گایوں پر سفید دھاریوں سے کیڑے مکوڑوں کے حملے 50 فیصد کم ہوگئے

زیبرے جیسی کالی سفید دھاریوں والی گایوں پر کیڑے مکوڑوں کے حملے نصف رہ گئے۔ (فوٹو: پبلک لائبریری آف سائنس ون)

ٹوکیو: جاپان میں جانوروں کے ماہرین نے ایک ڈیری فارم پر گایوں کو کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بچانے کےلیے ان پر سفید پٹیاں بنا دیں۔ حیرت انگیز طور پر، صرف ان سفید پٹیوں کی وجہ سے گایوں پر کیڑے مکوڑوں کے حملے 50 فیصد کم رہ گئے اور زہریلی حشرات کش دواؤں کا استعمال بھی آدھا رہ گیا۔

اس طرح ماحول کو پہنچنے والے نقصان میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ حشرات کش دواؤں کی خریداری پر خرچ ہونے والی رقم بھی کم رہ گئی جس سے ڈیری فارم کا منافع بھی بڑھ گیا۔

یہ دلچسپ تجربہ توموکی کوجیما کی قیادت میں کیا گیا جو ایچی ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر، جاپان میں شعبہ مویشی بانی سے وابستہ ہیں۔ ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیبرے کے جسم پر سفید دھاریاں انہیں خوب صورت بنانے کے علاوہ حملہ آور کیڑے مکوڑوں سے بھی بچاتی ہیں کیونکہ ان دھاریوں سے بہت کم حرارت خارج ہوتی ہے۔ ’’ہم نے سوچا کہ اگر قدرتی ماحول میں یہ تدبیر کارآمد ہے تو کیوں نہ اسے ڈیری فارم میں پالتو گایوں پر آزما کر دیکھا جائے،‘‘ انہوں نے بتایا۔

واضح رہے کہ جاپان میں ایک خاص قسم کی مکھیاں پائی جاتی ہیں جو جانوروں پر حملے کردیتی ہیں۔ ویسے تو یہ پورا سال ہی جانوروں کےلیے اذیت بنی رہتی ہیں لیکن موسمِ برسات اور اس کے بعد والے تین مہینے ایسے ہوتے ہیں جب ان مکھیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ پورا عرصہ مویشیوں اور فارم مالکان کےلیے شدید مصیبت کا باعث ہوتا ہے کیونکہ اس دوران حملہ آور مکھیوں کو مارنے کےلیے بار بار زہریلی حشرات کش دواؤں کا اسپرے کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسپرے مہنگا ہونے کے علاوہ ماحول کےلیے نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔

یہ تمام نکات سامنے رکھتے ہوئے اس تجربے کےلیے انہوں نے ایچی پریفیکچر کے ایک ڈیری فارم سے رابطہ جہاں سیاہ رنگت والی جاپانی گائیں موجود تھیں۔ فارم کی کچھ گایوں پر ایک بےضرر مادّے سے تیار کیے گئے سفید رنگ کی دھاریاں بنا دی گئیں جبکہ کچھ کو یونہی رہنے دیا گیا۔ علاوہ ازیں، تیسرے یعنی ’’کنٹرول گروپ‘‘ میں شامل تمام گایوں کے پورے جسم پر سفید رنگ کردیا گیا۔

یہ تمام گائیں اگرچہ ایک ہی چھت تلے بندھی تھیں لیکن احتیاط کی غرض سے انہیں علیحدہ علیحدہ حصوں میں رکھا گیا۔

کئی دنوں تک ان پر روزانہ چوبیس گھنٹے نظر رکھی گئی اور گایوں پر حملہ آور کیڑوں کے نشانات سے لے کر (کیڑوں کو بھگانے کےلیے) ان کی مخصوص حرکات بھی نوٹ کی جاتی رہیں۔ مطالعے کے اختتام پر ہونے والے دلچسپ انکشافات ہوئے۔

مثلاً وہ گائیں جن کا پورا جسم سفید کردیا گیا تھا، ان پر کیڑے مکوڑوں نے سب سے زیادہ حملے کیے جن کی وجہ سے وہ دوسری گایوں سے زیادہ بے چین بھی رہیں۔ ان کے برعکس وہ گائیں جن پر زیبرے جیسی سفید دھاریاں بنائی گئی تھیں، ان پر کیڑوں نے معمول سے 50 فیصد کم حملے کیے جبکہ ان میں کیڑے بھگانے والی مخصوص جسمانی حرکات بھی معمول سے نصف رہ گئیں۔

ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں توموکی کوجیما کا خیال ہے کہ کالی سفید پٹیوں کی وجہ سے گائے کے جسم سے نکلنے والی گرمی کا انداز بھی بدل جاتا ہے جو حملہ آور کیڑے مکوڑوں کو دھوکا دیتا ہے؛ اور یوں وہ گائے کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ البتہ ابھی اس خیال کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

پاکستان میں اگرچہ سیاہ رنگت والی گائیں تو عام نہیں پائی جاتیں لیکن گہرے بھورے اور کالے رنگ کی بھینسیں ضرور بکثرت ملتی ہیں۔ اس لیے یہ تجربہ پاکستان میں بھی کرلیا جائے تو شاید ملتے جلتے نتائج برآمد ہوں۔

اس دلچسپ تحقیق کی تفصیلات ’’پبلک لائبریری آف سائنس وَن‘‘ نامی تحقیقی جریدے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

Scroll To Top