پاکستان کے سات بڑے لےڈر بڑائی تک کےسے پہنچے؟ 21-08-2015

ےہ کوئی تقابلی جائزہ نہےں جو مےں پےش کر رہا ہوں مگر آپ چاہےں تو اسے تقابلی جائزہ بھی سمجھ سکتے ہےں ۔ وےسے ےہ چند اےسے حقائق ہےں جن کی تردےد صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو حقائق نہےں جانتا۔
پاکستان کے مقدر مےں لےاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو بڑے لےڈر ابھرے ہےں ان مےں تےن کا تعلق فوج سے ہے اور چار کا سول سوسائٹی سے۔
فوج سے ابھرنے والے تےن لےڈر فےلڈ مارشل اےوب خان، جنرل ضےا الحق اور جنرل پروےز مشرف ہےں۔ انہوں نے اجتماعی طور پر تےن دہائےوں تک حکومت کی اور ےہ بتانا ضروری نہےں کہ وہ اقتدار اور قےادت کے منصب پر صرف اس لئے فائز ہوئے کہ وہ انفرادی ترقی کا سفر کرتے کرتے پاک فون کی سپہ سالاری کے اعزاز تک جا پہنچے تھے جو بلاشبہ ہمارے پاورسٹرکچر مےں سب سے اہم اور کلےدی عہدہ ہے۔
ان تےنوں کے مداح بھی ہےں اور مخالف بھی ۔ مگر تارےخ ان کا مقام ان کی کارکردگی کی روشنی مےں متعےن کرے گی اس بات کی بنا پر نہےں کہ وہ ”جمہوری“ ےا ”غےر جمہوری“ طرےقے سے اقتدار مےں آئے ۔ مثال کے طور پر تربےلا ڈےم ، منگلا ڈےم اور اسلام آباد کےپٹل سٹی کی اہمےت اس لئے کم نہےں ہوجاتی کہ ےہ اےک غےر جمہوری ، حکمران کے دور مےں تعمےر ہوئے۔ مےری رائے مےں افغان جہاد جیتنا بھی اےک عظےم کارنامہ تھااور بھٹو کے اےٹمی طاقت بننے کے خواب کو تعبےر کی منزل تک پہنچانا بھی۔ اور اس سلسلے مےں جو نام سامنے آتا ہے وہ جنرل ضےاالحق کا ہے جن کے مخالفےن خواہ کتنا ہی زور ےہ ثابت کرنے کے لئے لگائےں کہ وہ غاصب اور قاتل تھے اور انہوں نے شرعی قوانےن نافذ کرنے کی کوشش کر کے سوسائٹی پر بڑا ظلم کےا لےکن تارےخ کی نظروں مےں وہ ”پی پی پی “ کے پروپےگنڈے سے ہٹ کر مقام حاصل کرےں گے ۔
جنرل پروےز مشرف ابھی بقےد حےات ہےں اور ان کے کھاتے مےں بہت کچھ اےسا ہے جو اچھا ہے اور بہت کچھ اےسا ہے جو بُرا ہے۔بہتر ہوگا کہ ان کے حقےقی مقام کے تعےن کا کام ہم آئندہ کے مورخےن پر چھوڑےںدیں۔
سول لےڈروں مےں سب سے پہلا نام ذوالفقار علی بھٹو کا آتا ہے۔ وہ لےڈر کس راستے پر چل کر بنے اس کا اندازہ لگانے کے لئے بہت سارے حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔سب سے پہلے مےں اُن کے اس خط کا ذکر کروں گا جو انہوں نے 30اپرےل1958کو ےورپ سے اپنے محسن اور مربی صدر اسکندر مرزا کو لکھا۔ اس خط کے ےہ الفاظ آپ کے وجود مےں درد کی لہر دوڑائے بغےر نہےں رہےں گے ۔ ©©
”آپ اسے خوشامدمت سمجھئے گا مےں دل کی گہرائےوں سے سمجھتا ہوں کہ آپ کا مقام محمد علی جناح سے کہےں بڑا ہے۔“
مےجر جنرل (ر) سکندر مرزا تارےخ کا حصہ بن گئے تو زےڈ اے بھٹو صدر اےوب خان کی حکومت کے روح رواں بنے ۔ محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم کے دوران بھٹو کنونشن مسلم لےگ کے سےکرٹری جنرل اور فےلڈ مارشل اےوب خان کے دست راست تھے۔ انہوں نے اپنا راستہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد تبدےل کےا۔
اس بات کا مطلب ےہ نہےں کہ بھٹو اےک عظےم لےڈر نہےں تھے۔ ان کے دو بڑے کارنامے آج بھی مےرے نظروں مےں انہےں اےک بڑا مقام دےتے ہےں۔ اےک ” اسلامک سمٹ“ کا انعقاد اور دوسرا پاکستان کو اےٹمی طاقت بنانے کے پروگرام کی بنےاد رکھنا۔ ان کے باقی سارے ”کارنامے “ متنازعہ حےثےت رکھتے ہےں ۔
دوسری بڑی سول قےادت محترمہ بے نظےر بھٹو کی صورت مےں سامنے آئی جن کا قےادت کے منصب تک پہنچنا ان کی اپنی صلاحےتوں کے ساتھ ساتھ اس حقےقت کا مرہون منت بھی تھا کہ وہ بھٹو کی بےٹی تھیں۔
تےسری بڑی سول قےادت مےاں نواز شرےف کی صورت مےں سامنے آئی۔ جنہےں جنرل ضےا الحق نے پی پی پی کا مقابلہ کرنے اور بے نظےر بھٹو کے ممکنہ ظہور کو روکنے کے لئے منتخب کےا۔ جنرل ضےا الحق کی ناگہانی موت کے بعد آئی اےس آئی مےاں نواز شرےف کو اےک بڑا لےڈر بنانے کے لئے مےدان مےں کود پڑی ۔اس سے زےادہ مےں ےہاں کچھ نہےں کہوں گا۔
چوتھی بڑی سول قےادت عمران خان نے مہےا کی ہے۔ اس قےادت کی بنےاد عمران خان نے اُس مقبولےت پر رکھی جو انہےں اےک عظےم کرکٹر اور قومی ہےرو ہونے کی بنا پر حاصل ہوئی۔ اپنے آپ کو موجودہ مقام تک پہنچانے کے لئے عمران خان کو جتنی طوےل جدوجہد کرنی پڑی ہے اور جتنی ناکامےوں کے پُل پر سے گزارنا پڑا ہے وہ کوئی راز کی بات نہےں ۔
مندرجہ بالا سات لےڈروں مےں سے صرف عمران خان کو ہنوز اسلام آباد مےں اقتدار نہےں ملا۔ تارےخ مےں ان کا مقام تب ہی طے ہوگا جب وہ اختےار اور اقتدار حاصل کرنے مےں کامےاب ہوں گے ۔ گوےا اس سوال کا جواب مستقبل ہی دے سکے گا۔

Scroll To Top