یہ نظام ایک ٹائم بم ہی ہے ! (حصہ اول)

جب ژاں جیکس روُسو نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف نیو سوشل کنٹریکٹ یعنی نیا عمرانی معاہدہ کو قلمبند کیا تھا تو فرانس کے اس عظیم سیاسی و عمرانی فلسفی کے ذہن میں اپنے ملک کے ہی حالات ہوں گے۔ یا پھر وہ یورپ کے دیگر ممالک یعنی جرمنی ¾ ہالینڈ ¾ بلجیم ¾ سپین ¾ برطانیہ اور پرتگال وغیرہ کے بارے میں ہی سوچ رہے ہوں گے جن کی قومی شناخت ” یک لسانی “ یا ” یک نسلی “ بنیاد پر ہوتی تھی اور ہوتی ہے۔ نیو سوشل کنٹریکٹ کی تصنیف اٹھارہویں صدی کی آخری چوتھائی میں ہوئی تھی اور یہ جدید دنیا کی تاریخ کا بڑا ہی ” تلاطم خیز “ دور تھا۔ ایک طرف اس دور میں فرانسیسی انقلاب برپا ہوا جس کے بعد نیپولین کے ظہور عروج اور زوال کا زمانہ آیااور دوسری طرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے برطانوی نو آبادیاتی نظام کو پہلی کاری ضرب لگا کر ایک آزادجمہوری مملکت کے طور پر تاریخ کی شاہراہ پر اپناسفر شروع کیا۔
روُسو کا زمانہ نوآبادیاتی نظام کے عروج کا زمانہ تھا۔ یورپ کے تقریبا ً تمام ہی ممالک باقی دنیا کے وسائل پرقابض ہونے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ بنیادی طور پر یہ دور بادشاہوں کی مطلق العنانی کادور تھا ¾ اور ایسے دور میں ”کاروبارِ مملکت ” کے اندر جمہور یعنی عوام کی شرکت کا ذکر اس انداز میں کرنا جس انداز میں ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ میں روُسو نے کیا ایک ایسے ذہن کی نشاندہی کرتا تھا جو صدیوں کے فاصلے تک اپنی فکری نگاہیں پہنچانے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔روُسو نے عوام کی پارلیمنٹ کے تصور کو غیر حقیقی اور پرُ فریب قرار دیتے ہوئے بڑے جامع انداز میں مقامی حکومتوں کی وہ تاریخی ڈاکٹرائن پیش کی جو آج دنیا کی تمام حقیقی جمہوریتیں یا تو بھرپور انداز میں اپنا چکی ہیں یا اپنانے کے عمل میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
روُسو نے ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ میں لکھا کہ اقتدار میں عوام کی شرکت صرف مقامی حکومتوں کی سطح پر ممکن اور موثر ہوسکتی ہے۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے۔ عوام کو اگر اپنے محلے ¾ اپنے قصبے ¾ اپنے شہر یا اپنے ضلع کے معاملات طے کرنے کا موثر اختیار حاصل ہو تو انہیں دارالحکومت کی طرف پرُ امید نظروں سے دیکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ اسے میں شراکتی جمہوریت کا نام دوں گا۔ جس میں عوام ووٹ دینے کے مرحلے سے لے کر فیصلہ سازی کے مرحلے تک براہ راست حصہ لے سکتے ہیں۔ جہاں تک بالواسطہ جمہوریت کا تعلق ہے یعنی وہ جمہوریت جس میں عوام چار پانچ سال کے بعد اپنے ووٹوں کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں اس میں عوام کا حقیقی اختیار صرف ایک دن تک محدود ہوتاہے ¾ یعنی وہ دن جب وہ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلتے ہیں۔ ایک دفعہ ان کا ووٹ پڑ جاتا ہے تو پھر دوبارہ با اختیار ہونے کے احساس سے سرشار ہونے کے لئے انہیں چار پانچ سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔“
روُسو نے جو بات سوا دو سو برس قبل لکھی تھی وہ آج بھی بہت بڑا سچ سمجھی جاسکتی ہے۔ نام نہاد عوامی نمائندے جو درحقیقت علاقے کے امراءہوا کرتے ہیں صرف انتخابی مہم کے زمانے میں اپنے ووٹروں کو یاد کرتے ہیں۔ ورنہ باقی ساری مدت وہ اقتدار کے مزے لوٹنے یا اقتدار پر قابض لوگوں کی حاشیہ برداری کی ” برکات “ سے فیضیاب ہونے میں گزار دیتے ہیں۔
میں نے اس موضوع کا انتخاب بلدیاتی نظام یا مقامی حکومتوں کے سسٹم کے ” فیوض“ پر روشنی ڈالنے کے لئے نہیں کیا۔ میرا مقصد یہاں صرف اِس حقیقت کی نشاندہی کرنا ہے کہ ہم نے پاکستان کے لئے جس ” نظام“ کو جمہوریت کے نام پر اختیار کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ حقیقی جمہوریت کی بڑی ہی پرُ فریب نفی ہے ¾ بلکہ یہ بھی کہ اسے پاکستان کی بنیادوں میں چھُپا کر رکھا گیا ایسا ٹائم بم قراردیا جاسکتا ہے جو آنے والے ادوار میں کسی بھی وقت کسی بھی حادثے کے نتیجے میں پھٹ سکتاہے ۔ اگر ہمارا حافظہ جواب نہیں دے چکا تو ہمیں یہ بات یاد آجانی چاہئے اور یاد رکھنی چاہئے کہ تقریباً اکتالیس برس قبل اسی انداز کا ایک ٹائم بم پھٹا بھی تھا جس کے نتیجے میں ہمیں 14اگست 1947ءکو قائم ہونے والے پاکستان کی سرحدیں بڑے ڈرامائی اور کرب انگیز انداز میں سمیٹنی پڑی تھیں۔
میں نے آغاز میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ لکھتے وقت ژاں جیکس روُسو کے ذہن میں یا تو اپناملک یعنی فرانس ہوگا یا پھر آس پاس کے دوسرے یورپی ممالک جنکی قومی شناخت صرف زبان یا نسل کی یگانگت کی بنیاد پر ہوتی تھی )اور ہے(۔ یعنی کوئی بھی ملک ایسا نہیں تھا جس کی 2 یا 3 یا چار پارلیمینٹیں تھیں۔
)جاری ہے(

Scroll To Top