کل کی بات۔۔۔29-09-2019۔۔۔غلام اکبر۔۔۔ مشتاق منہاس سے عرفان صدیقی تک کا سفر 04-09-2015

 

میں بِک جانے والے یا بِکے رہنے والے صحافیوں کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔ ایسے صحافیوں کی اکثریت کھاتے پیتے گھرانوں سے نہیں آتی۔ ” کھاتے پیتے “ کی ترکیب میں جن معنوں میں استعمال کررہا ہوں آپ کی سمجھ میں آگئے ہوں گے۔ ان ” کھاتے پیتے “ گھرانوں میں بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ” کھاتے “ بھی ہیں اور ” پیتے “ بھی ہیں۔ اُن کے چشم و چراغ صحافت سے کوئی دلچسپی رکھ ہی نہیں سکتے کہ ان کی ساری توجہ اپنی ” وراثت“ پر ہوتی ہے۔
صحافت کا رخ کرنے والے اکثر لوگ یہ احساس لے کر ” جواں “ ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی خود بنانی ہے۔
صحافت انہیں اس احساس کی تکمیل کا موقع یوں فراہم کرتی ہے کہ ان میں جو ذرا سی بھی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں بڑے بڑے لوگو ںکے ساتھ مصافحہ کرنے اور شرفِ گفتگو حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور ملتا رہتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے آج یہ موضوع کیوں چھیڑا ہے تو وجہ بتائے دیتا ہوں ۔ گزشتہ شب مجھے کاشف عباسی کے پروگرام میں مشتاق منہاس کو دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔
کاشف عباسی کو بیک وقت مظہر عباس اور مشتاق منہاس کی باتوں کا جواب دینا پڑرہا تھا۔ مظہر عباس کا کہنا یہ تھا کہ اگر ملک ٹوٹ بھی جائے تو بھی ” آئینی تقاضوں “ پر حرف نہیں آنا چاہئے ۔ یہ بات انہوں نے کھل کر تونہیں کہی لیکن الیکشن کمیشن کے محترم مگر متنازعہ ارکان کی مدتِ ملازمت کا دفاع وہ جس شدت کے ساتھ کررہے تھے اس کامطلب یہی نکلتا تھا۔
مشتاق منہاس کی توسیدھی سادی منطق یہ تھی کہ میاں نوازشریف کبھی غلط کیسے ہوسکتے ہیں ۔ اور فوجیوں کی کیا مجال کہ وزیراعظم کی اجازت کے بغیر اپنی وردیوں کی کریز بھی ٹھیک کریں!
میں نے مشتاق منہاس کو کافی عرصے کے بعد دیکھا۔ آخری مرتبہ میں نے انہیں ہوائی جہاز میں میاں نوازشریف کے کان میں کچھ کہتے دیکھا تھا۔ ٹی وی پر آخری مرتبہ جب میں نے انہیں دیکھا تھا تو کہہ رہے تھے کہ اگر عمران خان کی بیماری سے جان چھوٹ جائے تو یہ ملک ترقی کرسکتا ہے اور قوم کی صحت بحال ہوسکتی ہے!
2ستمبر کی رات کو بھی وہ یہی بات کہنے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔ لیکن کاشف عباسی کا موضوع کچھ اور تھا۔
مسلم لیگ )ن(کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ مشتاق منہاس قسم کے صحافیوں کی کھیپ ہمہ وقت تیار رکھتی ہے۔ کچھ خوش قسمت ترقی کرتے کرتے عرفان صدیقی بن جایا کرتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top