نواز شریف کو ہمیشہ سمجھایا اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کا فائدہ نہیں ، شہباز شریف

  • مسلم لیگ ن جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائی نقصان اٹھایا،حکومت میں آنے پر نواز شریف کو سمجھایا مشرف کو جانے دیں، احسن اقبال اور پرویز رشید گواہ ہیں ،ان کو یہ بھی کہا کہ اداروں سے الجھنے کے بجائے خدمت پر توجہ دیں
  • شہباز شریف کیپٹن (ر) صفدر کی بیان بازی پر ناراض ، فضل الرحمان کے آزادی مارچ و دھرنے پر ن لیگ دو دھڑوں میں تقسیم، لیگی صدر نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے لیے بھی نہیں گئے

لاہور(الاخبار نیوز) مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کیپٹن (ر) صفدر کی بیان بازی پر ناراض ہوگئے، فضل الرحمان کے آزادی مارچ و دھرنے پر مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کیپٹن (ر) صفدر کی بیان بازی پر ناراض ہوگئے اور نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے لیے نہیں گئے، نواز شریف کو کل کے اجلاس سے متعلق آگاہ کیا جانا تھا اور فہرستیں پیش کرنا تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر نے پارٹی اجازت کے بغیر بیان کیسے دیا۔رپورٹ کے مطابق اجلاس کے اختتام پر شہباز شریف نے کہا کہ آج دل کی باتیں رکھنا چاہتا ہوں، شہباز شریف نے اجلاس کے شرکا کی تنقید پر جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائی نقصان ہوا، نواز شریف کو ہمیشہ سمجھایا اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کا فائدہ نہیں ہے، ان کو سمجھانے کے احسن اقبال اور پرویز رشید گواہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2013 میں حکومت آنے پر نواز شریف کو سمجھایا مشرف کو جانے دیں، ان کو سمجھایا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے الجھنے کے بجائے خدمت پر توجہ دیتے۔مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شرکا کی جانب سے شہباز شریف کو مارچ کی قیادت کا مشورہ دیا گیا، شہباز شریف نے آزادی مارچ کی قیادت سے انکار کرتے ہوئے مارچ کی قیادت کے لیے احسن اقبال کا نام تجویز کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آزادی مارچ کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں کی فہرستیں بنائی گئیں۔

Scroll To Top