صدر اشرف غنی کی ریلی پر 2 خودکش حملے ، 48 افراد جاں بحق

  • طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی
  • پہلا حملہ کابل کے شمال میں واقع پروان صوبے میں افغان صدر کی انتخابی ریلی پر کیا گیا جہاں اشرف غنی نے خطاب کرنا تھا، دوسرا خودکش حملہ امریکی سفارتخانے کے نزدیک کیا گیا
  • رواں ماہ امریکی صدر نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ’مردہ‘ قرار دیا تھا جبکہ طالبان نے افغان حکومت کےساتھ مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں خلل ڈالنے کا اعلان کیا

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) کابل کے قریب صوبہ پروان میں ہونے والی انتخابی ریلی سے صدر اشرف غنی نے بھی خطاب کرنا تھاافغانستان میں الیکشن ریلی میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔یہ ریلی کابل کے شمال میں واقع پروان صوبے میں ہو رہی تھی اور اس سے صدر اشرف غنی نے بھی خطاب کرنا تھا۔کابل میں امریکی سفارتخانے کے نزدیک ایک اور دھماکہ بھی ہوا ہے جس میں کم از کم 22 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔طالبان نے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان متواتر بم دھماکے بھی کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امن مذاکرات میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ کے آغاز میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ’مردہ‘ قرار دیا تھا۔طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تھا اور عہد کیا تھا کہ وہ ملک میں 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں خلل ڈالیں گے۔صوبہ پروان کے دارالحکومت چاریکار میں ہونے والی الیکشن ریلی میں ہونے والے خود کش بم دھماکے میں کم از کم 42 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔طبی عملے کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ موٹر سائیکل پر سوار ایک خود کش بمبار نے ریلی کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر اپنے آپ کو اڑا دیا۔افغان صدر اشرف غنی جو دوسری مرتبہ پانچ سال کے لیے منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں دھماکے میں محفوظ رہے۔ایک اور خود کش بمبار نے دارالحکومت کابل کے مسعود سکوائر کو مقامی وقت 13:00 کے قریب نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 38 کےقریب زخمی ہوئے۔ دھماکے کے مقام کے نزدیک ہی سرکاری عمارتیں اور نیٹو کے کمپاو¿نڈ ہیں۔

Scroll To Top