آئین کی تلاش

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہنوز ” پاکستان کے تشخص “ کے بھرپور اثبات اور بھرپور دفاع کی جنگ نہیں لڑی گئی۔ ہنوز وطنِ عزیز کے کچھ خطوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اس کے جھنڈے کا احترام نہیں کرتے ` جو اس کی اساس کو تسلیم نہیں کرتے اور جو اس کا ترانہ سننے کے لئے احترام کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔
ان عناصر کے ساتھ ہم نے کیسے نمٹنا ہے اس کا حتمی فیصلہ کرنے کے لئے ہمیں ابراہم لنکن کے امریکہ سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔
اصل بات سے میں ہٹ گیا ہوں۔ مگر یہ سارے موضوع ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اگر ہم قیامِ پاکستان کے بعد اس کے ” نظامِ حکمرانی “ کی تلاش برطانیہ تک محدود نہ رکھتے اور ہم فرانس اور جرمنی سے بلند ابھرنے والے بلند بانگ افکار کا تعاقب کرتے ہوئے امریکہ پہنچتے تو ہمارے لئے ایک ایسے آئین کی دریافت مشکل نہ ہوتی جو بار بار نظریہءضرورت کو دعوت نہ دیتا۔
اصل معاملہ جو طے ہونے والا تھا اور جو قائداعظم ؒ کے ذہن میں 1947ءکے آغاز سے ہی اٹھنے لگا تھا وہ یہ تھا کہ کیاپاکستان جیسا پس منظر رکھنے والا وفاق ایک ایسے نظام کے ذریعے جڑیں پکڑ سکے گا جس میں مقننہ اور انتظامیہ کی چھت ایک ہی تھی۔ قائداعظم ؒ کواندازہ ہوچکا تھا کہ اگرچہ پارلیمانی وجود جمہوریت کے لئے لازمی تھا لیکن انتظامیہ کا انتخاب پارلیمنٹ میں سے کرنا پاکستان جیسے تعلیمی پس منظر اور معاشرتی کردار رکھنے والے ملک کے لئے ایسے لوگوں کی قیادت سے محروم رہنا تھا جن کی اہلیت کے تعین کی کسوٹی انتخابات میں عددی برتری کے سوا اور کوئی نہیں تھی۔
قائداعظمؒ نے ضرور سوچا ہوگا کہ ” آخر کوئی تو وجہ ہے کہ امریکی انتظامیہ میں صرف ایک شخص عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوتا ہے۔ اور وہ صدر ہوتا ہے۔۔۔“ مجھے یقین ہے قائداعظم ؒ نے رُوسو کی تصنیف ” نیا عمرانی معاہدہ “ کا مطالعہ بھی ضرور کیا ہوگا۔
رُوسو کا ذکر اس ضمن میں اس لئے ضروری ہے کہ اسی نے ڈائریکٹ ڈیموکریسی اور اِن ڈائریکٹ ڈیموکریسی کے فرق کو واضح کیا تھا۔
اسی نے کہا تھا کہ پیرس میں جو پارلیمنٹ قائم ہوگی اس کا حصہ بننے والا شخص پانچ سال میں صرف ایک مرتبہ اپنے حلقے کے عوام کو نظر آئے گا۔ اور وہی ایک دن ایسا شمار کیا جائے گا جب عوام محسوس کریں گے کہ ان کے پاس واقعی کوئی اختیار ہے۔ اس اختیار کو استعمال کرنے کے بعد جب وہ پولنگ سٹیشن سے باہر آیا کریں گے توان کے اندر سے یہ آواز ابھرا کرے گی۔بس تمہاری حکومت اس لمحے تک کے لئے تھی۔ اب حکمرانی میں شریک ہونے کا احساس تمہارے اندر پورے پانچ برس بعد پیدا ہوگا۔“
میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ دنیا کے تمام نظاموں کا مطالعہ کرتے وقت قائداعظم ؒ کے دماغ میں بڑے پیچیدہ سوال نہیں ابھریں ہوں گے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر قائداعظمؒ کو زندگی کے بیس پچیس ماہ اور مل جاتے تو وہ ہمیں ایسے نظام کے ساتھ ضرور جوڑ جاتے جس کی موجودگی میں نہ تو کبھی کوئی طالع آزما اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوتا اور نہ ہی قائداعظم ؒ کی کرسی پر ایسے لوگ بیٹھتے جن کی قابلیت اور کردار پر فخر سے سربلند کرنے کے لئے روبوٹ ہونا ضروری ہے۔

Scroll To Top