اقوام متحدہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے

وزیراعظم نوازشریف نے مقبوضہ وادی میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کا فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا درست مطالبہ کیا ہے۔جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں تاہم مسلہ کشمیر حل کیے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔ نوازشریف نے مقبوضہ وادی میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، زخمیوں کوطبی امداد کی فراہمی اور کرفیو اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا “۔
وزیراعظم نوازشریف کے اقوام متحدہ میں خطاب کو ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ایسے وقت میں جب بھارت مقبوضہ وادی میں ظلم ستم کا بازار گرم کرنے کے علاوہ اڈی سیکڑ کے واقعہ کو بیناد بنا کرپاکستان کے خلاف محاز گرم کیے ہوئے ہے پاکستان کی جانب سے اقوام عالم کو درست صورت حال سے آگاہ کرنا خوش آئند ہے۔
ادھر وزیراعظم پاکستان کے خطاب پر بھارت کی بوکھلاہٹ سمجھ میں آنی والی بات ہے۔ بادی النظر میں شائد مودی سرکار کو اندازہ نہ تھا کہ جنرل اسمبلی میں نوازشریف کا ان کے لیے اس قدر سخت پیغام ہوگا۔ بھارت کے خارجہ امور کے وزیرمملکت ایم جے اکبر کا کہنا ہے کہ یہ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان دہشت گرد کو ہیرو قرار دے رہاہے۔ ایم جے اکبر نے وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں خونی کھیل کھیلنے والوں کی تعریف کرکے پاکستان یہ تسلیم کررہا ہے کہ وہ دہشت گردی کا حامی ہے۔ “
قبل ازیں بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سورپ نے بھی وزیراعظم پاکستان کے خطاب پر برملا اظہارناپسندیگی کیا۔ ادھر میاں نوازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل بان کی مون سے بھی ملاقات کی اور انھیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واضح ثبوت فراہم کیے۔
یہ امر یقینا افسوسناک ہے کہ عالمی برداری مقبوضہ وادی کے باسیوں کی مشکلات میں کمی کے لیے اس انداز میں تاحال متحرک نہیں ہوسکی جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ بھارت کے ساتھ سیاسی اور معاشی مفادات میں امریکہ اور اہم مغربی ممالک اس طرح الجھ چکے کہ کسی طور پر مسلمہ اخلاقی اصولوں کو اہمیت نہیں دی جارہی۔ پاکستان یقینا اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ جنرل اسمبلی میں میاں نوازشریف نے تنازعہ کشمیر کو پوری قوت سے اٹھا کر یہ پیغام دیاہے کہ کوئی اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لے یا نہ لے پاکستان اپنا یہ زمہ داری نبھاتا رہے گا۔
مقبوضہ وادی میں کئی ہفتوں سے صورت حال جس طرح کشیدہ ہے وہ دنیا کے ہر باضمیر شخص کے لیے باعث تشویش ہے۔ بھارت کو سمجھ لینا چاہے کہ متنازعہ علاقے کی صورت حال پر اس کے اپنے عوام بھی مطمعن نہیں۔ نئی دہلی میں انسانی حقوق کی تنظمیں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ پر ایک سے زائد مرتبہ احتجاج کرچکیں۔ باضمیر بھارتی مرد وخواتین کسی طور پر اس سرکاری موقف کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ وادی میں سب اچھا ہے۔ بھارت مسلسل عالمی برداری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ پاکستان پر دراندازی کے پہ درپہ الزامات عائد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشیش کی جارہی ہے کہ کشمیر میں گڑبڑ ان عناصر کی پیدا کردہ ہے جو بعقول اس کے سرحد پار سے آتے ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف کی جنرل اسمبلی میںخطاب کے دوران پیش کی جانے والی تجویز یقینا صائب ہے کہ وادی میں اقوام متحدہ کا فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجا جائے جو صیح معنوں میں سچ کو سامنے لاسکے۔ اب تک یہ اطلاعات کے مطابق مودی سرکار ہرگز راضی نہیں کہ مقبوضہ علاقے کی حقیقی صورت حال سامنے آئے۔ اس پس منظر میں اڈی سیکڑ کا واقعہ بظاہر بھارت کو یہ موقعہ فراہم کر گیا کہ وہ ریاستی دہشت گردی سے اقوام عالم کی توجہ ہٹا ڈالے۔
خوش آئند ہے کہ عالمی برادری میں ایسے ممالک موجود ہیں جو کشمیر اور اڈی واقعہ کو الگ الگ زوایے سے دیکھنے پر آمادہ ہیں۔ یقینا دراندازی کی کوئی بھی شکل کسی کو بھی قابل قبول نہیں مگر اس کے لیے الزام تراشی کی بجائے ٹھوس شوائد سامنے لائے جانا ضروری ہے۔ بھارت اڈی کے فوجی ہیڈ کوراٹر پر حملے کرنے والوں بارے تاحال ایسے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا جس سے ان کا پاکستانی تنظیموں سے رابطہ ثابت ہوجائے۔
وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں ضرب عضب کا ذکر بھی فخر سے کیا ۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ ضرب عضب آپریشن دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کی کامیاب ترین مہم ہے۔“
دراصل ہونا تو یہ چاہے تھا کہ بھارت پاکستانی کی بھرپور کوشیشوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں دہشت گردی کرنے والے ا ن تمام عناصر کے خاتمے کے لیے تعاون کرتا جو مذہب، زبان اور سرحدوں سے ماورا انسانیت کے خلاف سرگرم عمل ہیں مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ اگر مگر کے باوجود حقائق یہی ہیں کہ بھارت درپردہ ان کالعدم تنظمیوں کی معاونت کررہا جو پاکستان میں لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ اس ضمن میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر کا وڈیو بیان بھی منظر عام پر آچکا جو پڑوسی ملک کے جارحانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں عالمی برداری سے درد مندانہ کردار ادا کرنے کی اپیل تو کی ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مسقبل قریب میں بہتری کی کوئی صورت پیدا ہو۔ دو ایٹمی قوت کی حامل پڑوسی ریاستوں میں مسلسل کشیدیگی کے باوجود اقوام عالم کی خاموشی عملا غیر ذمہ داری کے ساتھ ان کی بے حسی کا بھی ثبوت دے رہی ہے۔

Scroll To Top