داستان خاک شدہ آرزوﺅں کی

جب” ون نیشن موومنٹ“ کا تصور اور خاکہ میرے ذہن میں آیا تھا تو میرے مضامین کا ایک سلسلہ کالموں کی صورت میں شائع ہوا تھا جسے میں متذکرہ تحریک کا منشور سمجھتا ہں۔ مضامین کے اس سلسلے کی دوبارہ اشاعت موجودہ حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین کو آگہی حاصل ہوجائے گی کہ ” ون نیشن موومنٹ“ کا مقصد اور مطلب کیا ہے۔۔۔غلام اکبر۔۔۔
اگرچہ یہ کہانی میری ہی ہے ` مگر میں جانتا ہوں کہ یہ صرف میری کہانی نہیں ` میرے ان کروڑوں ہم وطنو ںکی کہانی بھی ہے جنہوں نے 1947ءمیں آگ اور خون کے ایک لرزا دینے والے کھیل کے دوران اس آرزو کا پوداسرزمینِ پاک میں لگایا تھا کہ اس دیس کی فضاﺅں سے انقلاب کی صداﺅں کی گونج اتنی بلندیوں تک جائے گی کہ خدائے بزرگ و برتر کی بے پایاں رحمتیں جوش میں آئے بغیر نہیں رہیں گی۔
” لے کر رہیں گے پاکستان “ کے نعروں کی جگہ اب ایک نیا نعرہ فرزندانِ ملتِ پاک کے دلوں کی دھڑکن بن گیا تھا۔
” پاکستان کا مطلب کیا۔ لاالہ الا اللہ۔۔۔ “
کوئی معبود نہیں اللہ کی ذات کے سوا۔ کوئی حاکم نہیں خدائے بزرگ و برتر کے علاوہ ۔
مجھے اس بات میں ذرابرابر بھی شک نہیں کہ بابائے قوم اپنے پاکستان کو ایک ایسی ہی جنت بنانا چاہتے تھے جہاں کوئی بھی سر حقیقی خدا کے علاوہ کسی کے سامنے نہ جھکے۔ کوئی بھی جبیں حرص و ہوس ` ظلم اور بے انصافی اور نفرت و حقارت کے جھوٹے خداﺅں کے قدموں میں سجدہ ریز نہ ہو۔
یہ اور بات ہے کہ قدرت کوکچھ اور منظور تھا۔
منشائے ایزدی اس قوم کو امتحانوں میں سے گزارے بغیر سرفرازی اور سربلندی کی منزل تک نہیں لے جانا چاہتی تھی۔
قائداعظم ؒ وطنِ عزیز کے کروڑوں باسیوں کو اشکبار کرکے چلے گئے اور جس خطہ ءارض کو خدا کی حاکمیت کا نمونہ بننا تھا وہ حرص و ہوس ` ظلم و بے انصافی ` نفرت و حقارت اور موقع پرستی اور ابن الوقتی کے دیوتاﺅں اور ان کے پجاریوں کی شکار گاہ بن کر رہ گئی۔
بابائے قوم کی رحلت کے وقت میری عمر صرف نو برس تھی۔ اور میرا ” قومی شعور “ ہنوزبیدار نہیں ہوا تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ جس نسل کا قومی شعور تب پوری طرح بیدار تھا اور جس کے سینے میں وطنِ عزیز کو ” حاکمیت ِخداوندی کا نمونہ “ بنتے دیکھنے کی آرزو موجزن تھی ` وہ نسل اب اس دنیا سے یا تو رخصت ہوچکی ہے `یا پھر اس کی آنکھیں بند ہونے کو ہیں۔ اسے اپنی ” آرزو“ کا قتل دیکھتے چلے جانے کی تقدیر سے نجات مل چکی ہے۔
مگر وہ نسل جس کا نمائندہ میں ہوں اور جس نے ” لے کر رہیں گے پاکستان “ کے نعرے اپنے عہدِ طفولیت میں لگائے تھے ` وہ نسل ہنوز اِس انتظار کے کرب میں مبتلا ہے کہ جو خواب پاکستان کے فاﺅنڈنگ فادرز اور ان کی آواز کو لبیک کہنے والی نسل نے دیکھا تھا وہ خواب اس کی زندگی میں اپنی تعبیر اور تکمیل پائے۔
مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ میں ایک سربلند پاکستان کے آفتابِ اقبال کو دنیا کے آسمان پر جلوہ افروز دیکھنے کی سعادت پائے بغیر اس فانی دنیا سے رخصت ہونا نہیں چاہتا۔ اور تلخ زمینی حقائق کی سفاک یلغار کے باوجود مجھے اس بات کا قوی یقین ہے کہ وہ دن زیادہ دور نہیں۔۔۔اور وہ دن میری زندگی میں ہی آئے گا ۔۔۔جب پاکستان عالمِ اسلام کے لئے روشنی کا مینار بننے کی منزل کی طرف پہلی بڑی جست لگائے گا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ معجزہ کیسے رونما ہوگا ۔ مگر یہ یقین میرے اندر کی گہرائیوں تک گڑا ہوا ہے کہ یہ معجزہ رونما ہوگا ضرور۔
میں جب ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوئے بغیر نہیں رہتی کہ یہ یقین مجھے اپنے ” عہدِ شعور“ کے ہر دور میں رہا۔
میرا عہدِ شعور کب شروع ہوا ؟
جب پہلی بار میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ” تم پاکستانی اس لئے ہو کہ تم مسلمان ہو۔تمہاری مسلمانی ہی تمہارے پاکستانی ہونے کی دلیل ہے۔ اور چونکہ تم مسلمان ہو اس لئے صرف پاکستان تمہار ا دیس نہیں ` ہر وہ دیس تمہارا دیس ہے جس کی فضاﺅں میں تکبیر کی اذانیں گونجتی ہیں۔“
مجھے یاد ہے کہ جب مصر کے قائد جمال عبدالناصر نے ” نہرسویز“ کو قومیانے کا اعلان کیا تھا تو میں اور میرے دوستوں نے ایک انداز کا ” جشنِ انقلاب“ منایا تھا ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا تھا کہ ” غلام اکبر امتِ محمدی میں دشمن کو للکارنے کا حوصلہ بالآخر پیدا ہوچکا ہے۔“
پھر مجھے وہ صبح بھی یاد ہے جب میں نے بیدار ہوتے ہی یہ خبر سنی اور پڑھی تھی کہ ”عبدالکریم قاسم نے بغداد کی برطانیہ نواز بادشاہت کا تختہ الٹ دیا ہے۔“
وہ صبح بھی میرے اور میرے دوستوں کے لئے ” صبحِ انقلاب “ تھی ۔ یہ 14جولائی 1958ءکی بات ہے۔ میں اس جشن کو بھول نہیں سکتا جو ہم نے اس روز منایا تھا۔ اِس ادراک کے ساتھ کہ عالم ِاسلام میں سوئی ہوئی امنگوں کے جاگ جانے کا وقت آچکا ہے۔
اسی سال 7اکتوبر 1958ءکو پاکستان میں مارشل لاءلگا تھا اور اس دیس کی فضاﺅں میں پہلی بار ایک فوجی حکمران کی آواز گونجی تھی۔۔۔(جاری ہے)

Scroll To Top