ٹرمپ نے مودی کے جلسے میں شریک ہوکر عمل اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا

رواں سال نومبر میں امریکہ اور بھارت کی بحریہ ، فضائیہ اور بری افواج مشترکہ مشقیں کریں گئی
درحقیقت نئی دہلی امریکہ کے لیے سیاسی اور معاشی دونوں لحاظ سے کلیدی اہمیت کا حامل ہے
چین کی شکل میں جو خطرہ امریکہ کے سامنے سر اٹھا رہا اس کا توڈ بھارت سے بہتر کوئی نہیں
غیر مسلم ہی نہیں مسلم ملک بھی مسلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کی حمایت کرنے پر آمادہ نہیں

امریکی ریاست ٹیکاس کے شہر ہوسٹن میں ٹرمپ اور مودی کا ہاوڈی، مودی نامی اکٹھ کسی اور کے لیے ہو نہ پاکستان کے لیے پیغام ضرور تھا، کہا جارہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کا جلسہ اب تک کیسی بھی غیر ملکی رہنما کی جانب سے منعقدہ ہونے والا سب سے بڑا اجتماع سمجھا گیا جس میں تقریبا 50ہزار افراد نے شرکت کی ، ٹرمپ نے بھی مودی کے جلسے میں شریک ہوکر عملا اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا ، یہ بھی کہا جارہا کہ امریکی صدر کے لیے موقعہ یوں اہم تھاکہ وہ کسی طور پر 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے بھارتی نثراد امریکیوںکی زیادہ سے زیادہ سے حمایت حاصل کرلیں چنانچہ اس موقعہ کو غنمیت سمجھتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کرڈالا کہ رواں سال نومبر میں امریکہ اور بھارت کی بحریہ ، فضائیہ اور بری افواج مشترکہ مشقیں کریں گئی۔“
امریکہ کے لیے بھارت کی اہمیت ہرگز حیران کن نہیں، ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مڈل کلاس واشنگٹن ہی نہیں کئی عالمی طاقتوں کے لیے کشکش رکھتی ہے ، مبصرین کا خیال ہے کہ نئی دہلی امریکہ کے لیے سیاسی اور معاشی دونوں لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست سمجھتی ہے کہ چین کی شکل میں جو خطرہ امریکہ کے لیے تیزی سے سر اٹھا رہا اس کا توڈ کرنے کے بھارت سے بہتر کوئی نہیں۔
حالیہ ہفتوں میں مقبوضہ وادی میں آئین کی شق 370 کی منسوخی کے بعد عالمی میڈیا مسلسل بھارتی وزیراعظم کا منفی تاثر پیش کررہا ، اقوام متحدہ ، او آئی سی اور یورپی یونین کی جانب سے بھی کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی دہائی دی جارہی،کشمیر میں مسلسل لاک ڈوان کی صورت حال نے لاکھوں کشمیریوں کی زندگی جس طرح اجیرن کردی اس کے تذکرہ بھی جاری ہے ، وادی میں زندگی جمود کا شکار ہے ،تعلیمی ادارے ہی نہٰیں کاروباری حلقے بھی مسائل کا شکار ہیں ایسے میں مودی کے لیے امریکہ کا دورہ ہرگز ” نعمت“ سے کم نہ تھا۔ ٹیکساس میں ہزاروں کے اجمتاع سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے نام لیے بغیر پاکستان پر تنقید کی، ہمسایہ ریاست کو دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا۔ مودی نے اپنے خطاب میں نائن الیون اور بمبئی بم دھماکوں کو ایک ہی سلسلہ کی کڑی قرار دیتے ہوئے پاکستان کو ہدف بنایا رکھا، بظاہر یہ تسلیم کرنے میں حرج نہیں کہ مودی کہیں نہ کہیں مشن میں کامیاب رہے ، مثلا صدر ٹرمپ نہ صرف مودی کے جلسے میں شریک ہوئے بلکہ مقبوضہ وادی میں بھارتی ظلم وستم کا بھی زکر کرنے سے گریزاں رہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ افغان جنگ میں الجھا امریکہ پاکستان کو محض استمال کررہا ، امکان ہے کہ کابل میں اقتدار کی تقسیم کا معاملہ حل ہوتے ہی واشنگٹن آنکھیں پھیرنے میں دیر نہیں لگائے گا، حالیہ امریکہ ایران کشیدگی میں افغانستان کی اہمیت اپنی جگہ مگر حالات کی تبدیلی واشنگٹن کے رویے میں تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکہ حکمت عملی میں تبدیلی کا نقصان برداشت کرنے کو تیار ہے ،
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکہ اور بھارتی تعلقات کو زرا گہرائی میں سمجھنے کی کوشش کرے ؟کشمیر میں ہونے والے مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی پالیسی اپنی جگہ مگر مسقبل قریب میں یہ توقع رکھنا درست نہیں کہ عالمی ضمیر فورا ہی بیدار ہوجائے،اسلام آباد کو طویل المیعاد بنیادوں پر ایسے اقدمات اٹھانے ہونگے جس سے پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا ہوسکے۔ یہ تاثر دور کرنا ہوگا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر جس تیزی رفتاری سے سفارتکاری میں تبدیلیاں رونما ہورہیں کیا ہم اس کے لیے تیار نہیں، ناجانے اس نقطہ کو کیونکر نہیں سمجھا جارہا کہ دفاع کے علاوہ بھی ایسے کئی میدان ہیں جن پر بھارت کے ساتھ مقابلے کی ضرورت ہے ، یقینا رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے پاکستان اور بھارت کا کوئی مقابلہ نہیں مگر یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ہر بار رقبہ اور آبادی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کیا کرتے مثلا جاپان کی مثال نمایاں ہے کہ کچھ نہ ہونے کے باوجود اس کم رقبہ کے حامل ملک نےب دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔
بلاشبہ پاکستان کو ممکن حد تک بھارت سے جنگ سے احتراز کرنا ہوگا، ان عناصر کے ساتھ سختی کرنا ہوگی جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر نوجوانوں کے جذبات بھڑکانے کے لیے کوشاں ہے ، سمجھ لینا چاہے کہ غیر مسلم ہی نہیں مسلم ملک بھی مسلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کی حمایت کرنے کو تیار نہیں، مفادات اور صرف مفادات کی اسیر اس دنیا میں شائد ہی کوئی ملک ایسا ہو جو اخلاقی تقاضا نبھانے کو تیار ہو ، عصر حاضر میں کوئی ملک معاشی مفادات میں خسارہ برداشت کرنے کو تیار نہیں چنانچہ بطور قوم ہمیں ہرگز زمینی حقائق فراموش نہیں کرنے چاہیں۔ یہ کسی نعمت سے کم نہیںکہ مسلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے ملک کی سب ہی سیاسی ومذہبی قوتوں میں اتفاق واتحاد ہے ، بھارت سے جنگ کرنے کی خواہش شائد ہی کوئی معروف سیاسی پارٹی پائی جاتی ہو۔ مسلہ کشمیر کے پس منظر میں اسلام آباد کے لیے واحد حل ایسی سفارتی مہم ہے جو نئی دہلی کے لیے مسلسل ہزیمت کا باعث بنتی رہے چونکہ ایٹمی قوت کے حامل دو ہمسایہ ملکوں میں جنگ کا تصور ہی خوفناک ہے۔

Scroll To Top