کلیسا کے ہاتھوں سے نکلنا انقلاب لانے کی ایک لازمی شرط تھی۔
عمران خان علامہ اقبال ؒ کے شیدائی ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ انقلاب لانے کا دعویٰ کرنا کتنا بڑا چیلنج قبول کرنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شروع میں ” تبدیلی “ کو اپنی منزل بنانے پر اکتفا کیا ۔ مگر آج وہ بھی انقلاب کی بات کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ محض تبدیلی سے انقلاب نہیں آیا کرتا۔ تبدیلی تو 2008ءمیں بھی آئی تھی۔ اور آج جس انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں وہ 2008ءمیں لائی جانے والی تبدیلی کے خلاف ہی ہوگا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ملک اخلاقی معاشی اور معاشرتی طور پر جس شکست وریخت کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے اسے روکنے اور تاریخ کے پہیے کا رُخ واپس اوپر کی طرف کرنے کے لئے محض تبدیلی کا فی نہیں ہوگی۔ اس کے لئے ویسا ہی انقلاب چاہئے جیسا انقلاب کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھا تھا۔
اس انقلاب کو تصور کی دنیا سے نکال کر ایک بے جان لفظ سے ایک متحرک اور قوت آفرین حقیقت بنانے کے صرف دو راستے ہیں۔
پہلا راستہ تو یہی ہے کہ اگلے انتخابات میں کوئی ایک جماعت یا ایک منشور پر پوری طرح متفق کوئی ایک اتحاد دو تہائی اکثریت حاصل کرے اور موجودہ نظام کو تبدیل کر ڈالنے کے لئے اس آئین میں تبدیلیاں لائے جس نے ملک وقوم کو اگر کچھ دیا ہے تو یہی نظام دیا ہے جو ہمیں تباہی اور بر بادی کے راستے پر لے جارہا ہے۔
اگر ایسا ممکن نہ ہوا اور اگلے انتخابات میں بھی ملک کو ایسی ہی حکومت ملتی ہے یا حکومتوں کا ایسا ہی جال ملتا ہے جو اس وقت ہمارا مقدر ہے تو پھر دوسرے راستے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا۔
اور دوسرا راستہ نظریہءضرورت کی واپسی کا راستہ ہوگا۔ اس امید پر کہ اس مرتبہ نظام کی تبدیلی محض ایک نعرہ نہیں ہوگی۔۔۔ اور نظام کو تبدیل اس انقلاب کو دعوت دینے کے لئے کیا جائے گا جس کا انتظار ہر محروم دل کو ہے۔۔۔

Scroll To Top