قابلِ رشک کامیابیاں ` ناقابلِ رشک دشمنیاں

کچھ بہت سستے بکے۔۔۔ کچھ بہت مہنگے بکے۔۔۔ کچھ قسطوں میں بکے۔۔۔ کچھ یکمشت بکے۔۔۔ کچھ بکتے بکتے رہ گئے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو بکے ہی نہیں۔۔۔ خریدار کا نام ملک ریاض ہے۔۔۔
میں خود کو ملک ریاض کے مداحین میں شمار کرتا ہوں۔۔۔ انہیں پاکستان کی تاریخ میں دو ” شرف“ حاصل ہیں۔۔۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے ملک کا سب سے مقبول کامیاب اور قابلِ ستائش ” برانڈ“ تخلیق کیا ۔۔۔ دنیا اس برانڈ کو بحریہ ٹاﺅن کے نام سے جانتی ہے۔۔۔ ملک ریاض کو دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس بزنس مین نے ملک کے ایک نہایت اہم شعبے میں تاریخ رقم کی ہوگی ۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ 13برس پہلے ملک ریاض سے ایک ملاقات میں میں نے پوچھا تھا ۔۔۔” ملک صاحب ۔۔۔ یہ جو پروجیکٹ درپروجیکٹ آپ اناﺅنس کئے جارہے ہیں انہیں مکمل کون کرے گا۔۔۔؟“
جواب تھا۔۔۔ ” اللہ تعالیٰ“۔۔۔
تب سے اب تک کے ملک ریاض میں کئی مزید کامیابیوں کا فرق ہے۔۔۔
یہ کاروبار ایسا ہے کہ اس میں میزان سیدھی رکھنا ناممکن ہے۔۔۔ پاکستان میں جو بھی کاروبار ” میزان“ کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا ۔۔۔” داخل دفتر“ ہوجائے گا۔ ۔۔ ملک ریاض میں فرشتوں جیسی صفات ہرگز نہیں ہیں مگر وہ شیطان بھی نہیں ہیں۔۔۔ اگر ہوتے تو اتنے سارے ریٹائرڈ جرنیل ان کے پے رول پر نہ آتے۔۔۔
یہاں میں اُن کے دوسرے ” شرف“ کا ذکر کروں گا۔۔۔
انہیں ہمیشہ سے بلیک میلروں کے نشانے پر رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔۔۔ اگر وہ اب تک پانیوں میں پیراکی کرتے نظر آرہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ” رئیل اسٹیٹ ڈیولپر“ تو یقینا باکمال ہیں مگر خریدار بھی برے نہیں۔۔۔

Scroll To Top