ڈائنوسار کا شکار کرنے والے مگرمچھ جیسے جانور

جب تک یہ زمین پر موجود رہے، تب تک ڈائنوسار بھی ان سے چھپ کر رہتے تھے۔ (فوٹو: یونیورسٹی آف وٹواٹرز رینڈز)

شکاری اور گوشت خور جانوروں کا یہ گروہ ’’رائیسوچیان‘‘ (Rauisuchians) کہلاتا ہے جو آج سے تقریباً 25 کروڑ سال پہلے نمودار ہوا اور 20 کروڑ سال پہلے ناپید ہوگیا۔ اگرچہ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے جانوروں کو گوشت خور ہی سمجھا جاتا تھا لیکن یہ خیال عام تھا کہ شاید یہ دوسرے مرے ہوئے جانوروں کا گوشت کھا کر اپنا پیٹ بھرتے ہوں گے۔

لیکن اب جوہانسبرگ، جنوبی افریقا کی یونیورسٹی آف وٹواٹرز رینڈز کے فریڈرک ٹولکارڈ نے رائیسوچیان کے رکازات (فوسلز) کا نئے سرے سے معائنہ کرکے دریافت کیا ہے کہ ماضی کے یہ مگرمچھ نما جانور نہ صرف گوشت خور تھے بلکہ شکاری بھی تھے۔

ٹولکارڈ نے اس مقصد کے لیے رائیسوچیان کے دستیاب رکازات میں بطورِ خاص دانتوں، جبڑوں کے ٹکڑوں، پچھلے جسمانی اعضا اور ان کے جسموں پر منڈھے ہوئے مضبوط حفاظتی خول (باڈی آرمر) کی باقیات کا جائزہ لیا؛ اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ باقیات ایک ایسے جانور کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جو شکار کرکے گوشت کھانے والا رہا ہو۔

مذکورہ تحقیق کے دوران رائیسوچیان کی دو انواع کے رکازات کا مطالعہ کیا گیا، جو تقریباً 10 میٹر اونچائی کی حامل تھیں۔ مگرمچھ جیسے یہ خونخوار جانور، سبزہ خور ڈائنوسار کا شکار کرتے تھے جبکہ موجودہ ممالیوں کے آبا و اجداد سمجھے جانے والے قدیم جانور بھی ان کی غذا بنتے رہتے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک یہ زمین پر موجود رہے، تب تک دنیا میں ان ہی کا راج رہا۔ البتہ، آج سے 20 کروڑ سال پہلے ان کی معدومیت کے بعد سے زمین پر ڈائنوساروں حکمرانی کا آغاز ہوا جو 6 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے تک جاری رہا… اور پھر جب ڈائنوسار صفحہ ہستی سے مٹ گئے تو پھر ممالیہ کو عروج حاصل ہوا جو آج تک جاری ہے۔

Scroll To Top