مسوڑھوں کی مستقل بیماری سے بلڈ پریشر میں اضافے کا امکان

ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ اپنے منہ کی صحت کا خاص خیال رکھیں اور باقاعدگی سے اپنے ماہرِ دندان سے معائنہ کرائیں (فوٹو: فائل)

اس ضمن میں برطانیہ میں ڈھائی لاکھ افراد پر کی گئیں 81 تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں دیکھا گیا کہ بعض مریض مسوڑوں کی کم شدت، درمیانی اور شدید بیماری میں مبتلا تھے۔ یہ مرض ’’پیریوڈونٹائٹس‘‘ کہلاتا ہے۔ اگر یہ مرض درمیانی شدت کا ہو تو بلڈ پریشر میں اضافے کا خطرہ 22 فیصد اور شدید مرض کی صورت میں 49 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے ایسٹ مین ڈینٹل انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر فرانسیسکو ڈی آئیوٹو نے بتایا کہ ’منہ کی صحت کا پورے جسم کی صحت سے گہرا تعلق ہوتا ہے، ہم اپنے دانتوں اور مسوڑھوں کا خیال نہیں رکھتے لیکن اس کا خیال رکھ کر ہم صحت کے دیگر عمومی خطرات کو ٹال سکتے ہیں‘۔

تحقیق سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ پیریو ڈونٹائٹس کے شکار افراد میں اوپر کا بلڈ پریشر اوسطاً ساڑھے چار اور نیچے کا دو یونٹ بڑھا ہوا ہوتا ہے جبکہ اس بیماری کے شکار افراد بلڈ پریشر کی اس کیفیت کے شکار نہیں ہوتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن مریضوں کے مسوڑھوں کی بیماری کا علاج کرلیا گیا تو ان میں بلڈپریشر بھی معمول پر آنا شروع ہوگیا۔ اس کی تصدیق پانچ آزادانہ سائنسی سروے سے کی گئی۔ ماہرین کے مطابق منہ کے بیکٹیریا معدے میں جاتے ہیں، یہ جسم میں سوزش پیدا کرتے ہیں اور خون کی نالیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں جس سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔

Scroll To Top