ابن تیمیہ ؒسے علامہ اقبالؒ تک کچھ ہزیمتوںاور کچھ ولولوں کی داستان )حصہ اول(

علم و تحقیق کے حوالے سے مسلم تاریخ کی بہت بڑی شخصیات میں ابن تیمیہ ؒ ¾ ابن خلدونؒ ؒاور ابن بطوطہؒ کا تعلق تقریباً ایک ہی عہد سے تھا۔ میرا اشارہ سقوطِ بغداد کے بعد کے زمانے سے ہے۔بارہویں صدی کے آخر اور تیرہویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں نے صلیبی جنگوں میں فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی۔ اور وہ خطرہ ہمیشہ کے لئے ٹل گیا تھاجو بیت المقدس پر صلیبی لشکروں کی یلغار اور قبضے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ خطرہ اس بات کا تھا کہ اہلِ صلیب ایک بار پھر مشرق وسطیٰ پر غالب آجائیں گے۔ اور اس خطرے کے احساس کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب بغداد کی خلافتِ عباسیہ کازوال تھا۔دوسری طرف ہسپانیہ میں بھی مسلمانوں کا سفرِ زوال بڑی تیزی سے جاری تھا۔ بغداد کے بعد ” اسلامی قوت“ کے دو بڑے مرکز دمشق اور قاہرہ تھے جو امراءکی سازشوں اور اقتدار کی بندر بانٹ کا بڑا بھیانک نقشہ پیش کررہے تھے۔
ایسے میں پہلے عماد الدین زنگی ¾ اور پھر ان کے بیٹے نورالدین زنگی کا ظہور ہوا جن کی کوششوں سے دمشق میں وہ سیاسی استحکام پیدا ہوا جو اس دور کی مسلم دنیا میں تقریباً مفقود ہوچکا تھا ۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوںکہ ” سیاسی استحکام “ کی ترکیب دورِ جدید کی پیداوار نہیں۔ جب سے دنیا میں ریاست کا تصور ابھرا ہے اور اس کے ساتھ اقتدار اور حکمرانی کے تصورات جڑے ہیں تب سے ” سیاسی استحکام “ کی ترکیب مورّخین کے استعمال میں رہی ہے۔
نور الدین زنگی کا سپہ سالار وہ بطلِ جلیل تھا جس کے مقدر میں مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کا نجات دہندہ بننا لکھا تھا اور جس کا نام صلیبی تاریخ میں بھی اسی قدر روشن ہے جس قدر اسلامی تاریخ میں۔
میری مراد صلاح الدین ایوبی ؒ سے ہے جنہوں نے پہلے شام میں سیاسی استحکام پیدا کیا اور پھر یکے بعد دیگرے لڑی جانے والی دو بڑی صلیبی جنگوں میں یورپ کی افواج کو فیصلہ کن شکستیں دے کر بیت المقدس کو غیروں کے تسلط سے آزاد کرالیا۔ صلاح الدین ایوبی ؒنے مصرمیں بھی ایک مستحکم حکومت قائم کی جس کا فائدہ عالم ِاسلام کو چند دہائیاں بعد اس خوفناک طوفان کے خونی اور تباہ کن نتائج سے نمٹتے وقت ہوا جسے تاریخ ” وحشت و بربریت کا منگول سیلاب“ کے زیرِ عنوان یاد کرتی ہے۔
چنگیز خان کی وحشیانہ یلغار کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آگ موت اور تباہی کے اس طوفان نے سلطنتِ خوارزم اور اس کی شان و شوکت کے تمام نشانات یعنی بلخ بخارا ¾ سمر قند ¾ تاشقند ¾ اور کاشغر وغیرہ کو تاریخ کے کباڑخانوں میں پھینک دیا۔ چند ہی برس بعد چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔جولائی 1258ءمیں سقوطِ بغداد کا سانحہ مسلمانوں کے سیاسی عدمِ استحکام کے ایک طویل دور کے لرزا دینے والے انجام کا درجہ رکھتا ہے۔ سیاسی عدمِ استحکام کے اس دور اور اس کے خوفناک نتائج کا تجزیہ چند دہائیاں بعد ابن خلدون ؒنے اپنے شہرہ آفاق ” مقدمہ “ میں کیا۔
بغداد کی تباہی کے وقت دمشق کے لوگ ایک ایسے محقّق مدّبر اور مصلح کے نام سے بخوبی واقف تھے جو انہیں بتا رہا تھا کہ جو معاشرے اپنی فکری اساس سے ہٹ کر اخلاقی انحطاط کاشکار ہوتے ہیں ¾ وہ اپنے خارجی دشمنوں کی یلغار کے سامنے مدافعت کی چٹان بننے کی امنگ سے بھی اورقوت سے بھی محروم ہوجایا کرتے ہیں ۔
اس محقّق مدّبر اور مصلح کا نام ابن تیمیہ ؒ تھا جنہیں آج کے دور کے مغربی یا مغرب زدہ لبرل مفکر اسلامی بنیاد پرستی کا ایک بڑا ” موجد“ قرار دیتے ہیں۔یہ درست ہے کہ ابن تیمیہ ؒ کا پیغام ” ان عظیم اقدار کی طرف واپسی کا پیغام “ تھا جن سے مسلّح ہو کر عرب شہسوار حجاز کے ریگستانوں سے نکلے تھے اور چشم ِزدن میں مغرب و مشرق ¾ اور شمال و جنوب کے طول و عرض میں طوفان بن کر چھا گئے تھے ۔ ایک ایسا طوفان جس کی زد میں آکر قیصر و کسریٰ کا سارا جاہ وجلال خس و خاشاک کی طرح اڑ گیا تھا۔ اور اس لحاظ سے وہ یقینا بنیاد پرست تھے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر ہم ان اقدار کی ہی نفی کریں گے جو اسلام کی بنیادہیں تو ہمارے پاس مسلمان کہلوانے کاکیا جواز باقی رہ جائے گا۔؟
ابن تیمیہ ؒ کا کہنا تھاکہ قرآن حکیم ہر مسلمان کے لئے آئین کا درجہ رکھتا ہے۔اور جو شخص جان بوجھ کر اس آئین کی نفی کرے گا یا اس کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹ بنے گا اسے دائرہ اسلام سے خارج ہی سمجھاجاناچاہئے۔یہ تعلیم اگر بنیاد پرستی تھی تو میرے خیال میں دنیا کے ہر کلمہ گو کو اپنے بنیاد پرست ہونے پر فخر کرنا چاہئے۔
جہاں تک ابن تیمیہ ؒکے شدت پسند رحجانات کا تعلق ہے تو ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہئے کہ وہ ایک ایسے عہد میں اسلامی امنگوں کے نقیب اور اسلامی احتجاج کی علامت تھے۔ جس عہد میں مسلمانوں کی شان و شوکت کے تقریباً تمام نشانات اور مظاہر ” حرفِ غلط “ کی طرح مٹا دیئے گئے تھے۔ انہوں نے بلخ ¾بخارا ¾سمر قند ¾تاشقند اور کاشغر میں بلند کئے جانے والے ” مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار“ دیکھے تو نہیں ہوں گے ¾ ان کے بارے میں کچھ چشم دید گواہوں سے سنا ضرور ہوگا۔ اور دریائے دجلّہ کے لہولہو ہوجانے کا سانحہ تو ابن تیمیہ ؒکے اپنے خطے میں پیش آیا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے کانوں تک تہ تیغ ہونے والے لاکھو ں مسلمانوں کی یہ فریاد نہ پہنچی ہو کہ ” ہمیں سزا ہمارے حاکموں کی بدکرداریوں اور بداعمالیوں کی ملی ہے۔“
)جاری ہے(

Scroll To Top