آئین کی تلاش

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔
یورپی ممالک کو ” ری پبلک “ کا درجہ حاصل کرنے میں صدیاں لگیں۔ بادشاہت کی سب سے بھیانک شکل فرانس میں پائی جاتی تھی۔ اور یہ اتفاق بڑا دلچسپ ہے کہ جمہوری نظام سے منسلک اور منسوب تمام تصورات نے فرانس کی سرزمین پر ہی جنم لیا ۔اور یہیں سے یہ تصورات ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فاﺅنڈنگ فادرز تک پہنچے۔
اٹھارہویں ¾انیسویں اور بیسویں صدی کو تشکیل دینے میں تھا مس مین اور ژاں جیکس رُوسو نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ دو کتابیں اس ضمن میں اس جمہوری تحریک کا سرچشمہ بنیں جس کا سب سے زیادہ طاقتور اظہار امریکی آئین میں ہوا۔ ایک کا نام The Rights of Manیعنی انسان کے حقوق تھا ¾ اور دوسری کتاب New Social Contractیعنی نیا عمرانی معاہدہ تھی۔
دنیا میں ” حاکمیت “ اور اندازِ حکمرانی میں انقلابی تبدیلیاں لانے والے تصورات ان ہی دو کتابوںکے صفحات پر سے اٹھے تھے۔ پہلے ان تصورات نے امریکی آئین کے ایک خالق جیفرسن کی سوچ میں جگہ پائی۔ انہوں نے کہا کہ ” انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور اسے اپنی آزادیوں کی حفاظت کرنے کا پورا پورا حق ہے۔“
یہ فکر ” دی رائٹس آف مین“ میں سے اٹھی تھی۔اس فکر نے جمہوری نظامِ حکومت کو فیصلہ کن طور پر اس نظریے کے ساتھ جوڑ دیا کہ کوئی بھی ایسی حکومت جمہوری نہیں ہوگی جس میں انسان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت موجود نہیں ہوگی۔
اگرچہ جیفر سن نے اس سوچ کا پرچم اٹھارہویں صدی میں بلند کیا تھا مگر امریکی آئین میں شامل کئے جانے کے باوجود اس سوچ کا عملی اظہار0 186ءتک نہ ہوسکا جب ابراہم لنکن نے غلامی کے مکمل خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے جنوب کی ریاستوں کو امریکی آئین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دے دیا۔
یہاں میں علامہ اقبال ؒ کا وہ شعر درج کرنا چاہوں گا جو انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے دورِ زوال کے بارے میں کہا تھا۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
یہ ” خونِ صد ہزار انجم “ سے سحر کے پیدا ہونے کی بات 1860ءکے امریکہ پر صادق بیٹھتی ہے۔ صدر ابراہم لنکن کی قیادت میں امریکہ نے ایک جنگ میں دو جنگیں لڑیں۔ ایک جنگ ” امریکی وفاق “ کے فیصلہ کن دفاع کی تھی اور دوسری جنگ ” انسانی حقوق “ اور امریکی آئین کی بالا دستی کی جنگ تھی ۔اس خونی جنگ میں جتنا خون بہا اس سے پہلے صرف چنگیزی دور میں بہا تھا۔ لاکھوں افراد لقمہءاجل بنے۔ اور سسکیوں اور آہوں کی ان گنت داستانوں نے جنم لیا۔ امریکہ کی اس ” سِول وار “ کا بڑا اثر انگیز نقشہ مارگریٹ مچل نے اپنے ناول Gone With The Windمیں کھینچا جس پر بننے والی فلم ستر برس سے فلمی شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اس خونی جنگ میں انسانی آزادیوں کے تصور¾ امریکہ کے وفاقی تشخص ¾ اور امریکی آئین کی بالادستی کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر لنکن نے کہا۔
” ہمیں ان لاکھوں جانوں کے ضائع ہونے کا بڑا دکھ ہے جو اس جنگ کا ایندھن بنی۔ لیکن اگر یہ خون بہایا نہ جاتا تو ایک امریکی سوچ ¾ ایک امریکی تشخص اور ایک امریکی پہچان کو کامرانی حاصل نہ ہوتی۔ آج میری رائے میں جس امریکہ نے جنم لیا ہے وہ باقی ساری دنیا کے لئے روشنی کا مینار بنے گا۔“
اصولی طور پر یہ بات درست تھی۔
اگر امریکی آئین کی بالادستی اور امریکی تشخص کی وحدت قائم کرنے کے لئے یہ جنگ نہ لڑی جاتی تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا نقشہ کبھی کا ¾ لاطینی امریکہ کے انداز میں تبدیل ہوچکاہوتا۔
)جاری ہے(

Scroll To Top