ہر نئی تعمیر را تخریب ہے لازم تمام 26-08-2015

قومی اسمبلی کے حلقہ 122کے حوالے سے عمران خان کو جو شاندار اخلاقی فتح الیکشن ٹریبونل کے جامع فیصلے سے ہوئی ہے وہ ہر لحاظ سے دل خوش کن حوصلے بلند کرنے والی اور قابلِ مبارکباد ہے۔ مبارکباد میں نے بھی عمران خان کو دی۔
اس ضمن میں جو پیغامات میں نے انہیں بھیجے وہ کچھ یوں تھے۔
” آپ کی خوشی میں میں اپنے آپ کو پوری طرح شریک سمجھتا ہوں۔ ہم سب کو اس زبردست اخلاقی فتح کی ضرورت تھی۔“
” آپ نے الیکشن کمیشن کے قائم رہنے کے اخلاقی جواز اور حق کو چیلنج کرکے بڑا بروقت اقدام کیاہے۔ مگر میں اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اب زبردست عوامی مقبولیت کی ایک اور بپھری ہوئی موج پر سوار ہونے کے لئے آپ کو واضح اور مربوط اصلاحات کے ایک ایسے ایجنڈے کی ضرورت ہے جو اس نئے پاکستان کے تصور کو ایک عملی شکل دے سکے جس کے قیام کے لئے آپ جدوجہد کررہے ہیں اور جس کا واضح خاکہ ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آیا۔“
” یہ کہنا تو ایک روایت بن چکی ہے کہ موجودہ نظام نہیں چلے گا مگر کوئی قوم کو یہ نہیں بتا رہا کہ جو نظام مطلوب ہے اس کے خدوخال کیا ہوں گے۔“
” کوئی بھی ایک خیال۔۔۔ کوئی بھی ایک آئیڈیا قوم کی تقدیر تبدیل کردیاکرتا ہے۔ دو قومی نظریہ بھی ایک آئیڈیا ہی تھا۔ ہٹلر بھی ایک آئیڈیا لے کر اٹھا تھا ۔ ماﺅ کے پاس بھی ایک آئیڈیا ہی تھا۔“
” میں سمجھتا ہوں کہ ایک نئی عمارت صرف اس طرح تعمیر کی جاسکتی ہے کہ پرانی عمارت گرا کر نئی بنیادوں پر اسے کھڑا کیا جائے۔۔۔“
” میری کوشش ہوگی کہ جو کچھ میرے بس میں ہے وہ میں ضرور کروں۔ میں نے ایسی کسی دوڑ کا حصہ بننا کبھی پسند نہیں کیا جس کی منزل میری اپنی نہ ہو۔ لیکن میری وفاداریاں آپ کے ساتھ ہمیشہ رہیں گی۔ لیکن ان وفاداریوں کا اظہار میں معروف روایتی انداز میں کبھی نہیں کروں گا۔ میرے ذہن میں ایک واضح لائحہ عمل ہے جس پر عملدرآمد میں بہت جلد کرنا شروع کردوں گا۔۔۔“
” تھینک یو اکبر صاحب۔۔۔ میں نے ہمیشہ آپ کے خیالات کی قدر کی ہے۔۔۔“ عمران خان کا جواب تھا۔
یہاں میںاپنے قارئین کو یہ بتانا چاہتاہوں کہ One Nation Movementیعنی ” ایک قوم تحریک “ جسے میں بہت جلد سامنے لانے کا ارادہ رکھتاہوں ` اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ہر نئی تعمیر راتخریب ہے لازم تمام

Scroll To Top