ایک حساب کتاب وہ ہے جس کی مہارت ہم اِس دنیا میں حاصل کرتے ہیں اور ایک وہ جو اُس دنیا میں ہونا ہے 24-09-2015


اے اللہ ہم تیرے حضور حاضر ہیں ۔۔۔
مکہ معظمہ سے منیٰ تک اور منیٰ سے عرفات تک آسمانوں میں گونجنے والی یہ صدا اس غیر فانی حقیقت کا واشگاف اثبات ہے کہ آنحضرت کی امت کرہءارض پر موجود ہے ۔۔۔ زندہ ہے۔ اور اس کے اندرکہیں نہ کہیں یہ احساس موجود ہے کہ ہمارے اندر سونے کے برتنوں میں کھانا کھانے والے زمینی بادشاہ بھی ہوں گے اور ایک ایک نوالے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے بے بس بے کس اور مفلس لوگ بھی۔۔۔ لیکن ہماری آخرت یہی ہے کہ ہم سب نے ایک روز سارے جہانوں کے خالق و فرماں روا کے سامنے پیش ہونا ہے۔۔۔ اور اپنے اپنے اعمال کا حساب دنیا ہے۔
ہم میں بہت سارے ایسے ہیں جنہیں حساب کتاب میں مہارت حاصل ہے اور جو حساب کتاب کے علاوہ اور کچھ جانتے ہی نہیں۔۔۔ مثال کے طور پر جناب اسحق ڈار ۔۔۔ ذرا اوپر جائیں تو میاں نوازشریف، میاں شہبازشریف اور جناب آصف علی زرداری۔
لیکن جو حساب کتاب اللہ کے حضور پہنچ کر ہوگا اس کا حال جاننا ہے تو سورہ الواقعہ پڑھ لیں۔ جان لیں کہ دائیں جانب کون جائیں گے اور بائیں جانب کون جائیں گے۔ جہنم کی آگ کن لوگوں کی منتظر ہے اور جنت کے دروازے کن لوگوں پر کھلیں گے۔
آج جب کہ میں یہ الفاظ قلمبند کررہا ہوں لاکھو ں فرزندانِ توحید و رسالت میدان عرفات میں اپنے رب سے گڑ گڑاگڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہے ہیں۔
فضاﺅں میں ایک ہی آواز گونج رہی ہے ۔۔۔
” اے اللہ ہم تیرے حضور حاضر ہیں ۔۔۔“
یہ آواز مجھے سولہ برس پیچھے لے جارہی ہے جب میں نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ حج کیا تھا۔ اُس روز میں جس کیفیت سے گزرا اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ آج میرا منجھلا بیٹا آفتاب اکبر اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ اسی کیفیت سے گزر رہا ہوگا۔
میں وہ دُعا اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہ رہا ہوں جو اُس روز میں نے سب سے زیادہ خضوع و خشوع کے ساتھ مانگی تھی۔
”اے رب میں جانتا ہوں کہ میرے اندر ہر لحظہ گناہ پلتے رہتے ہیں۔ مجھے اُس طاقت سے کبھی محروم نہ کرنا جو مجھے اپنے اندر پلنے والے گناہوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ مجھے بس اُس وقت تک زندہ رکھنا جب تک میرے اندر وہ طاقت زندہ ہے۔“
آج بھی جب میرے اندر کا شیطان مجھے بہکانے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے اپنی وہ دُعا یاد آتی ہے۔
ہم کس قدر خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی امت میں پیدا کیا۔
ہمارے سامنے توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ اپنی ہر توبہ کے باوجود ہمیں اپنے رب سے اس کی اضافی رحمت مانگنی چاہئے۔ توبہ ہمارے گناہوں کو اس لئے نہیں دھوڈالتی کہ ہم اس کے مستحق ہوتے ہیں۔ توبہ ہمیں اس لئے گناہوں کے بوجھ سے آزادی عطا کرتی ہے کہ ہمارے پیار ے نبی کا رب رحیم و کریم ہے، غفور و رحمان ہے۔۔۔

Scroll To Top