محسن عباس حیدراور ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی ہوگئی

بیٹے کی تحویل کے حوالے سے وکلا سے مشورہ کرکے قانونی کارروائی کریں گے، محسن عباس حیدر فوٹوفائل

جسمانی اور ذہنی تشدد کے الزام میں شوبز کی ایک اور فیملی کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ لاہور میں فیملی عدالت کے جج بابر ندیم نے فاطمہ سہیل کی خلع کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت فاطمہ سہیل نے عدالت کو بتایا کہ کہ وہ اب محسن عباس حیدر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتیں اور نہ ہی ان سے صلح کرسکتی ہیں۔ جب کہ محسن عباس حیدر نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ وہ بھی اب فاطمہ سہیل کے ساتھ زندگی گزارنا نہیں چاہتے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے بیانات سننے کے بعد خلع کی ڈگری جاری کردی۔

محسن عباس اور فاطمہ سہیل کا ایک بیٹا بھی ہے اس حوالے سے محسن عباس کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹے کے لیے ماں اور باپ دونوں کا پیار بےحد ضروری ہے، البتہ اس کی تحویل کے حوالے سے وکلا سے مشورہ کرکے قانونی کارروائی کریں گے۔

فاطمہ سہیل نے دو ماہ قبل اپنے شوہر پر تشدد اور بے وفائی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ محسن کے نازش نامی ماڈل سے ناجائز تعلقات ہیں جس کی وجہ سے شوہر ان پر تشدد کرتا ہے۔ جب کہ محسن نے فاطمہ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی اہلیہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ فاطمہ نے لاہور کی فیملی عدالت میں خلع کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر فیصلہ سناتے ہوئے جج نے آج خلع کی ڈگری جاری کردی ہے۔

Scroll To Top