ساتویں صدی سے بیسویں صدی تک ایک عہد ساز امت کی کہانی (حصہ دوم)

پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو اس عظیم کلب میں شامل ہوتے ہوتے رہ گئے۔ ان کی کرشماتی قیادت نے انقلاب کی ایک تحریک کو جنم تو ضرور دیا اور آگے بھی بڑھایا لیکن ان کا ” وژن“ بس یہاں تک ہی محدود تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں سے جلائے ہوئے چراغوں کو طوفانوں سے بچانے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ چراغ بھی انہوں نے خود جلائے اور انہیں گل کردینے والے طوفان بھی خود کھڑے کئے۔
بہرحال ان کی سحر انگیزیوں سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔ ان کی ذات میں لیاقت کا ایندھن ضرور موجود تھا مگر اس ایندھن کو ایسی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ان میں مفقود تھی جو ملکوں اور معاشروں کو آگے کی طرف دوڑالے جایا کرتی ہے۔ ایسا کیوں تھا ؟ اس سوال کا ایک ہی جواب میری سمجھ میں آتا ہے ۔ ان کی ذات اخلاقی اقدار سے ملنے والی توانائی سے عاری تھی۔
عجیب بات یہاں یہ ہے کہ بھٹو کے دور کے بعد عظیم قیادتوں کی داستان یکایک دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ چین میں ماﺅزے تنگ کی فراہم کردہ قیادت کا تسلسل ضرور ملتا ہے۔ مگر باقی دنیا میں اور کوئی نام ہمیں نظر نہیں آتا جسے ہم تاریخ ساز قیادتوں کی کلب میں شامل کرسکیں۔ مجھے یہاں فرانس کے چارلس ڈیگال کا ذکر ضرور کردینا چاہئے مگر ان کا دور بھی 1960ءکی دہائی کے وسط تک قائم رہا۔
مجھے یاد ہے کہ 1980ءکی دہائی کے آخر میں ہفت روزہ ٹائم نے ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ” بڑے لیڈروں کا دور اختتام پذیر ہوچکا۔ اب انسانی تہذیب مختلف امور میں مہارت رکھنے والے پیشہ ور منتظمین یا منیجروں کے عہد میں داخل ہوچکی ہے۔ اب ڈینگ تو پیداہوتے رہیں گے مگر ماﺅ شاید کبھی پیدا نہ ہو۔۔۔“
میں اس نقطہءنظر سے اتفاق نہیں کرتا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عہد اپنی ضرورت کے مطابق اپنا مسیحا پیدا کرلیا کرتا ہے۔
یہاں میں امریکہ کی مثال دوں گا۔
امریکہ نے ابراہم لنکن کے بعد کوئی تاریخ ساز قیادت پیدا ہی نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ کے اپنے اندر قوت اور توانائی کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود رہا کہ اسے کسی مسیحا کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ 1860ءکے زمانے میں امریکہ اپنی ریاستی شناخت کھو دینے کے بحران میں مبتلا تھا کہ ابراہم لنکن نے اسے تاریخ ساز قیادت فراہم کی۔ جنوب پر فیصلہ کن یلغار کرنے کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ ابراہم لنکن نے یہ ” اندرونی جنگ “ اگر فیصلہ کن انداز میں نہ لڑی ہوتی تو امریکہ کبھی سپر پاور نہ بنتا۔
اس موضوع کو آگے بڑھانے کے لئے صفحات در صفحات درکار ہیں مگر میرا مقصد یہاں صرف اپنا یہ موقف بیان کرنا ہے کہ بڑی تبدیلیاں ” عوامی شعور “ سے نہیں ” عہد آفرین قیادت “ سے رونما ہوا کرتی ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ” عوامی شعور “ بیدار ہونے کے لئے کسی نہ کسی قیادت کا منتظر یا مرہون منت رہتا ہے۔
میں نے اپنی اس سوچ کی وضاحت کے لئے بیسویں صدی کی قیادتوں کو سامنے اس لئے رکھا ہے کہ ساتویں صدی کے بعد تاریخ میں کبھی کسی صدی نے ایک ساتھ اتنی عہد آفرین قیادتیں فراہم نہیں کیں۔
آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ساتویں صدی کا ذکر میں نے کس حوالے سے کیا ہے۔ 622 میں پیغمبرﷺ اسلام نے مکہ سے مدینہ تک کا وہ عظیم سفر اختیار کیا جسے ہجرت کہتے ہیں او ر جس نے ربع صدی کے اندر اندر دنیا کا نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا۔
یہ پوری صدی اسلامی فتوحات کی صدی تھی۔ اگر یہ کہاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ صدی انسانی تہذیب کی تاریخ میں گلوبلائزیشن (Globalizaion)کی پہلی صدی تھی۔
اس گلوبلائزیشن کے پیچھے اگرچہ اسلامی نظام کی آفاقیت کا تصور تھا لیکن کیا اس تصور کا آفاقی بن جانا آنحضرتﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے ابھرنے والی انقلاب انگیز قوتِ آفرینی کے بغیر ممکن ہوتا۔؟
دنیا آج جہاں کھڑی ہے وہاں اسے حضرت ابراہیم(علیہ السلام) ، حضرت موسی ٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدﷺ نے پہنچایا ہے ۔یہ رجالِ عظیم محض پیغمبران ِ خدا نہیں تھے، خلقِ خدا کو اخلاقی , روحانی , عمرانی , معاشی معاشرتی اور سیاسی قیادت فراہم کرنے والے عظیم لیڈر بھی تھے۔
حضرت محمدﷺ کی قیادت ہمیں آج بھی میسر ہے , تاقیامت حاصل رہے گی ۔ مگر اس قیادت کے سحر کے سانچے میں ڈھل کر مسیحائی کامقام پانے والے بطلِ جلیل کا ہمیں بڑی شدت سے انتظار ہے۔
اگر دیکھاجائے تو تمام قوموں کی تاریخ ایسے ہی انتظار کی داستان ہواکرتی ہے۔

Scroll To Top