بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ جب سر پر کھڑی عالمی لڑائی کی گھڑی ٹلی

  • ۔۔پاکستان نے فروری کی27تاریخ کو نئی تاریخ رقم کی
    ۔۔کرہِ ارض کو جزوی یا مکمل تباہی سے بچا لیا۔
    ۔۔پاک بھارت کشیدگی کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر، حل ناگزیر!
    ۔۔بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ، پوری انسانیت کا قاتل بننے کو تیار!
    ۔۔بھارت اور اسرائیل کے تین مزائل حملوں کے جواب میں پاکستان کے9میزائل
    نئی دلی اور تل ابیب کو سبق سکھا دینے کو تیار ہو چکے تھے کہ۔۔۔۔۔

مورخ لکھے گا
پاکستا نے فروری کی27تاریخ کو نئی تاریخ رقم کی۔
تیسری جنگ عظیم کا راستہ روک دیا۔
کرہ ارض کو جزوی یا مکمل تباہی سے بچا لیا۔
اس عظیم کارنامے کا کریڈٹ اور سہرا پاک فوج کے سربراہ جزل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان کی آن بان شان عمران خان کے سربندھتا ہے۔
مورخ لکھے گا
یہ پاکستان ہی تھا جس نے بروقت اور برمحل ، غیر معمولی حد تک تیر بہدف اور موثر دفاعی اقدامات کے ذریعے دشمن کی جارحیت کو اس کے ارتکاب سے پہلے ٹھس کر دیا۔
پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کا یہ دشمن کون تھا یا ہے۔اس موذی کا نام ہے بھارت! جس کے نیتاو¿ں نے آج تک” اکھنڈ بھارت“ کے مکروہ فلسفے کے تحت پاکستان کی حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کیا اور اسی ناطے وہ اسے کمزور، لاغر اور ادھورا رکھنے کے درپے ہے۔ کشمیر پر بھارت کا ناجائز، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی متفقہ قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
پچھلے71سال میں اسی مسئلہ کشمیر کے سوال71,65,48-47اور 99 میں دونوں ممالک کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ اور مقبوضہ کشمیر و آزادی کشمیر کے مابین ایل او سی یعنی خط متارکہ جنگ پر بھارتی فوجی دراندازی تو روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ اس بھارتی جارحیت کے باعث سرحد کے دونوں اطراف قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا اتلاف نہ صرف دونوں ممالک کے عوام بلکہ عالمی رائے عامہ کے لئے بھی سوہان روح بن چکا ہے۔
اس کیفیت کو بھارتی مقتدر بدمعاشیہ نے اپنے اندرونی سیاسی مقاصد اور مفادات کے حصول کا ایک مستقل وطیرہ بنا رکھا ہے۔ چنانچہ جونہی کسی بھارتی حکومت کو اپنے کسی غلط فیصلے یا کسی درپیش چیلنج کے حوالے سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانی ہوتی ہے یا اس درپیش چیلنج کو اپنے مفاد ات سے ہم آہنگ بنانا ہوتا ہے تو وہ کسی نہ کسی طور کشمیر ایشو یا پاکستان دشمنی کا پٹ سیاپا شروع کر دیتی ہے۔ اور اب چونکہ بھارت میں 11اپریل سے19مئی تک عام انتخابات کا یُدھ شیڈول ہو چکا ہے تو مودی سرکاری نے اپنی جنتا کا حکومتی ناکامیوں پر موجود غم وغصہ تحلیل کرنے کی غرض سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا پاکھنڈ کھڑا کر دیا ہے۔ اس ضمن میں 14فروری کے پلوامہ ڈرامہ کو ایک بہانہ اور حربہ بنا کر 26فروری کی شب پاکستان کی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے دو مگ 21لڑاکا طیاروں نے بالا کوٹ کے جنگ میں بم گرا دیئے مگر جونہی پاکستان کے جنگی طیاروں کی بھنک پڑی تو اپنا سرا ”پے لوڈ“ زمین پر پھینک کر رفوچکر ہوگئے۔
اگلے روز27فروری کو پاکستانی طیاروں نے جوابی کارروائی کی اور پانچ بھارتی تنصیبات کو ”لاک“ کرتے ہوئے دانستہ طور پر ان کے قرب و جواب میں بم گرائے، مقصد کوئی جانی یا مالی نقصان ہرگز نہ تھا بس بھارت کو یہ جتلا دینا مقصود تھا کہ پاکستان کے پاس ہر جارح کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اس کے جواب میں بھارت نے ایک بار پھر دو 21مگ لڑاکا طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے جنہیں پاکستان کے دو بہادر مجاہدوں ونگ کمانڈر نعمان خان اور ونگ کمانڈر حسن صدیقی نے فضا میں مار گرایا۔ ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر بھی نندن گرفتار کر لیا گیا۔بھارت کی اس سُبکی نے ملکی رائے عامہ کے ایک بڑے حصے کو مودی سرکار سے بد ظن کر کے رکھ دیا۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ”ر“ کے مطابق پاکستان کے ہاتھوں دو بھارتی لڑاکا طیاروں کی تباہی اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کے واقعے پر کلکتہ، نئی دلی، گجرات، بہار، ممبے اور دیگر شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور یوں آن واحد میں پاکستان پر حملے کے زعم میں پیش آمدہ انتخابات میں کامیابی کا سارا خواب کرچی کرچی ہوتا دکھائی دیا تو مودی سرکار نے عجلت میں پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے اب کی بار زیادہ مہلک ہتھیارون کے ساتھ حملے کی ٹھان لی۔
اگلے دوتین گھنٹوں کے دوران بھارت نے اسرائیل اور دو اور ملکوں کی ملی بھگت کے ساتھ پاکستان کے خلاف میزائل اٹیک کا منصوبہ بنا ڈالا۔ راجستھان کے ایک مقام پر تین میزائل نصب کر دیئے گئے۔ جنہیں کراچی ، حیدر آباد اور کسی تیسرے مقام پر ہماری عسکری تنصیبات کو ہٹ کرنا تھا۔
پاکستان کی قابل قدر اور مشہور زمانہ آئی ایس اائی نے اس پیشِ رفت کافی الفور سراغ لگا لیا اور پھر پاکستان نے اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے تل ابیب سمیت بھارت کے 9مقامات کو اپنے جدید ترین میزائلوں کے ہدف پر رکھ دیا۔ اسی دوران واشنگٹن، تل ابیب، ماکسو، ریاض، بیجنگ، اور نئی دلی میں گویا بھونچال آگیا۔۔(جاری ہے)

Scroll To Top