عمر بڑھنے کے ساتھ خود پسندی کا خاتمہ ہوجاتا ہے

نرگسیت کوئی باقاعدہ نفسیاتی بیماری تو نہیں لیکن اسے پریشان کن نفسیاتی مسئلہ ضرور سمجھا جاتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

واضح رہے کہ حد سے زیادہ خود پسندی کو نفسیات کی زبان میں ’’نرگسیت‘‘ کہا جاتا ہے، جو لوگوں کی پیشہ ورانہ زندگی سے لے کر ان کے ذاتی اور سماجی تعلقات تک پر اثر انداز ہو کر کئی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اگرچہ اب تک نرگسیت کو باقاعدہ طور پر نفسیاتی بیماری تو قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اسے ایک پریشان کن نفسیاتی مسئلہ ضرور سمجھا جاتا ہے۔

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو لوگ ابتدائی عمر میں نرگسیت کے شکار ہوتے ہیں، وہ مرتے دم تک اس میں مبتلا رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے اذیت کا باعث بنتے رہتے ہیں تاہم اب ایک نئے مطالعے سے اس خیال کی نفی ہورہی ہے۔

یونیورسٹی آف الینوئے میں نفسیات کے پروفیسر برینٹ رابرٹس اور ان کے ساتھیوں نے 237 رضاکاروں کا مطالعہ کیا ہے جو 18 سال کی عمر میں شدید نرگسیت کے شکار تھے لیکن اب وہ 41 سال کے ہوچکے ہیں۔ یہ تمام رضاکار اپنے لڑکپن میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلے کے طالب علم تھے۔

تمام رضاکاروں میں نرگسیت سے متعلق تین علامات کا بطورِ خاص جائزہ لیا گیا: اپنے قائد ہونے پر یقین؛ ہر معاملے میں اپنے درست ہونے کا یقین؛ اور حد سے زیادہ احساسِ تفاخر۔

ان تینوں علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے جب ان رضا کاروں سے تفصیلی سوالنامے بھروائے گئے تو معلوم ہوا کہ ان میں سے صرف 3 فیصد افراد ایسے تھے جن میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ نرگسیت میں اضافہ ہوا تھا جبکہ صرف چند ایک میں نرگسیت ویسی ہی رہی تھی جیسی ابتدائی عمر میں تھی۔

باقی تمام رضاکاروں میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خود پرستی کے احساس میں نمایاں کمی ہوئی تھی، جو بلاشبہ ایک اچھی خبر ہے۔

علاوہ ازیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لوگ جن میں ابتدائی عمر کے دوران نرگسیت شدید تھی، ان کے سماجی تعلقات بھی پریشان کن رہے جبکہ ان میں طلاق کا رجحان بھی زیادہ تھا۔ البتہ 41 سال کی عمر میں ان کی صحت ضرور بہتر تھی۔

لڑکپن اور نوجوانی میں صرف اپنی رائے کو درست سمجھنے والوں کی اکثریت 41 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنی صحت متاثر کرچکی تھی جبکہ وہ اپنی زندگی سے بھی مطمئن نہیں تھے۔

ماضی میں کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ نرگسیت کی علامات میں عمر بڑھنے کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے، لیکن تازہ تحقیق کے نتائج اس کے برخلاف ہیں۔ ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو پچھلی تحقیق کے نتائج غلط تھے یا پھر نرگسیت میں قائدانہ صلاحیت والے نکتے کے بارے میں ہمارے مشاہدات غلط ہیں،‘‘ رابرٹس نے کہا۔ اب وہ نرگسیت کے بارے میں مزید چھان بین اپنی آئندہ تحقیقات میں کریں گے۔

اس مطالعے کی تفصیلات اور نتائج ’’جرنل آف پرسنیلٹی اینڈ سوشل سائیکولوجی‘‘میں آن لائن اشاعت کے لیے منظور کی جاچکی ہیں۔

Scroll To Top