ابن تیمیہ ؒسے علامہ اقبالؒ تک کچھ ہزیمتوںاور کچھ ولولوں کی داستان (حصہ دوم)

بدکردار اور بداعمال حاکموں کے بوئے جانے والے بیج قوموں اور معاشروں کے مقدر میں کیسی کیسی تباہیوں کی فصل لکھا کرتے ہیں ` اس کا بھرپور احاطہ ابن تیمیہ ؒکے بعد آنے والے اس بطلِ جلیل نے کیا جس کا مجسمہ تیونس کے وسط میں کھڑا آج بھی ہمیں دعوت ِفکر دیتاہے۔ 

یہ ذکر ابن خلدون ؒ کا ہے جنہیں ہیروڈوٹس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا مورّخ بھی سمجھا جاتا ہے `اور فلسفہءتاریخ کا موجد بھی۔
ابن خلدون ؒنے اپنے مقدمہ میں لکھا کہ ” جن ملکوں قوموں اور معاشروں میں سیاسی اقتدار ان کے تاجر طبقوں اور حصول ِزر میں مصروف خاندانوں کے ہاتھو ں میں چلا جایا کرتاہے وہاں اقدار کی بیخ کنی اور اخلاقیات کی آبروریزی کا عمل اتنی تیزی سے پھلتا پھولتا ہے کہ انہیں تباہی اور زوال سے بچانا ممکن نہیں رہتا۔“
اپنے عہد سے پہلے کی دو صدیوں میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب کا جائزہ ابن خلدون ؒنے بڑی ہی عمیق بینی سے لیا۔ اور اس نتیجے پر پہنچنے میں انہیں ذرا برابر بھی مشکل پیش نہ آئی کہ ” تجارت اور سیاست “ کا ایک ہاتھ میں یا ایک چھت کے تلے آنا معاشرے کی تباہی کا باعث بنے بغیر نہیں رہتا۔
اپنے دور کے حاکموں اور اپنے بعد آنے والے حاکموں کے لئے ابن خلدون ؒ کا ایک ہی پیغام تھا۔
” حکومت کرنی ہے تو تجارت اور حصولِ زر سے دستبردار ہوجاﺅ۔ اگر تجارت کرنی ہے اور مال کمانا ہے تو حکومت سے نکل جاﺅ۔“
میرے خیال میں یہ پیغام ہمیں ایک کتبے کی صورت میں بلاول ہاﺅس ` رائے ونڈ محل ` ایوان صدر ` قومی اسمبلی اوراقتدار کے تمام ایوانوں پر چسپاں کردینا چاہئے۔
ابن خلدون ؒ کے قریب قریب ہی ابن بطوطہ ؒکا نام ابھر کر سامنے آتا ہے جو 1325ءمیں مراکش کے شہر طنجہ سے مکہ شریف کی زیارت کے لئے نکلے تھے اور اپنی زندگی کی اگلی تین دہائیاں انہوں نے کرہءارض کی سیاحت میں گزار دیں۔ ان کا سفر نامہ علم کی دنیا میں روشنی کے ایک مینار کا درجہ رکھتا ہے ۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا۔
” جب تک میں طنجہ میں تھا تو میں نہیں جانتا تھا کہ تکبیر کی اذانیں صرف دنیائے عرب میں نہیں پوری دنیا میں گونجتی ہیں۔ آج میں یہ سوچ کر فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک ایسی تہذیب کا وارث ہوں جو افریقہ کے صحراﺅں پر بھی راج کرتی ہے اور ان عظیم الشان درباروں پر بھی جو دنیا کے دوسرے کنارے یعنی چین تک پھیلے ہوئے ہیں۔“
ابن بطوطہ ؒ کا سفر نامہ اس تاریخی عمل کی اولین بڑی دستاویز کا درجہ رکھتا ہے جسے ہم آج Globalizationکا نام دیتے ہیں۔
ہمارے لبرل مفکروں کو شاید میرا یہ موقف ناگوار گزرے کہ گلوبلائزیشن (Globalization)کی تحریک کا آغاز اس لشکر سے ہوا تھا جو آنحضرت نے اپنی وفات سے چند روز قبل تشکیل دیا تھا اور جس کی سالاری اسامہ بن زید بن حارث ؓ کو دی گئی تھی۔
آج ہم ویسے ہی چیلنجوں کاسامنا کررہے ہیں جیسے چیلنجوں کا سامنا ابن تیمیہ ؒ ` ابن خلدونؒ اور ابن بطوطہ ؒکے عہد کے مسلمان کررہے تھے ۔ وہ تین نام تو ہمارے ورثے میں ہیں ہی ` اب ایک اور نام کااضافہ بھی ہوچکا ہے۔
علامہ اقبال ؒ ۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے ۔۔۔

Scroll To Top