بات آخری اننگز کی

تاریخ میں کسی بھی شخص کا مقام اس کی پہلی اننگز نہیں ` اس کی آخری اننگز متعین کرتی ہے۔ یا پھر اس کی پہلی اننگز اور اس کی آخری اننگز کے درمیان کے پورے سفر کا اجتماعی تاثر جو یا تو اسے ہمیشہ زندہ رکھتا ہے یا پھر ایک یادِ گم گشتہ بنا دیا کرتا ہے۔
بات میں سیاست کی کررہا ہوں مگر مثال یہاں کرکٹ کی دی ہے۔ اسے ایک استعارہ سمجھ لیا جائے مگر کرکٹ کے حوالے سے بات ہمارے لوگوں کو آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجاتی ہے۔
ابھی حال ہی میں آئی سی سی نے 2000ویں ٹیسٹ میچ کے انعقاد کے موقع پر آل ٹائم گریٹ کرکٹ ٹیم کا اعلان کیا ہے جس میں بھارت اور مغرب کے اجتماعی ذہن کا تعصب بڑا کھل کر سامنے آتا ہے۔ اس ٹیم میں بھارت اور آسٹریلیا سے چارچار کھلاڑی لئے گئے ہیں اور پاکستان سے صرف ایک کھلاڑی کو منتخب کیا گیا ہے۔ وسیم اکرم کی شمولیت پاکستان کے لئے یقینی طور پر باعثِ فخر ہے ` مگر وریندر سہواگ کو حنیف محمد پر اور کپل دیو کو عمران خان پر فوقیت دینا اس حقیقت کی واضح نشاند ہی کرتا ہے کہ ہم ایک بددیانت دور کے بدترین عہد میں رہ رہے ہیں ۔
حنیف محمد کے بارے میں سنجے منجریکر کے والد نے کہا تھا کہ اس لٹل ماسٹر کی عظمت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنی پوری ٹیم کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا کر کھیلتا ہے۔ اور عمران خان کی آخری پرفارمنس کے نتیجے میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تھا۔
بہرحال میں کرکٹ سے سیدھا سیاست کی طرف آتا ہوں۔
ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی موڑ ایسا آتا ہے جو اس کی راہوں اور منزلوں میں تبدیلی لے آیا کرتا ہے۔
ایسا موڑ حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی میں بھی آیا جب وہ فرعون کے شاہی خاندان کے ایک فرد سے بنی نوع انسان کی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب لانے والے پیغمبر بن گئے۔
حضرت عمر فاروق ؓ کی زندگی کو بھی ایک ” لمحے“ کی کرشمہ سازی نے ہی تبدیل کیا تھا۔ اس ایک ” لمحے“ کے دوران جس کے پیچھے منشائے الٰہی کام کررہی تھی حضرت عمر فاروق ؓ سردارانِ مکہ کی صفوں میں سے نکل کر پیغمبرِ اسلام کی جماعت کی شان اور آن بن گئے۔
راہوں اور منزلوں کی تبدیلی کا عمل کیسے معجزانہ انداز میں ظہور پذیر ہوتا ہے اس کا اندازہ دوسر ے ” عمر“ یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کی زندگی میں آنے والے انقلاب سے لگایا جاسکتا ہے۔ اپنی حیات کے ایک دور میں وہ ان اموی شہزادوں میں سے ایک تھے جن کے لئے عیش و آرام ہی سب کچھ تھا۔اور دوسرے دور میں وہ ایک ایسے حکمران بن گئے جنہوں نے اپنی ساری املاک اور اپنے خاندان کی ساری جائیداد کو بھی بیت المال میں جمع کرا دیا ` تاکہ معاشرے میں امیر و غریب کے درمیان پایا جانے والا فرق کسی بڑی بے انصافی کا موجب نہ بن سکے۔
یہ مثالیں تو بہت بڑے لوگوں کی ہیں۔ وہ لوگ ` قدرت کو جنہیں ” تاریخ ساز“ بنانا مقصود تھا۔
ایسی مثالیں کچھ چھوٹے لوگوں کی بھی پائی جاتی ہیں۔اور یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ تاریخ سازی کے عمل میں کچھ چھوٹے لوگوں نے بھی حصہ لیا ہے۔ اور اس ” اثر خیزی “ اور ” نتیجہ آفرینی “ کے ساتھ لیا ہے کہ ان کا ذکر بڑے لوگوں کے ساتھ ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
میں یہاں مثال ذوالفقار علی بھٹو کی دوںگا۔ آج ہم تاریخ میں بھٹو مرحوم کا مقام پاکستان کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے بانی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے موجد کی حیثیت سے کرتے ہیں مگر ایک بھٹو وہ بھی تھے جنہوں نے پاکستان کے سیاسی افق پر باقاعدہ طور پر ظہور پذیر ہونے سے پہلے اپریل 1958ءمیں تب کے صدرِ پاکستان میجر جنرل سکندر مرزا کو مندرجہ ذیل خط لکھا تھا۔
” جناب عالی ۔۔۔
یہ چند سطور میں صرف یہ گوش گزار کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں جناب صدر کہ میں یہاں اپنی ذمہ داریاں اپنی بہترین استعداد کے مطابق ادا کررہا ہوں۔ میں اپنی کارکردگی کی مفصل رپورٹ پاکستان واپسی پر آپ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس بات پر اطمینان محسوس کریں گے کہ میں نے کتنے اچھے انداز میں اپنے ملک اور اپنے صدر کے لئے خدمات انجام دی ہیں۔
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کو دل و جان کی گہرائیوں سے یقین دلانا چاہوں گا کہ آپ کے ساتھ میری وفاداریاں کس قدر غیر فانی اور اٹل ہیں۔
اپنی وفات سے چار ماہ قبل میرے مرحوم والد نے مجھے نصیحت کی تھی کہ آپ کے ساتھ عمر بھر وفادار رہوں کیوں کہ آپ محض ایک فرد نہیں ایک ادارہ بھی ہیں۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ ملک کے لئے آپ کی خدمات بے مثال اور ناقابلِ بیان ہیں۔ جب غیر جانبدار مورّخ ملک کی تاریخ لکھیں گے تو آپ کاروشن نام ملک کے بانی مسٹر جناح سے بھی پہلے آئے گا۔
جنابِ عالی یہ بات میں اس وجہ سے نہیں تحریر کررہا کہ آپ ملک کے صدر ہیں ` بلکہ اس لئے کہ آپ حقیقتاً اس مقام کے مستحق ہیں ۔ اگر میرے اندر یقین اور جرات ہے کہ وزیراعظم صاحب سے اختلاف کرسکوں تو اس وجہ سے نہیں کہ میں خوشامدی ہوں بلکہ اس لئے کہ میں حقیقت شناس ہوں۔ اگر آپ کو یا بیگم صاحبہ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو براہ مہربانی حکم دینے میں ذرا بھی تامل نہ برتیں۔
میری تمام تر خدمات آپ اور بیگم صاحبہ کے لئے ہیں۔
نیاز مند ذوالفقار علی بھٹو “
یہ ایک تاریخی خط ہے جس کے انگریزی اصل کا عکس میرے پاس موجود ہے۔ خط پر دستخط بھی بلاشبہ بھٹو مرحوم کے ہیں۔لیٹر ہیڈ بھی حکومت پاکستان کا استعمال کیا گیا ہے۔
مگر کیا اس خط کو تاریخ میں بھٹوکا مقام متعین کرنے کا معیار بنایا جانا چاہئے ؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دینے سے پہلے ہمیں دیانت داری کے ساتھ بھٹو کی پوری زندگی کا جائزہ لینا ہوگا اور یہ طے کرنا ہوگا کہ اس خط کو ” گردِ راہ “ قرار دے کر بھول جانا چاہئے یا نہیں ۔
سیاسی سفر میں بڑے سے بڑے آدمی بھی ایسے مراحل سے گزرا کرتے ہیں کہ اپنا راستہ بنانے کے لئے انہیں سکندر مر زا جیسے لوگوں کو بھی قائداعظم ؒ سے زیادہ قد آور شخصیت قرار دینا پڑتا ہے۔
مندرجہ بالا خط کے چھ ماہ بعد صدر سکندر مرزا نے فیروز خان نون کی حکومت ختم کرکے جنرل ایوب خان کی حمایت سے مارشل لاءلگا دیا۔ بیس روز بعد جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو فارغ کرکے ” اقتدارِ کلُی “ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پہلے سکندر مرزا اور ناہید سکندر مرزا کے منظور نظر تھے۔
اب وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے منظورِ نظر اور دست ِ راست بن گئے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1964ءکی ” صدارتی مہم “ میں بھٹو مرحوم فیلڈ مارشل ایوب خان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (کنونشن)کے سیکرٹری جنرل تھے ` اور انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو ہرانے کی حکمت عملی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
تاریخ کی ستم ظریفیاں بھی عجیب ہوا کرتی ہیں۔ جس ذوالفقار علی بھٹو نے 1958ءمیں سکندر مرزا کو قائداعظم ؒ سے بڑا آدمی قرار دیا تھا ` اور 1964ءمیں فیلڈ مارشل ایوب خان کو اس قوم کے لئے خدا وند کریم کا ایک عظیم تحفہ ثابت کیا تھا ` اسی ذوالفقار علی بھٹو کے مقدر میں یہ بات لکھی تھی کہ وہ ملک کے غریب عوام کے دلوں کی دھڑکن بن کر تختہ ءدار پر چڑھ جائے گا۔
قدرت نے کس شخص سے کیا کام لینا ہوتا ہے اس کا علم قدرت کے سوا اور کسی کو نہیں ہوتا۔
پاکستان کے مستقبل میں کون کیا کردارادا کرے گا اس کا فیصلہ بھی قدرت ہی کرے گی۔ اور جب یہ فیصلہ سامنے آئے گاتو شاید بہت سارے لوگ انگشت بدنداں ہو کر رہ جائیں۔
اننگز بہرحال آخری ہی آدمی کو تاریخ میں جگہ دلاتی ہے۔ یا پھر لوگوں کی نظروں سے گرا دیا کرتی ہے۔۔۔

Scroll To Top