دنیا کشمیریوں سے نظریں موڑ سکتی ہے لیکن پاکستان نہیں، شاہ محمود قریشی

  • مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے، کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، مظلوم قوم کے دکھ اور قرب کا احساس ہے، تنازعے کا دنیا کے افق پر نظر آنا حکومتی کامیابی ہے
  • چین کے ذریعے ہم نے سلامتی کونسل تک رسائی حاصل کی، جنیوا میں کسی نے بھی بھارتی موقف کو تسلیم نہیں کیا، وزیر خارجہ

اسلام آباد(صباح نیوز) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ نظریں موڑ سکتی ہے لیکن پاکستان نہیں، مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے،ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کشمیرپرکوئی سودے بازی نہیں ہوگی، وزیراعظم جنرل اسمبلی میں مظلوموں کا مقدمہ پیش کریں گے، جنیوا میں کسی نے بھی بھارتی موقف کو تسلیم نہیں کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیرپرقوم کل بھی ایک تھی آج بھی ایک ہے، اس مسئلے پر قومی یکجہتی بہت ضروری ہے، کشمیریوں کے خاندان کٹے ہوئے ہیں، یہ بات درست ہے یہ مسئلہ زمین کے ٹکڑے کا نہیں ہے، بطور وزیرخارجہ پاکستان کہتا ہوں کہ کشمیرکے پیچھے کھڑے ہیں، دنیا نظریں موڑسکتی ہے لیکن پاکستان کشمیرسے نظریں نہیں موڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ہے، کشمیر ایشو کسی زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہیں ہے، 5اگست کے اقدامات نے ہماری تشویش میں اضافہ کیا، مقبوضہ کشمیر میں 45 روز سے ذرائع ابلاغ معطل ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر کے جذبات کا احساس ہے، ان کی آنکھیں نم تھیں ان کا درد سمجھتا ہوں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کشمیری قوم کے دکھ اور قرب کا احساس ہے، مسئلہ کشمیر دنیا کے افق پر نظر آنا حکومتی کامیابی ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ 27 ستمبرکووزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیرکا مقدمہ پیش کرنے جا رہے ہیں، وزیراعظم کی تقریرپر پچھلے کچھ دنوں سے ان کے ساتھ کام کر رہا ہوں، مجھے پتا ہے وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کیا کہیں گے، 54سال بعد سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر آیا ہے، کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، عالمی تنازع ہے، بھارت نے فرانس کو20بلین ڈالر کی ڈیل آفرکی، روس نے بھی اپنے رویے میں لچک دکھائی ہے جبکہ چین کے ذریعے ہم نے سلامتی کونسل تک رسائی حاصل کی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکرٹری جنرل یواین کا بیان ان کے سوچ کی عکاسی کرتا ہے، انسانی کا حقوق کا سب سے بڑا فورم یواین ہیومن رائٹس کا ہے، جنیوا میں کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھارت کے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپ کے 28ممالک نے مسئلہ کشمیرپرخود کوپاکستان کیساتھ جوڑدیا، جنیوا میں58 ممالک نے پاکستان کے موقف کی تائید جبکہ بھارتی موقف کو مسترد کردیا، اوآئی سی کی نوعیت میں کچھ تبدیلی ہے اوررکن ممالک میں اختلاف ہے، اوآئی سی کا متفقہ اعلامیہ ہے کشمیرسے کرفیو ہٹایا جائے، جس کا کوئی ذاتی مفاد نہیں وہ قومی مفادات کا سودا نہیں کرے گا، ڈنکے کی چوٹ پرکہتا ہوں کشمیرپرکوئی سودے بازی نہیں ہوگی تاہم ایک جنبش میں ہدف حاصل نہیں کرسکتے۔، مسئلہ فلسطین نے او آئی سی کوجنم دیا، او آئی سی ممالک میں کچھ خلیج دکھائی دے رہی ہے، آج او آئی سی کے رویے میں تبدیلی آئی ہے، پاکستان کے موقف میں کوئی لچک نہیں۔

Scroll To Top