ریفرنڈم سے زیادہ موثر جمہوری راستہ عوامی منشا معلوم کرنے کا اور کوئی نہیں (حصہ دوم)

” حقیقی جمہوریت وہ ہوتی ہے جس کے دروازے پر ہر آدمی دستک دے سکے اور اس دستک کے نتیجے میں کوئی بھی دروازہ ایسا نہ ہو جو نہ کھلے۔ پیرس کی پارلیمنٹ کا کام صرف قانون بناناہونا چاہئے۔“
فرانس میں پارلیمانی جمہوریت کا تجربہ 1956ءمیں ناکام ہوگیا تو جنرل ڈیگال کی قیادت میں ایک نئے جمہوری فرانس نے جنم لیاجس میں اس بات کو مدنظر رکھا گیا کہ اقتدار میں شراکت کا احساس بھی قائم رہے اور ملک و قوم کو ” نتیجہ آفرین فیصلہ سازی “ کی راہ پر ڈالنے والا سیاسی استحکام بھی حاصل رہے۔
آج کا پاکستان ” اقتدار کی بندر بانٹ“ اور اس ” بندر بانٹ “ کے نتیجے میں پروان چڑھنے والی کرپشن اور اخلاقی زبوں حالی کا جو منظر پیش کر رہا ہے اس نے ثابت کردیا ہے کہ جب تک ” فیصلہ سازی “ اور اختیارات کے استعمال کے عمل کو قانون سازی اور اکاﺅنٹبیلٹی کے عمل سے الگ نہیں کیا جائے گا اور الگ نہیں رکھا جائے گا، اس وقت تک یہ ملک ” منتخب امرائ“ کے لئے ایک وسیع و عریض شکار گاہ بنا رہے گا۔
جسے ہم پارلیمانی جمہوریت کہتے ہیں وہ درحقیقت امراءشاہی ہے۔ ایسے امراءکی ” شاہی “ جنہیں عوام منتخب کرتے ہیں ۔ اور جو اپنے انتخابی عمل پر کروڑوں خرچ کرنے کے بعد اس بات کو اپنا حق سمجھتے ہیں کہ اصل سرمایہ تو واپس لیں گے ہی اس کے ساتھ کئی گنا منافع بھی حاصل کریں گے۔
اگر ” عوامی نمائندے“ پارلیمنٹ میں صرف قانون سازی کے لئے آتے اور ان کا کام انتظامیہ پر ” احتساب کی عقابی نظر“ رکھنا ہوتا تو اب تک سیاست کو بزنس سمجھنے اور اس بزنس پر سرمایہ لگانے کی روایت ختم ہوچکی ہوتی۔
کسی سرمایہ کار سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنا سرمایہ خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت ڈبو دے گا اور ” اصل “ اور ” منافع“ واپس لینے کی تمنا سے اس کا دل پاک رہے گا ’ اول درجے کی خود فریبی ہے۔
برطانیہ میں )Commonsیعنی عام لوگ(اور )Lordsیعنی امرائ(کی تفریق صدیوں سے ان کے نظام ِحکومت کا حصہ بنی ہوئی ہے۔اور ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیںکرنی چاہئے کہ برطانیہ میں تقریباً پانچ کروڑکی آبادی کے لئے روزانہ تقریباً سوا چار کروڑ کی تعداد میں اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر بالغ شخص وہاں کم ا زکم دو اخبارات ضرور خریدتا اور پڑھتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ایک صدی گزارنے کے بعد ہم بھی شعور اور ترقی کی وہ حد عبور کرلیں جہاں پارلیمانی جمہوریت کا مطلب امراءشاہی نہ ہو، مگر جب تک ہم شعور کی ویسی معراج حاصل نہیں کرتے ہمیں ایسا نظام چاہئے جس میں ہم اپنا لیڈر یاحکمران براہ راست خود اپنے ووٹوں سے منتخب کرسکیں، اور جس میں پارلیمنٹ کا کام صرف قانون سازی ہو۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ امریکہ جیسی عظیم جمہوریت میں بھی انتظامیہ یعنی حکومت میں وہائٹ ہاﺅس کے مکین کے سوا ایک بھی شخص عوام کا منتخب کردہ نہیں۔ نظامِ حکومت ہمیشہ Best man for the job )یعنی ہر کام کے لئے بہترین فرد(کی بنیاد پر چلنا چاہئے۔ اگر وزارتِ تعلیم کسی جمشید دستی، وزارتِ سائنس کسی فیجاڈنگر اور وزارتِ خزانہ کسی جیرابلیڈ کی تحویل میں ہوگی تو ایسے ملک کی بدقسمتی پر کون آنسو نہیں بہائے گا ؟
جہاں تک صوبوں کا تعلق ہے، کیا صوبوں کے گورنر اسی طرح منتخب نہیں کئے جاسکتے جس طرح مرکزی قیادت منتخب ہوگی ۔؟
کیا صوبوں میں ” وائس رائے “ والا نظام قائم رکھنا لازمی ہے۔؟
میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کی بہتری چاہنے والوں کو کرپشن ’ نا اہلی ’ بدعنوانی اور جوڑ توڑ پر مبنی اس نظام کو دفن کرنے کا کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ یورپ میں کسی ملک کو اگر اس نوعیت کے چیلنج کا سامنا ہو تو وہاں ریفرنڈم کرادیا جاتا ہے۔
ریفرنڈم سے زیادہ جمہوری راستہ عوام کی منشا معلوم کرنے اور آئینی اصلاحات کا ایجنڈا منظور کرانے کے لئے اور کوئی نہیں۔۔۔

Scroll To Top