قمر الزمان کائرہ جیسے لوگ بس بھولے بادشاہ ہیں! 02-09-2015

ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری یا حراست کے حوالے سے پی پی پی کے رہنماﺅں کے جتنے بھی بیانات آئے ہیں ان میں زیادہ غم و غصہ کا اظہار اس بات پر کیا گیا ہے کہ پی پی پی کے ساتھ دہشت گردی کا الزام نتھی کرنے کی جسارت کیسے کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر پی پی پی کے نسبتاً زیادہ صاف و شفاف رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے نامہءاعمال میں دہشت گردی کی دفعہ شامل کرکے ان قربانیوں کی توہین کی گئی ہے جو پی پی پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی ہیں۔
میری سمجھ میںنہیں آرہا کہ قمر الزمان کائرہ کن قربانیوں کا ذکر کررہے ہیں ۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار کی جنگ میں تختہ دار کی طرف گئے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اقتدار کے دروازے اپنے آپ پر دوبارہ کھولنے کے لئے این آر او کیا تھا۔ ان کی المناک موت واقعی کسی ” باریش دہشت گرد“ کی خون آشامی کا نتیجہ تھی یا انہیں اقتدار کے طلبگاروںنے ایک خطرناک کانٹا سمجھ کر ایک سازش کے تحت اپنے راستے سے ہٹایا تھا۔۔۔ اس سوال کا جواب شاید آنے والی تاریخ دے یا پھر کبھی نہ ملے۔
جناب آصف علی زرداری نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پی پی پی کی قربانیوں کا ذکر کیا ہے۔ اگر دھواں دار بیانات کو قربانیوں کے زمرے میں شامل کر لیا جائے تو پی پی پی نے واقعی قربانیوں کے انبار لگا دیئے ہیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ جس جنگ کا ذکر ہمارے یہ بیان باز کیا کرتے ہیں ان میں قربانیاں یا تو ہزاروں معصوم شہریوں نے دی ہیں جو ہمارے ملک کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے سفاک درندوں کی خون آشامی کا نشانہ بنے یا پھر سکیورٹی سے تعلق رکھنے والے ان اداروں کے جوانوں اور افسروں نے جن کے ذمے ملک و قوم کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔؟
یہاں میںایک افسوسناک تاثر (perception)کا ذکر ضرور کروں گا جو ہمارے ” لبرل نما “ سیاست دانوں اور دانشوروں نے قائم کررکھا ہے کہ دہشت گرد صرف وہ ہیں جو داڑھی رکھتے ہیں اور جن کے ایک ہاتھ میں مذہب کی شناخت اور دوسرے ہاتھ میں بندوقیں پکڑا دی جاتی ہیں۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم کے رہنما ایسے ہی دہشت گردوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں رحمان ڈکیت ` عزیر بلوچ اور بابا لاڈلا یا پھر اجمل پہاڑی اور صولت مرزا جیسے لوگ دہشت گرد نہیں ہوتے۔
وقت آگیاہے کہ دہشت گرد کی اصطلاح کا واضح اور جامع مفہوم ذہن نشین کرلیا جائے اور کرا دیا جائے۔
جو بھی شخص کسی بھی مقصد کے لئے ہتھیار اٹھاتا ہے اور معاشرے اور ریاست کے خلاف ایسی سرگرمیوں میں شامل ہوجاتا ہے جن کے نتیجے میں جان و مال کا اتلاف ہوتا ہے وہ دہشت گرد ہے۔
یہ سارے بھتہ خور۔۔۔ اغواءبرائے تاوان کے مجرم۔۔۔ اپنے سیاسی سرپرستوں کے احکامات پر سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مخالفین کو راستے سے ہٹانے والے چھوٹے بڑے ڈان۔۔۔ یہ سب کے سب دہشت گرد ہیں۔ ۔۔ دہشت گردی کا شبہ صرف اس شخص پر نہیں کیا جانا چاہئے جو کسی مدرسے میں پناہ لیتا ہے ` اس شخص پر بھی ہونا چاہئے جو بڑے بڑے سیاست دانوں اور حاکموں کے فراہم کردہ ” گوشہ ءعافیت“ میں زندگی کے مزے لوٹتا ہے۔
قمرالزمان کائرہ جیسے لوگ تو بس بھولے بادشاہ ہیں۔۔۔

Scroll To Top