بے اصولی کو اپنا سب سے موثر ہتھیار سمجھنے والا دشمن ہر پسپائی کے بعد نیا منصوبہ بنایا کرتا ہے 28-08-2015

خواجہ سعد رفیق کی وکٹ گئی ۔ پھر ایاز صادق کی وکٹ گئی اور اب صدیق بلوچ کلین بولڈ ہوگئے ہیں۔ جہانگیر ترین نے درست طور پر کہا ہے کہ ” عمران خان کو ہیٹ ٹرک میرے بال پر حاصل ہوئی ہے جس پر میں بہت خوش ہوں اور پی ٹی آئی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔“
اس میں کوئی شک نہیں کہ متذکرہ تینوں حلقوں میں نون لیگ کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ پی ٹی آئی کے مورال کو کافی بلند کرنے کا باعث بنی ہے لیکن اگر یہ جنگ اخلاقی قدر وں اور بے اصولی کے درمیان ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ فیصلہ کن فتح ابھی بہت دور ہے۔
جس دشمن کا بنیادی ہتھیار بے اصولی ہو اس سے جنگ جیتنا آسان نہیں سمجھنا چاہئے۔ ایسا دشمن ہر پسپائی کے بعد اپنے ” ہتھیار “ کو استعمال کرنے کا کوئی نیا طریقہ سوچتا ہے۔
نون لیگ کے کمپ پر کیا ذہنی کیفیت طاری ہے اس کا اندازہ اس کے صرف دوسرے یا تیسرے درجے کے لیڈروں کی ” خوش بیانیوں “ سے نہیں لگایا جانا چاہئے۔ اس کی سوچ کی ترجمانی کرنے والے ” زر خیز ذہن“ بھی فکری کم مائیگی اور بے اصولی میں پیچھے نہیں رہتے۔ میں یہاں بات جناب عرفان صدیقی کی کررہا ہوں جو جناب پرویز رشید کی قلم کار ٹیم کے ایک رکن ہونے کے مقام سے ترقی کرتے کرتے میاں نوازشریف کی کچن کیبنٹ کے ایک اہم رکن جابنے ہیں۔ کامران خان اپنے پروگرام میں گزشتہ شب ان سے کہہ رہے تھے۔ ” کیا یہ حقیقت نہیں کہ عمران خان روز اول سے چار حلقوں کو کھول کر دیکھنے کی جو بات کررہے تھے اس میں اب بڑا وزن پیدا ہو چکا ہے۔؟ تین حلقوں میں عمران خان سرخرو ہوگئے ہیں اور چوتھے کے بارے میں بھی وہ پرُ اعتماد نظر آتے ہیں۔!“
عرفان صدیقی نے خالصتاً طلال چوہدری کے انداز میں جواب دیا۔ ”342کے ہاﺅس میں دو تین نشستوں سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ جوڈیشل کمیشن کہہ چکا ہے کہ سب ٹھیک تھا اور سب ٹھیک ہے۔“ کامران خان کہنا تو کچھ اور چاہتے تھے مگر ” بہت بہت شکریہ “ کہہ کر رہ گئے۔ اور میں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ جب کوئی ” معتبر “ نظر آنے والا شخص بھی آسودگی اور مقام کے حصول کی خواہش میں اپنا ضمیر بیچ دیتا ہے تو وہ کس قدر قابلِ رحم بن جاتا ہے۔
بہرحال میں بات یہ کررہا تھا کہ پی ٹی آئی اگر یہ جنگ واقعی جیتنا چاہتی ہے تو اسے نون لیگ کی ہر منصوبہ بندی کو پیشگی طور پر سمجھ کر جوابی منصوبہ بندی تیار کرنی ہوگی۔
اگر نوبت ضمنی انتخابات کی آتی ہے تو نون لیگ اپنے تمام وسائل ان تین حلقوں کو جیتنے کے لئے جھونک دے گی۔ اور نون لیگ کے وسائل میں سب سے موثر وسیلہ ” بے اصولی “ ہے۔۔۔

Scroll To Top