ایک ہی راستہ 24-09-2008

یہ جو بحث چلی ہوئی ہے کہ یہ جنگ صرف امریکہ کی ہے یا ہماری بھی ہے اس سے ہٹ کر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم مملکت خداداد پاکستان کو فاٹا اور خیبر سے لے کر کراچی تک ایک ایسی جنگ کا میدان بناڈالنے میں حق بجانب ہوںگے جس کی طوالت کا تعین کرنا ہمارے بس میں نہیں، جس میں گولی کھانے والا بھی کلمہ گو ہوگا اور گولی مارنے والابھی کلمہ گو، اور جس کا اور کوئی نتیجہ ہماری نظروں کے سامنے ہو نہ ہو، یہ نتیجہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو ایشیا کا صومالیہ بننے میںزیادہ دیر نہیں لگے گی۔
اس قسم کے بیانات دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ ہم عالمی برادری کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں گے، مگر ان بیانات کو بین الاقوامی سفارتکاری کے تقاضوں سے زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہئے۔
اہمیت ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے میں ہے کہ ”کیا دوسرے کسی بھی ملک کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میںشرکت کی اتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے جتنی بھاری قیمت پاکستان ادا کر چکا ہے اور آگے چل کر ادا کرے گا؟ کیا جس قسم کے تباہ کن ہتھیاروںتک رسائی آج کے دور میں ہر فریق کو حاصل ہے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پاکستان میں ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کو دعوت دینے اوراسے گوریلا کارروائیوں کا میدان بنا ڈالنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟“
وہ جنہیں ہم دہشت گردکہتے ہیں وہ ممکنہ طورپر تین گروپوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔
ایسے تو یقیناً بے شمار ہوں گے جو اس علاقے میں امریکی جارحیت کے ہلاکت خیز نتائج کانشانہ بنے ہیں اور جن کے اندر انتقام اور قومی حمیت کی آگ بھڑک رہی ہے۔
ایسے بھی یقیناً ہوں گے جنہیں پاکستان کے دشمنوں نے اس صورتحال سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے آگ اور خون کے کھیل کے ذریعے اس اسلامی مملکت کو عدم استحکام اور معاشی تباہی کاشکار بنانے کے مشن پر بھیجا ہے۔
اور یقینی طورپر کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اس موقع کو اپنے انداز کے اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے اور اپنے مخصوص مذہبی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے مناسب ترین سمجھتے ہوں گے۔
ان تینوں کے ساتھ نمٹنے کے لئے ہمیں ایک طرف تو الگ الگ حکمت عملی اور دوسری طرف ایک مربوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ سے باہر نکل جائیں جو امریکہ نے ”اسلام“ کو دیوار کے ساتھ لگانے اور لگائے رکھنے کے لئے دنیا پر مسلط کررکھی ہے۔
اگر ہم نے فوری طورپر ایسا نہ کیا تو ہمارے دشمن ہمیں بہت جلد ایشیا کا صومالیہ بنا ڈالیں گے۔

Scroll To Top